’گمراہ عناصر کے خلاف بے دریغ طاقت کا استعمال دانشمندی نہیں‘

Image caption نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت شدت پسندی کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہے لیکن یہ راتوں رات ممکن نہیں ہے

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نےشدت پسندوں کو ’معاشرے کےگمراہ اور ذہنی خلفشار کا شکار‘ افراد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیےسیاسی جماعتوں، فوج اور سول سوسائٹی کو یکجا ہو کر اس ’آفت‘ سے نمٹنا ہو گا۔

جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے قریب فوجی مشقوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، فوج اور سول سوسائٹی ایک ہی صفحے پر یکجا ہوں تاکہ شدت پسندی کی آفت سے نمٹنے کے لیے ضروری سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں خوں ریزی اور تشدد کے سلسلے کو انجام تک پہنچانے کے اپنے پختہ عزم پر قائم ہے مگر یہ راتوں رات ممکن نہیں۔

شدت پسندی کے مسئلے پر حکومت کی طرف سے بلائی جانے والی کل جماعتی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد اور ہم آہنگی کے غیرمعمولی اظہار کی صورت میں کل جماعتی کانفرنس نے امن کو موقع دینے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں، مسلح افواج، انتظامیہ، عدلیہ، پارلیمینٹ اور میڈیا سمیت تمام فریقوں کے درمیان اتحاد ان مشکل حالات کا بہت بڑا تقاضہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مزید قتل و غارت گری نہیں چاہتا، ہم پہلے ہی بہت خونریزی دیکھ چکے ہیں اور ہمارے فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کرکے اس کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ صرف طاقت کے بے دریغ استعمال سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے ہلاکت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ڈرون حملے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نےالبتہ بات چیت کے ذریعے امن کی بحالی کی اپنی خواہش کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں خوں ریزی اور تشدد کا خاتمہ چاہتی ہے لیکن یہ راتوں رات ممکن نہیں ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ اپنے شہریوں کے خلاف طاقت کہ بہمیانہ استعمال دانشمندی نہیں ہوگا۔

نواز شریف حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پہلی بار کابینہ کی سکیورٹی کمیٹی کی اجلاس پیر کے روز ہو رہا ہے۔

حکیم اللہ کے ڈرون حملے میں ہلاکت کے پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے گا۔

اسی بارے میں