’فضل اللہ پہلے ہی سے حکومت سے مذاکرات کے حق میں نہیں‘

Image caption ملا فضل اللہ پاکستان کی وادیِ سوات کے طالبان کے امیر ہیں

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ نے تنظیم کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

حکیم اللہ محسود یکم نومبر کو امریکی ڈرون کے میزائل حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

تحریکِ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کی شوریٰ نے اتفاق رائے سے سواتی طالبان کے امیر کو تحریک کا نیا قائد چنا ہے۔

سوات کے ملا ریڈیو سے طالبان کے سربراہ تک

تحریک طالبان پاکستان

پاکستانی شدت پسندوں کی نئی تعریف

ترجمان نے بتایا کہ وہ خود بھی شوریٰ کے اجلاس میں موجود تھے اور اس اجلاس میں ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے شیخ خالد حقانی کو مولوی فضل اللہ کا نائب بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر منتخب ہونے کے بعد ملا فضل اللہ نے حکومت سے مذاکرات کو رد کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتِ پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اس لیے کہ فضل اللہ پہلے ہی سے حکومت سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔‘

شاہد اللہ شاہد نے مزید کہا ’ساری حکومتیں ہمارے ساتھ دھوکہ کرتی ہیں۔ مذاکرات کے نام پر ہمیں دھوکہ دیا گیا اور ہمارے لوگوں کو مارا گیا۔ ہمیں ایک سو فیصد یقین ہے کہ حکومتِ پاکستان ڈرون حملے میں امریکہ کا ساتھ دے رہی ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت ’وقت ضائع کرنا ہے‘۔

شاہد اللہ شاہد کے بقول ’فضل اللہ امن مذاکرات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ کرنا ہے لیکن وہ مذاکرات کے خلاف ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا ’امن مذاکرات پر بات ہی نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔ اس حکومت کی کوئی اتھارٹی نہیں ہے اور نہ ہی خود مختار حکومت ہے۔ یہ تو امریکہ کی خادم حکومت ہے۔

اطلاعات کے مطابق فضل اللہ کی تقرری کے بعد میران شاہ میں طالبان نے شدید ہوائی فائرنگ بھی کی۔

طالبان کی شوری گزشتہ کئی دنوں سے امیر کے لیے صلاح و مشورے کر رہی تھی۔ طالبان کی شوریٰ بیس سے پچیس ارکان پر مشتمل ہے اور طالبان کے تمام گروپوں کے نمائندے اس کا حصہ ہیں۔

مشاورتی عمل کے دوران پانچ افراد کے ناموں پر غور کیا گیا جن میں مولوی فضل اللہ، خان سید سجنا، شیخ خالد حقانی، عمر خالد خراسانی اور حافظ سعید شامل تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد ولی مجیب کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت قبائلی علاقوں سے نکل کر سوات اور صوابی جیسے بندوبستی علاقوں میں آ گئی ہے۔

ملا فضل اللہ پاکستان کی وادیِ سوات کے طالبان کے امیر ہیں اور ابتداء میں وہ سوات کے ایک گاؤں میں درس دیتے تھے۔ بعدازاں انہوں نے سوات میں تبلیغی کاموں کے لیے ایک ایف ایم ریڈیو بھی قائم کیا جس پر وہ اکثر خطاب بھی کرتے تھے۔

انہوں نے وادی میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کی بھی کوشش کی اور اس مہم کے دوران نہ صرف ان کے جنگجوؤں نے سکول تباہ کیے بلکہ لوگوں کو عوامی مقامات پر کوڑے مارے گئے اور ان کے سر بھی قلم کیے گئے۔

سوات میں فوج کے آپریشن سے قبل حکومت پاکستان نے انہیں پکڑنے میں مدد دینے پر انعام کا اعلان کیا تھا اور جون 2009 میں ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دی گئی تھی۔

اس علاقے میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد 2009 کے آخر میں وہ فرار ہو کر افغانستان کے صوبہ نورستان چلے گئے تھے جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔

ان پر افغانستان میں قیام کے باوجود پاکستانی سرزمین پر شدت پسندی کی کارروائیاں کروانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

سوات کی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملے میں بھی انہی کے جنگجوؤں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا جبکہ پاکستانی حکام ان کو افغان سرحد پار سے متصل پاکستانی علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں