گوجرانوالہ: امام بارگاہوں پر فائرنگ، امام مسجد سمیت 3 ہلاک

Image caption محرم الحرام کی وجہ سے پنجاب میں حفاظتی ناکوں میں اضافہ کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں دو امام بارگاہوں پر فائرنگ کے نتیجے میں امام مسجد سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاکتوں کے یہ واقعات سنیچر کی صبح نمازِ فجر کے وقت پیش آئے۔

مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مومن پورہ کے علاقے میں واقع قصرِ ابوطالب نامی امام بارگاہ میں پیش امام محمد یوسف فجر کی اذان دینے کے بعد موجود تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مسجد میں گھس کر ان پر فائرنگ کی جس سے وہ اور مسجد میں موجود ایک اور شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد جائے حادثہ سے کچھ دور واقع شاہ رخ کالونی میں ایک اور امام بارگاہ قصرِ زینبیہ میں بھی نامعلوم افراد نےگھس کر فائرنگ کی جس سے سید جاوید نامی شخص مارا گیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے تھے اور فائرنگ کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق اہلِ تشیع سے بتایا جاتا ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد اہلِ محلہ نے مقتولین کی لاشیں اٹھا کر عالم چوک بائی پاس پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کر دیں۔

گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر سعد اختر بھروانہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کا واقعہ ہے اور دونوں حملوں میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع میں محرم الحرام کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن گوجرانوالہ میں قائم تمام 170 امام بارگاہوں کو ہمہ وقت سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان امام بارگاہوں پر نجی محافظ بھی تعینات ہوتے ہیں لیکن حملے کے وقت بدقسمتی سے کوئی محافظ موقع پر موجود نہیں تھا۔

خیال رہے کہ محرم الحرام کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پنجاب بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے ہیں اور مساجد اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں