’خواہش ہے کہ طالبان مثبت جواب دیں‘

Image caption ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے: نواز شریف

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوں تاکہ پاکستان میں امن قائم ہو۔

بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ ضلعے آواراں سے کراچی پہنچنے پر سینیئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چالیس ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں اور وہ پرامید ہیں کہ طالبان اس کا مثبت جواب دیں گے۔

ایک روز قبل ہی مولوی فضل اللہ کو کالعدم تحریک طالبان کا نیا سربراہ چنا کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

وزیر اعظم نے طالبان کے علاوہ افغانستان اور انڈیا سے بھی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ’ ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے۔‘

میاں نواز شریف نے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کا ایک بار پھر حوالہ دیا اور بتایا کہ امریکہ کے تحفظات تھے اور ان میں سے کچھ درست بھی تھے۔ انہوں نے کہا:’ ملک کے اندر جو خونریزی ہے اس میں اپنی بھی کوتاہی ہے، اس وقت ان کی پشت پناہی کیوں کی گئی، جس سے اپنے گھر کو آگ لگ گئی، دوسروں کو کہنے سے پہلے خود کو دیکھنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما ، نائب صدر جو بائیڈن اور جان کیری سے جو مذاکرات ہوئے انہوں نے بار بار کہا:’ہم آپ کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟‘

نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے امریکی رہنماؤں کو جواب دیا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت کریں اور ڈرونز بند کردیں تو دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کراچی میں جاری آپریشن کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ جو ملزمان گرفتار ہوئے ہیں ان کے خلاف اگر مقدمات نہیں چلائے گئے اور اسی طرح ضمانتیں ملتی رہیں تو تمام کوششیں بے فائدہ ہوجائیں گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں آپریشن، دنوں یا مہینوں تک نہیں بلکہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام ملزمان کٹہرے میں نہیں آجاتے اور شہر میں امن بحال نہیں ہوجاتا۔

ان کا کہنا تھا ’خدا خدا کر کے آپریشن شروع ہوا ہے، اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ ’مجرم کا تعلق جرم سے ہے اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے یا نہیں، حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

Image caption امریکی لیڈروں نے بار بار پوچھا کہ ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں: نواز شریف

انہوں نے ولی بابر قتل کیس کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ ’گواہ اور مدعی ڈرتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں انہیں مجرموں کے ساتھی مار نہ ڈالیں۔‘

انہوں نے کہا:’عدلیہ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ گرفتار ملزمان رہا ہوجائیں اور دوبارہ اپنی صفوں میں گھس جائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے قانون کے تحت دہشت گردی، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور اغوا کاروں کے مقدمات چلائیں جائیں گے۔ یہ مقدمات دوسرے صوبوں میں منتقل ہوسکتے ہیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے بھی سماعت ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم نے تاجروں سے بھی ملاقات کی اور بقول ان کے تاجروں نے کراچی آپریش پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اب بجلی کا بحران بھی حل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں اور مسائل کے حل ہونے میں وقت درکار ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اس لیے آنے والے دنوں میں بجلی کی قلت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ گیس کے بحران میں بھی شدت آئی گی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ بلوچستان کا زلزلے سے متاثرہ ضلے آوران کو ماڈل ضلع بنایا جائے گا اور وہاں تیس ہزار گھروں کی تعمیر ہوگی، سڑکیں بنائی جائیں گی، یونین کونسل سطح پر آّٹھ میگاواٹ کے شمسی توانائی کے پاور سٹیشن بنائے جائیں گے جس سے گھروں میں روشنی کے علاوہ زرعی مقصد کے ٹیوب ویل بھی چل سکیں گے۔