’طالبان سے مذاکرات اسلام آباد کا اندرونی معاملہ ہے‘

Image caption پاکستان نے سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا

پاکستان کی طرف سے شدید تنقید کے بعد کہ طالبان کے سربراہ کو ہلاک کرنے والا ڈرون حملہ امن کو سبوتاز کرنے کی سازش ہے، امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات اسلام آباد کا اندرونی معاملہ ہے۔

اس سے پہلے پاکستان نے سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔

پاکستان نے کہا تھا کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی کو روکے گی۔

عمران خان نے کہا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت کی حکومت ختم بھی ہو جاتی ہے تب بھی وہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی کو روکیں گے۔

دوسری جانب تحریک طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال کسی طالبان کمانڈر کو بھی تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا اورتمام ’ذمہ داروں‘ سے رائے طلب کئی گئی ہے۔

’امریکہ نے شب خون مارا ہے‘

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ترجمان کے مطابق وہ ابھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ترجمان کے مطابق حکیم اللہ محسود شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ ہیں اور اس تنظیم نے مئی سنہ دو ہزار دس میں نیویارک میں ناکام بم حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ تنظیم کے سربراہ اور دوسری رہنماوں نے کھلے عام امریکہ اور امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق تشدد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکہ اور پاکستان ایک اہم مشترکہ سٹریٹیجک مفاد کو جاری رکھیں گے۔

پاکستان نے سنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفیر کو طلب کر کے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرنے والے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔

پاکستان کے بقول حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

اس سے پہلے پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنیچر کو حکومت پاکستان کے حمایت یافتہ ایک وفد نے شمالی وزیرستان میں طالبان سےملاقات کرنی تھی۔

انھوں نے واضح کیا کہ طالبان سے ملنے کے لیے جانے والا وفد حکومتی اہلکار پر مشتمل نہیں تھا لیکن اسے پاکستان حکومت کی حمایت حاصل تھی۔

وزیرِ داخلہ نے کہا اس وفد میں تین علما شامل تھے۔ اس ملاقات میں مذاکرات کے ایجنڈے سے متعلق بات چیت ہونی تھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کے عمل کو دھچکا ’وقتی‘ ہو گا۔

چوھدری نثار نے امریکی ارادوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنانا تھا تو اس نے اس پہلے اتنے مواقع کیوں ضائع کیے۔ انھوں نے کہا حکیم اللہ محسود کئی بار افغانستان گئے اور اگر امریکہ چاہتا تو باآسانی انہیں نشانہ بنا سکتا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حالیہ ڈرون حملے بات چیت کے عمل پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکی سفیر کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی سفیر پر واضح کیا تھا کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کی موجودہ حکومت کے موقف کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

وزیر داخلہ نےانکشاف کیا کہ امریکی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکیم اللہ محسود کو نشانہ نہ بنانے کی تجویز پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ حکیم اللہ محسود کے علاوہ اور کسی ایسے طالبان رہنما کو نشانہ نہیں بنائیں گے جو پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل نہیں گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ پاکستان نے امریکی شرط کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ مشکل کی کھڑی ہے اور اسے اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنی ہے اور یہ بھی جاننا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے۔

نیٹو سپلائی کو روکیں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملے میں طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود کو ہلاک کر کے پاکستان میں قیام امن کے لیے ہونے والے مجوزہ مذاکرات کو سبوتاژ کیا ہے اور ان کی جماعت پاکستان کے راستے نیٹو افواج کی سپلائی کو نہیں گزرنے دی گی۔

عمران خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا سے نیٹو افواج کی سپلائی کو روکے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت پیر کو قومی اسمبلی، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی کو روکنے کی قراردادیں پیش کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت کی حکومت ختم بھی ہو جاتی ہے تب بھی وہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی کو روکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس وقت تک پاکستان کے راستے نیٹو افواج کو سپلائی کی اجازت نہیں دے گی جب تک امریکہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنے کی یقین دھانی نہیں کراتا۔

ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے نیٹو سپلائی کو بند کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی نیٹو سپلائی بند کی گئی تھی لیکن ڈرون حملے بند نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے نیٹو سپلائی روٹ کو بند کرنے سے ڈرون حملوں کے رکنے کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔

طالبان سربراہ کا تقرر نہیں ہوا

Image caption امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں اطلاع دینے پر پچاس کروڑ روپے انعام رکھا ہوا تھا

