بلوچستان: تشدد کے واقعات میں چھ ہلاک

Image caption بلوچستان میں ایف سی کی کارروائیوں سے بھی لوگ نالاں ہیں

بلوچستان کے مکران ڈویژن کے علاقے میں جمعرات کو تشدد کے مختلف واقعات میں چھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ہلا ک کیئے جانے والے تین افراد کا تعلق سندھ سے ہے۔ جن کو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت میں مارا گیا۔

کیچ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے تربت کے علاقے گڑھی چوک میں نذیر احمد نامی شخص کو ہلاک کیا۔

اہلکار نے کہا کہ تربت ہی میں فائرنگ دو الگ الگ دیگر واقعات میں عبد الرسول اور داد محمد نامی افراد کو ہلاک کیا گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ تربت شہر میں ہلاک کیئے جانے والے تینوں افراد کا تعلق سندھ کے مختلف علاقوں سے ہے۔

ان افراد کو ہلاک کر نے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے ۔

فائرنگ سے ہلاکت کا ایک اور واقعہ مکران ڈویژن کے ضلع پنجگور میں پیش آیا۔

پنجگور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے شاہوکین کے علاقے میں دو حقیقی بھائیوں پر فائر کھول دیا جس میں محمد قاسم نامی شخص ہلاک ہو ا۔

بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ محمد قاسم پارٹی کا کارکن تھا۔ جبکہ مکران ڈویژن کے ضلع گوادر کے علاقے پسنی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے دو افراد کو ہلاک کیا ۔

پسنی میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا ہلاک کیئے جانے والے دونوں افراد ایک ہوٹل پر بیٹھے تھے جہاں ان پر فائر کھول دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد پسنی کے مقامی تھے جن میں سے محمد اکبر نامی شخص کے قتل کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ریاستی مخبر تھا۔

بیان میں زلزے سے متائثرہ آواران کے علاقے بزدادہی میں سیکورٹی فورسز پر حملے کا بھی دعویٰ کیا گیاہے۔

اس حملے میں فورسز کو نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں