’سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کرے‘

Image caption قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک میں بلدیاتی انتخابات چار ماہ کے لیے ملتوی کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار خورشید عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں پہلے انتحابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے تھے لیکن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوں گے۔

’ابھی بلدیاتی الیکشن نہ کرائیں‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سندھ میں 27 نومبر، پنجاب اور بلوچستان میں سات دسمبر کو انتخاب ہونے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کی حکومت ابھی تک تاریخ کا تعین نہیں کر سکی ہے۔

خورشید عالم کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے قوانین میں ترمیم کرنی ہے اور اس کے لیے پنجاب حکومت کو وقت درکار ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق ایک اہم مسئلہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہے۔

’پنجاب میں تیس کروڑ اور سندھ میں دس سے گیارہ کروڑ بیلٹ پیپرز درکار ہیں اور ان کی چھپائی میں وقت درکار ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں شیڈول کے مطابق انتحابات آئندہ ماہ سات دسمبر کو منعقد ہوں گے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ابھی تک الیکشن کمیشن سے کوئی باضابطہ درخواست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

یہ قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایوان میں پیش کی تھی اور اس متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز نجی پرنٹنگ پریس سے چھپوائے جانے کی صورت میں غلطی کا احتمال بہت زیادہ ہے اس لیے ان کی چھپوائی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان سے ہی کروائی جائے۔

دریں اثناء سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کے حوالے سے دائر درخواست پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جائے۔

سندھ حکومت کی جانب سے ابھی تک الیکشن کمیشن سے رجوع نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں