ہمارے اصلی جنرل

Image caption حکیم اللہ کے ماتم کنندگان قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں

کچھ اصلی، کچھ جعلی لبرل، کچھ نیم دل اور کچھ جذباتی لبرل اس بات پر چراغ پا ہیں کہ حکیم اللہ محسود کا ماتم کیوں کیا جا رہا ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار بین کیوں کر رہے ہیں۔ عمران خان کیوں اتنے غصے میں ہیں کہ لگتا ہے کہ دودھ شریک بھائی کو مار دیا گیا ہو۔

مولانا منور حسن جو چند مہینوں پہلے تک یہ کہتے پائے جاتے تھے کہ انہوں نے کبھی حکیم اللہ کا نام بھی نہیں سنا اب اسے شہید کہنے پر کیوں مصر ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن جو ذرا اداس ہوتے ہیں تو فورًا امریکی سفارت خانے پہنچ جاتے ہیں یہ کیوں فرما رہے ہیں کہ اگر امریکہ کہ ہاتھوں کتا بھی مرے تو شہید۔ ( یہ ابھی تک واضح نہیں کہ اس سے کتوں کی توقیر مقصود ہے یا شہید کی بے حرمتی)۔

جس کو جتنے طعنے دینے ہیں دے لے، جس کو چالیس ہزار پاکستانیوں کا رونا رونا ہے رو لے، جسے مرحوم کو افغانستان اور ہندوستان کا ایجنٹ ثابت کرنا ہے کر لے لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکیم اللہ کے ماتم کنندگان قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

ہر قوم کو ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے جیسی جنگجو قومیں اپنے ہیرو اکثر جنگجوؤں میں ہی تلاش کرتی ہے۔ عام حالات میں ہم ایسے ہیرو اپنی فوج میں ڈھونڈا کرتے تھے۔ میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر پائلٹ آفیسر راشد منہاس تک اپنے بچوں کا خون گرمانے کے لیے ہمارے پاس جرات اور شہادت کی چند کہانیاں تھیں۔ یہ کہانیاں ہم شوق سے سنتے اور سناتے تھے کبھی ان پر ٹی وی ڈرامے بناتے اور کبھی ان کی تصویر کو اپنے گلی کوچوں میں سجاتے۔

لیکن جب سے پاک فوج نے ملک کے دفاع کا ٹھیکہ پرائیویٹ لشکروں اور جہادی تنظیموں کے حوالے کر کے خود پلاٹوں اور پلازوں کی ٹھیکے داری شروع کر دی ہے، قوم نے وردی پوش ہیرو کی پرستش ختم کر دی ہے۔ آپ خود ہی بتائیں ہمارا ہیرو وہ جنرل ہوگا جو کشمیر پر جنگ بندی کی بات کرتا ہے یا مولانا مسعود اظہر جو کشمیر میں گھس کر جہاد کی تبلیغ کرتا ہے اور جب ہندوستان کی قید میں آتا ہے تو اس کے ساتھی ہندوستان کا ہوائی جہاز اغوا کرکے اسے چھڑوا لیتے ہیں۔

Image caption بغاوت کا علم بلند کرنے والا غازی رشید شہید، اور اس کے خلاف آپریشن کرنے والے جنرل قومی مجرم

مولوی نیک محمد جہاد کرتے ہوئے امریکہ کے ہاتھوں شہید ہوئے کیا کسی کو اس جنرل کا نام بھی یاد ہے جس نے اس سے امن معاہدہ کر کے اس کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا تھا۔

کسی بھی مذہب میں کسی بھی تہذیب میں ہیرو وہ ہوتا ہے جو اپنے جوہر میدان جنگ میں دکھاتا ہے۔ میز پر بیٹھ کر ڈیفنس کالونیوں کے نقشے بنانے والے بھی کبھی ہیرو کہلاتے ہیں؟

ہمارے ہیرو وہ ہیں جو ہندوستانی پارلیمنٹ میں گھس کر دشمن سے اپنا تعارف کراتے ہیں، سیاچن کی برفوں میں دب کر ہلاک ہو جانے والے سپاہی کو ہم شہید کہہ تو دیتے ہیں لیکن اس کی کہانی کسی نوجوان میں جذبۂ جہاد بیدار نہیں کر سکتی۔

اسلام آباد کے بیچ میں بیٹھ کر علم بغاوت بلند کرنے والےغازی عبدالرشید شہید ہے، اور اس کے خلاف آپریشن کرنے والا جنرل قومی مجرم۔

تو حکیم اللہ کے سوگ پر پریشان ہونے والے جان لیں کہ باقی قوموں کی طرح ہمیں بھی ہیرو کی تلاش رہتی ہے، اسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد یہ اسامی خالی تھی۔ حکیم اللہ نے پر کر دی۔ اب ان کی شہادت کے بعد ایک اور جنگجو امیر مقرر ہوگا اور ظاہر ہے سب سے پہلے حکیم اللہ کی شہادت کا بدلہ ہم سے لےگا۔ آپ کہیں گے ہم تو اسے شہید کہتے ہیں پھر ہم سے بدلہ کیوں؟

اس طرح کے سوال پوچھنا کمزور ایمان کی نشانی ہے۔ اور کتا تو شہید کہلاتا ہے لیکن کمزور ایمان والا کبھی یہ رتبہ نہیں پائے گا۔

اسی بارے میں