تحریک طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تاحال کسی طالبان کمانڈر کو بھی تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا ہے اورتمام ’ذمہ داروں‘ سے رائے طلب کئی گئی ہے۔ نئے طالبان سربراہ کی تقرری میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اعظم طارق نے نامعلوم مقام سے خبر رساں اداروں سے بات کرتے ہوئے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹر اور اے پی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اعظم طارق نے کہا ہے کہ طالبان اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ نئے سربراہ کی تقریری کے لیے مشاورت جاری ہے اوراس کے باقاعدہ اعلان میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان کے سربراہ کے تقرر کا اعلان اتوار کو ہو سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے خبر دی ہے کہ سوات طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور خان سید المعروف سجنا اور عمر خالد خوراسانی میں سے کسی ایک کو تحریک طالبان کا سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ اس سال مئی میں تحریک کے نائب ولی الرحمان کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان خان سید عرف کمانڈر سجنا کو نائب مقرر کیا گیا ہے۔

ان کے بارے میں خیال ہے کہ حکیم اللہ کے مقابلے میں وہ قدرے سنجیدہ شخص ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں ایسی بھی اطلاعات تھیں کہ حکیم اللہ اپنے قریب ترین ساتھی لطیف محسود کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتے تھے۔ لطیف محسود کو کچھ ہفتے پہلے اس وقت امریکی سپیشل فورسز نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز سے چھین لیا تھا جب انہیں خفیہ مذاکرات کے کابل لے جایا جا رہا تھا۔

اسی طرح باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی فقیر بھی افغانستان میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

کالعدم تحریک کے دیگر سرکردہ ناموں میں سوات میں طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کا بھی ہے۔ ملا فضل اللہ سوات میں فوجی آپریشن کے دوران وہاں سے فرار ہو کر افغانستان پہنچ گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت شمالی افغانستان میں کنڑ کے علاقوں میں روپوش ہیں۔ لیکن اگر انہیں چنا جاتا ہے تو ماہرین کے مطابق وہ حکیم اللہ سے بھی زیادہ خطرناک رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکیم اللہ محسود کون تھے؟

Image caption 2007 میں پاکستان فوج کے خلاف حملوں کی وجہ سے ایک بےرحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔

پاکستانی طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود پہلی مرتبہ 2007 میں پاکستان فوج کے خلاف حملوں کی وجہ سے ایک بے رحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔

اس وقت تک وہ طالبان کے کئی کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کو ہلاک کیا۔

2009 میں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے۔

امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قمیت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ پاکستان نے بھی حکیم اللہ کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔

کئی مرتبہ حکیم اللہ محسود کے مرنے کی خبر آئی لیکن ایسی تمام رپورٹیں غلط ثابت ہوئیں۔ حال ہی ان کے نائب ولی الرحمن بھی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی نیوز کے احمد ولی مجیب جب حکیم اللہ محسود قبائلی علاقوں میں ملے تو انہیں بہت صحت مند اور پرسکون پایا۔

احمد ولی مجیب کا کہنا ہے کہ ان کی حکیم اللہ محسود سے ملاقات کے وقت ڈرون طیارے ان کے سروں پر پرواز کر رہے تھے۔ ایک دفعہ تو ایک ڈرون بہت نیچے آ گیا جس سے وہ انتہائی خوفزدہ ہوگیا لیکن حکیم اللہ محسود پر سکون رہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کےامیر حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور ان کی عمر چھتیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

Image caption قبائلی علاقوں میں بی بی سی نیوز کے ساتھ اپنے آخری انٹرویو میں حکیم اللہ محسود بہت صحت مند اور پرسکون تھے۔

حکیم اللہ محسود کے علاوہ وہ ذوالفقار محسود کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ تاہم قبائلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام جمشید ہے۔ حکیم اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کےگاؤں کوٹکی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ محسود قبیلے کے ذیلی شاخ آشینگی سے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ البتہ انہوں نے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے ایک گاؤں شاہو میں ایک مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جہاں وہ بیت اللہ محسود کہ ہمراہ پڑھے تھے۔ تاہم دینی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی دونوں طالبان کمانڈروں نے مدرسہ چھوڑ دیا تھا۔

حکومت کے خلاف جب کوئی بڑا واقع ہوا ہے تو اس میں طالبان کی قیادت حکیم اللہ ہی کرتے رہے ہیں۔

سن دوہزار چار میں جب بیت اللہ محسود منظر عام آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان میں جنگی کمانڈر کےطور پر زیادہ جانے جاتے تھے۔

تحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جب کہ کرم ایجنسی میں شعیہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے۔

انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی انہوں نے دو ہزار نو میں اورکزئی ایجنسی کے ماموں زئی قبیلے میں کی۔

وہ ذرائع ابلاغ کو تصویروں اور فلموں کے ساتھ انٹرویو دینے کے شوقین بتائے جاتے ہیں جب کہ بیت اللہ میڈیا میں اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے۔

حکیم اللہ محسود کا آخری انٹرویو

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں