’گل حسن بلوچ کے خلاف اب ثبوت نہیں چاہیے‘

Image caption سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گل حسن کراچی سے باہر منتقل ہوگئے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس سے مبینہ مقابلے میں لشکر جھنگوی کے اہم رہنما گل حسن بلوچ پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔

دو ہزار سات میں عدالت نے گل حسن کو حیدری مسجد اور امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی کے مقدمات سے بری کر دیا تھا۔

ایس پی سی آئی ڈی پولیس چوہدری اسلم کا دعویٰ ہے کہ ماڑی پور میں لکی پہاڑی کے قریب پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی، ملزمان نے فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں گل حسن سمیت چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

مبینہ خودکش حملہ آور گل حسن بری

چوہدری اسلم کا دعویٰ ہے کہ محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں اور امام بارگاہ خمینی پر خودکش حملہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان پہلے فائرنگ کرتے اور بعد میں محمد عارف عرف صلاح الدین عرف جاوید چشمہ اور نوید عرف چھوٹا اندر جاکر خودکش حملہ کر دیتے۔

ایس پی سی آئی ڈی یہ واضح نہیں کر سکے کہ ہلاک ہونے والوں کی اس منصوبہ بندی کا انھیں کیسے علم ہوا کیونکہ یہ بتانے کے لیے کوئی زندہ نہیں بچ سکا تھا۔

لشکر جھنگوی کراچی کے امیر قرار دیے گئے گل حسن کا تعلق لیاری سے تھا۔

چھتیس سالہ گل حسن کا نام مئی 2004 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب حیدری مسجد اور بعد میں امام بارگاہ علی رضا میں خودکش بم حملے کیے گئے، ان حملوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان دھماکوں کے ایک ماہ بعد پولیس نے گل حسن بلوچ کوگرفتار کر لیا اور دونوں خود کش بم حملوں کا سرغنہ قرار دیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں استغاثہ نے گل حسن کا تعلق لشکر جھنگوی سے قرار دیا اور کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کا تعلق طالبان اور القاعدہ سے ہے۔

عدالت نے گرفتاری کے ایک ہفتے کے اندر ہی گل حسن کو 45بار سزائے موت،980 برس قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی، اس مقدمے میں آصف چھوٹو اور مفتی عبید مفرور قرار دیے گئے تھے۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپیل منظور کرکے سزائے موت کو معطل کر دیا تھا اور گل حسن کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ اور ثبوت الزام ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

گل حسن کراچی پولیس کو پچاس مقدمات پر مطلوب تھے۔ ان پر پہلا مقدمہ میٹھار در تھانے پر دائر کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گل حسن کا بڑا بھائی لشکر جھنگوی کا سرگرم رکن تھا، بھائی کی گرفتاری کے بعد اس نے شدت پسندی کی دنیا میں قدم رکھا، ابتدائی دنوں میں وہ صرف ہتھیاروں کی ترسیل کا کام کرتا تھا، اسی دوران اس کے اہم رہنماوں سے رابطے قائم ہوئے۔

Image caption سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی میں بھی گل حسن کا نام شامل رہا

لشکر جھنگوی کراچی میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل، سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی سمیت شیعہ برادری پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ عباس ٹاؤن میں بم حملے کی کڑیاں بھی تفتیشی اداروں نے لشکر جھنگوی کے آصف چھوٹو گروپ سے جوڑی تھیں۔

گل حسن کی گرفتاری کے بعد لیاری سے ان کی کی دو بھانجیاں صبا اور عارفہ لاپتہ ہوگئیں تھیں۔

ان کے والد شیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ گل حسن کے فریب میں آ کر ان کی بیوی گھر چھوڑ گئی، جس کے بعد تینوں کا کوئی پتا نہیں چلا سکا تھا۔

صبا اور عارفہ کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس کو یہ اطلاعات ملی تھیں کہ دو خواتین خودکش بمبار حملہ کر سکتی ہیں، کچھ عرصے کے بعد انہیں گرفتار ظاہر کیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گل حسن کراچی سے باہر منتقل ہوگئے۔ وہ لشکر جھنگوی کے سربراہ آصف چھوٹو کے رشتے دار بھی ہیں اور ان کے ہی گروپ میں سرگرم رہے۔ آصف چھوٹو کو تین سال قبل راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس مقبول باقر پر حملے کی منصوبہ بندی میں بھی گل حسن کا نام شامل رہا۔

پولیس چالان میں بتایا گیا تھا کہ حملے کی منصوبہ بندی میں لشکر جھنگوی لیاری کے اراکین بھی شامل ہیں جن میں گل حسن بلوچ بھی شامل تھے۔

بعد میں دوسرے چالان میں پولیس کا کہنا تھا کہ گل حسن بلوچ کوئٹہ میں کہیں مفرور ہیں ان کے خلاف شواہد نہیں مل سکے۔ اب پولیس کو مقدمہ ثابت کرنے اور گواہوں کی ضرورت نہیں رہی۔

اسی بارے میں