کراچی: ’فرقہ وارانہ تشدد میں سیاسی جماعت کا عسکری ونگ ملوث ہے‘

Image caption محرّم کے لیے کراچی میں حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے ہیں

محرّم الحرام کے آغاز سے قبل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے۔

پیر کو دو ڈاکٹروں سمیت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے بعد منگل کو شہر میں ایک معلم سمیت مزید پانچ افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ رینجرز کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی میں حالیہ فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ایک سیاسی جماعت کا عسکری ونگ ملوث ہے۔

رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے مشترکہ اجلاس کے بعد رینجرز کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں جن سے نشاندھی ہوتی ہے کہ ان فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ایک سیاسی جماعت کا عسکری ونگ ملوث ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بھڑکانا ہے تاکہ محرم الحرام میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے جائیں۔

دوسری جانب کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے کا کہنا ہے کہ پیر کے روز اہل تشیع کو ٹارگٹ کیا گیا اور منگل کو اہل سنت کو نشانہ بنایا گیا، ان دونوں کا مقصد شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کرانا تھا، لیکن وہ ملزمان کے قریب پنہچ چکے ہیں جلد انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

اس سے قبل تنظیم ِاہلسنت و الجماعت کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچوں افراد ان کے کارکن ہیں اور انہیں ردعمل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق منگل کو ڈیفنس کے علاقے کالا پل کے قریب صبح سویرے نامعلوم مسلح افراد نے دو موٹر سائیکل سواروں پر فائرنگ کی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

اہل سنت و الجماعت کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان مفتی طارق اور یار محمد دونوں ان کے کارکن تھے۔ تنظیم کے مطابق مفتی طارق کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا اور وہ ایک مقامی مدرسے سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ یار محمد طالب تھے۔

اس کے علاوہ جمشید ٹاؤن کے علاقے اعظم بستی میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے محمد جان نامی شخص ہلاک ہوا جبکہ کورنگی کے صنعتی علاقے میں چمڑا چورنگی کے قریب ہوٹل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رضا گل اور ایاز نامی اشخاص مارے گئے۔

Image caption کراچی میں تقریباً دو ماہ سے رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشنز جاری ہیں

اہل سنت و الجماعت کے مطابق ان تینوں کا تعلق بھی ان کی تنظیم سے تھا اور جہاں گلگت سے تعلق رکھنے والے جان محمد مقامی مسجد میں موذن تھے وہیں کوئٹہ کے رضا گل مقامی ہوٹل پر کام کرتے تھے۔

تنظیم کے ترجمان عمر معاویہ کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کی ہلاکت گزشتہ روز کے واقعات کا ردعمل ہے، جس کا مقصد شہر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر فسادات کرانے کی کوشش ہے۔

اہل سنت و الجماعت نے ان ہلاکتوں کے خلاف بدھ کو احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل پیر کو شہر میں دو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جن میں سے تین کا تعلق اہلِ تشیع سے تھا۔ یہ ہلاکتیں منگھوپیر، طارق روڈ اور لیاقت آباد کے علاقوں میں ہوئیں۔

پولیس کے مطابق پیر کی صبح منگھو پیر میں گرم چشمے کے قریب فائرنگ سے پچاس سالہ شیر علی ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور مسلح موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

پیر کی دوپہر طارق روڈ پر ایک کار پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس میں ڈاکٹر نسیم عباس ہلاک ہوگئے اور اس کے چند گھنٹوں کے بعد لیاقت آباد زینب سکوائر کے قریب موٹر سائیکل سواروں نے دکانوں پر فائرنگ کی، جس میں پولیس کے مطابق ندیم عباس اور شہباز نامی دو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ندیم عباس کا تعلق اہل تشیع مسلک سے تھا۔

ان ہلاکتوں کے خلاف پیر کی شب ایم اے جناح روڈ پر شیعہ تنظیموں کی جانب سے کئی گھنٹے دھرنا بھی دیا گیا۔

شیعہ تنظیم مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محرم کی آمد سے قبل ہی ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، اگر محرم کے دنوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا تو ماتمی جلوس، احتجاجی جلوسوں میں تبدیل کر دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ڈی جی رینجرز کی سربراہی میں بھی محرم کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے اجلاس ہو چکے ہیں، جن میں ماتمی جلوسں کی گزرگاہوں کو دونوں اطراف سے سِیل کرنے اور دیگر شہروں سے اضافی نفری منگوانے کے فیصلے کیے گئے تھے۔

ادھر شہر میں رینجرز کی ٹارگٹڈ کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شب اٹھائیس مشتبہ افراد کو کھڈا مارکیٹ، کوئلہ گدام، زینت اسکوائر، لیاقت آباد، ناظم آباد، شیرپاؤ کالونی اور سائیٹ کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں