جوہری پروگرام میں سعودی سرمایہ کاری کی خبریں بےبنیاد ہیں: پاکستان

Image caption مغربی ممالک پاکستان کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

جمعرات کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے پیغام میں اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط اور ایکسپورٹ کنٹرول جامع ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیار اور عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک متعدد بار تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور بہترین کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔

نیوز نائٹ میں پروگرام کے سفارتی اور دفاعی امور کے مدیر مارک اربن نے نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار سے رواں برس کے آغاز میں اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس افسر نے ایسی خفیہ رپورٹیں دیکھی تھیں جن کے مطابق سعودی عرب کے لیے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جوہری ہتھیار ڈیلیوری کے لیے تیار ہیں۔

اسی پروگرام میں اسرائیلی فوج کے خفیہ محکمے کے سربراہ اموس يالدن کی سویڈن میں کی گئی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری بم حاصل کر لیتا ہے تو ’سعودی ایک ماہ کا بھی انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے بم کے لیے پہلے ہی رقم ادا کر دی ہے۔ وہ پاکستان جائیں گے اور جو چاہتے ہیں، لے آئیں گے۔‘

تاہم اسی پروگرام میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے امور پر امریکی صدر براک اوباما کے سابق مشیرگیری سیمور نے اس خیال کو رد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ سعودی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ان کا ایسا کوئی تعلق ہے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیں گے۔‘

بی بی سی کے مارک اربن کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے جوہری تعاون کے الزامات 1990 کی دہائی سے گردش کر رہے ہیں اور اس معاملے میں سعودی عرب پر پاکستانی میزائل اور جوہری لیبارٹریوں کے لیے رقم مہیا کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

لیکن اس وقت سعودی حکام نے ان کی تردید کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور وہ جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرقِ وسطیٰ کا خواہاں ہے۔

جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل میزائل کے حصول کے لیے سعودی عرب کے منصوبے کی خبریں کافی پرانی ہیں۔

1980 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب نے چین سے درجنوں سی ایس ایس 2 بیلسٹک میزائل خریدے تھے اور حال ہی میں دفاعی جریدے ’جین‘ میں ماہرین نے اسرائیل اور ایران سے متصل سرحد پر ان میزائلوں کے نئے اڈے بنائے جانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان عبدالقدیر خان پر ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری بم کی معلومات اور افزودہ یورینیم کے سنٹری فیوجز کی فروخت میں ملوث ہونے کا الزام لگتا رہا ہے اور انہوں نے سرکاری ٹی وی پر جوہری آلات کی منتقلی کا اعتراف بھی کیا تھا۔

نیوز نائٹ کے مطابق عبدالقدیر خان پر چینی ایٹمی ہتھیاروں کے بلیو پرنٹس کو ان ممالک تک پہنچانے کے بھی الزامات ہیں۔ یہ بلیو پرنٹس سی ایس ایس 2 میزائل میں فٹ ہونے والے بم کا ڈیزائن تھے اور یہ وہی میزائل ہیں جو سعودی عرب کے بھی پاس ہیں۔

اسی بارے میں