شدت پسندی کے جلد خاتمے کا کوئی طریقہ نہ تھا اور نہ ہوگا

Image caption حکومتِ پاکستان کے دعوؤں کے باوجود حکیم اللہ محسود کبھی بھی امن کے لیے تیار نہیں تھا

حکومتِ پاکستان نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے میں ہلاک کر کے دانستہ طور پر پاکستانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔

حقیقت میں اس مسلح تصادم کو جلدی ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہ تو کبھی تھا اور نہ ہی ہو گا۔

حکومتِ پاکستان کے دعووں کے باوجود حکیم اللہ محسود کبھی بھی امن کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس نے سینکڑوں فوجیوں اور شہریوں کو ہلاک کیا۔ حکیم اللہ ہی نے مسجدوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے کے احکامات دیے اور کئی بار تو ان بازاروں کو نشانہ بنایا جہاں زیادہ تر بچے اور خواتین جاتی تھیں۔

لیکن اسلام آباد ایک عجیب منطق لیے پھر رہا ہے جس نے پاکستانی عوام کو مزید الجھا دیا ہے اور سیاسی منظر نامے میں بھی مزید تفریق کردی ہے جس کے باعث مستقبل میں مزید شدت پسندی کو ہوا ملے گی۔

جس روز حکیم اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کسی نے بھی مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’حکومت مذاکرات کے حوالے سے بیانات صرف میڈیا پر دے رہی ہے اور ابھی کوئی امن مذاکرات شروع نہیں ہوئے ہیں۔‘

اس کے علاوہ پاکستانیوں نے یہ سوال اٹھائے کہ یہ مذاکرات ہیں کس بات پر۔

طالبان کا اصرار ہے کہ حکومت اپنے ادارے اور نظام ختم کر کے شرعی نظام عدل نافذ کرے۔ اس کے علاوہ طالبان کے پاس مذاکرات میں بات کرنے کو کچھ نہیں ہے اور دوسری جانب حکومت آئین یا جمہوریت پر کسی قسم سمجھوتہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جن کی جماعت کی حکومت صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے، دھمکی دی ہے کہ وہ نیٹو سپلائی کا راستہ بند کردیں گے۔

عمران خان پر جس کسی نے بھی تنقید کی ہے تو عمران نے ان کو امریکہ کا حامی، قدامت پسند یا مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ یہی الزامات شدت پسند بھی اپنے مخالفین پر لگاتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف اس حد تک نہیں گئے جس حد تک عمران خان گئے ہیں کیونکہ نواز شریف امریکہ کے ساتھ تعلقات ہموار رکھنے کی کوشش میں ہیں۔

اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اپوزیشن کو اس بات کا خیال نہیں ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے جو اس نے پچھلے دو سال سے روکی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اس سال مختلف منصوبوں کے لیے ایک ارب ڈالر مزید دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ ہی نے آئی ایم ایف سے چھ ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرضہ لینے میں مدد کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ کا ایک تہائی حصہ بھی امریکی امداد کی مد میں آتا ہے۔

امریکہ کا مقصد کراچی کے ذریعے افغانستان سے اپنا سازوسامان لے جانا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے پاس وسط ایشیا کا متبادل راستہ بھی موجود ہے۔ اور ویسے بھی امریکہ اپنا مہنگا فوجی ساز و سامان مزارِ شریف سے جہازوں کے ذریعے لے جا رہا ہے۔

اس سے ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ عمران خان کی منطق میں ایک اور نقص ہے۔ عمران لمبے عرصے سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی بات کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن جب یہ وقت قریب آ رہا ہے تو وہ اسی راستے کو بند کرنے کی بات کر رہے ہیں جس کے ذریعے امریکی فوج کا انخلا ہونا ہے۔

اسی قسم کی منطق کی وجہ سے پاکستان خطے میں اور اپنے اتحادیوں اور مغربی ممالک میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں تعینات ایک مغربی ملک کے سفیر کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے سیاستدانوں کی ہر وقت تبدیل ہونے والی پالیسیوں اور دہشت گردی سے لڑنے کے لیے ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے بہت ’مایوس‘ ہیں۔ ان کے مطابق ’ہمیں ایسی کوئی منطق نہیں ملتی جو پاکستان کی بھلائی میں ہو۔‘

عمران خان نیٹو سپلائی روکنے کے لیے سڑک بند کرنے میں کامیاب نہیں ہو گے کیونکہ صوبائی حکومت کے پاس ایسا کرنے کی اتھارٹی نہیں ہے اور وفاقی حکومت اور فوج کی طرف سے ایسا نہ کرنے کے لیے شدید دباؤ آئے گا۔

دوسری جانب عمران خان حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر اصرار کر رہے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ طالبان حکیم اللہ کا بدلہ لینے کے لیے شدت پسند کارروائیوں میں اضافہ کریں گے۔

پانچ نومبر کو عمران خان کی جماعت اور دیگر اپوزیشن کی جماعتوں نے وفاقی حکومت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنے کا کہا ہے۔

صرف امید کی جا سکتی ہے کہ نواز شریف کی حکومت سوچ سمجھ کے ساتھ آگے بڑھے گی اور مذاکرات فی الحال نہیں کرے گی۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ طالبان کے حملوں کے ساتھ ساتھ محرم کے مہینے میں سنی شدت پسند تنظیمیں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گی۔

اس وقت حکومت اور فوج کو انسداد دہشت گردی کی جامع پالیسی کی ضرورت ہے جس میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ چند جنگجو گروہوں کے ساتھ بات چیت، معاشی ترقی اور تعلیم کا فروغ شامل ہو۔

لیکن عام خیال یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے شدت پسندی جلد ختم ہو جائے گی اور اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

شدت پسندی کو روکنے کے لیے کوئی فوری طریقہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل مہم کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی کے لیے حکومتِ پاکستان کو تیاری کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں