’زندگی کم ہمت لوگوں کے بس کا کھیل نہیں‘

Image caption احسن جاوید بھی ہنر میلے میں شریک باہمت افراد میں سے ایک تھے

پولیو سے متاثرہ افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عمر بھر کی معذوری ان کا مقدر بن گئی ہے، آپ خواجہ سرا پیدا ہوئے تو دوسروں کے مقابلے میں کم تر زندگی آپ کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے اور اگر آپ لڑکی ہیں تو مردوں کے مقابلے میں کم تر معیار کے کام کرنے کے لیے تیار رہیں۔

لیکن اسلام آباد کے ہنر میلے میں شریک بعض افراد نے اپنی ہمت سے بھرپور زندگی کی کہانیاں سنا کر لوگوں کے ان مفروضوں کو غلط سمجھنے پر مجبور کر دیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ ہنر میلے میں پورے ملک خصوصاً روزگار کے لیے کم سازگار علاقوں سے آنے والے ان افراد نے شرکت کی جنھیں یورپی یونین، جرمنی اور ہالینڈ کی مالی مدد سے چلنے والے پروگرام کے تحت تربیت فراہم کی گئی۔ اب وہ اتنا کچھ کما لیتے ہیں کہ اپنی پچھلی زندگی کے مقابلے میں زیادہ خوش ہیں۔

انھی میں لاہور کے قریب شاہدرہ کے رہائشی حافظ محمد سلیمان بھی تھے جنھیں سات ماہ کی عمر میں پولیو لاحق ہوا، تاہم غربت نے انھیں چھوٹی عمر ہی میں باپ کے ساتھ لوہا اٹھانے اور ویلڈنگ کا کام کرنے پر مجبور کر دیا۔

جب پولیو سے کمزور ہونے والی ٹانگ سے بھاری لوہا مزید نہ اٹھایا گیا اور ٹانگ ان کا وجود اور لوہے کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی تو انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ پھر والد کے انتقال کے بعد تو وہ بالکل ہی ہمت ہارگئے اور تنگ آ کر خودکشی کے بارے میں سوچنے لگے۔

اسی دوران اس پروگرام کے تحت انھیں کھانا پکانے کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا اور اب وہ ایک کامیاب باورچی سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’تین ماہ قبل جس گھر میں کام شروع کیا میرے کام سے خوش ہو کر انھوں نے تنخواہ دو ہزار بڑھا دی، میں اپنے جیسے تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ جیو اور پوری ہمت سے جیو۔‘

پنجاب کے شہرگجرات سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا عاشی بھی اس میلے میں لوگوں کی توجہ کا مرکز تھیں۔ خوشی کے موقعے پر لوگوں کے گھروں میں ناچنے کے بعد جب ان کی عمر ڈھل گئی تو انھوں نے بھیک مانگنی شروع کردی۔

لیکن جب وہ گرین ٹاؤن میں ہنر سیکھنے کے لیے قائم مرکز میں پہنچیں تو ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔ مایوسی کے دہانے سے لوٹنے والی عاشی اب پورے فخر کے ساتھ اپنے تیار کردہ جینز، پینٹس اورشرٹس تیار کرکے لوگوں کو دکھاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’گرین ٹاؤن میں خواجہ سراؤں کے لیے اس پروگرام کے تحت مجھے تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا جس کا میں نے فائدہ اٹھایا اور اب میں ماہر درزی کے طور پر اس علاقے میں لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی ہوں۔‘

عاشی اب اس قابل ہیں کہ دیگر تربیت یافتہ خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کرایک بوتیک چلا سکتی ہیں۔

اسی میلے میں کراچی کے ابراہیم حیدری کی رہنے والی فرزانہ علی بھی تھیں۔ وہ موبائل فون، واشنگ مشین اور ایئرکنڈیشنر مرمت کرنے کا کام کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف خود یہ کام کرتی ہیں بلکہ اپنے علاقے میں متعدد لڑکے اور لڑکیوں کو بھی اس کی تربیت دے چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میرا علاقہ فرسودہ سوچ کا حامل ہے جہاں لڑکیوں کوگھرسے باہرجانے کی اجازت نہیں ملتی۔ اس لیے میں نے کچھ ایسے کام لڑکیوں کو سکھائے جو مرد کرتے تھے اور اب تربیت یافتہ لڑکیاں سلائی کڑھائی میں بھی اس قابل ہوگئی ہیں کہ روزانہ دو ہزار روپے تک کما لیتی ہیں۔‘

پاکستان میں سنہ 2015 تک ایک لاکھ افراد کو تربیت دینے کا ارادہ رکھنے والے جرمن پروگرام کے پاکستان میں کمیونیکیشن افسر محمد علی کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت نئے پیشے متعارف کرائے گئے ہیں اور ان سے پچاس ہزار افراد کوتربیت فراہم کرنے کا عمل تقریباً مکمل ہونے کو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کوتربیت دینے کے لیے 24 الگ الگ منصوبے جاری ہیں جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں یعنی اب لوگ اس قابل ہو رہے ہیں کہ اس تربیت کے نتیجے میں وہ کوئی نوکری کریں یا اپنا کاروبار شروع کریں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن ان کے لیے کوئی قومی پروگرام نہ ہونے کے باعث یہ نوجوان یا تو بے روزگار ہیں یا کوئی انتہائی کم معیارکا کام کرنے پرمجبور ہیں۔

اسی بارے میں