پاکستان: دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام، حالات بظاہر قابو میں مگر لوگوں میں خوف

  • 14 نومبر 2013
پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز نے گذشتہ دو روز میں تخریب کاری کی دو منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسی دوران مقابلے میں شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے مقامی امیر گل حسن بلوچ سمیت نو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق اسی عرصے میں امام بارگاہوں پر تین بم حملے کیے گئے ہیں۔

کراچی:امام بارگاہوں پر بم حملے، چھ مبینہ شدت پسند ہلاک

گل حسن بلوچ کون تھا؟

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سھیل کے مطابق ایس پی سی آئی ڈی پولیس چوہدری اسلم کا دعویٰ ہے کہ ماڑی پور لکی پہاڑی کے قریب پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی جہاں پولیس کو دیکھ کر ملزمان نے فائرنگ کی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں گل حسن بلوچ سمیت چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

چوہدری اسلم کا دعویٰ ہے کہ محکمۂ داخلہ نے ایک خط جاری کیا ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں اور امام بارگاہ خمینی پر خودکش حملہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے محمد عارف عرف صلاح الدین عرف جاوید چشمہ اور نوید عرف چھوٹا خودکش بمبار تھے۔

سی آئی ڈی پولیس کا کہنا ہے کہ گل حسن حیدری مسجد، امام بارگاہ علی رضا خودکش بم حملوں، اسپارکو کی بس پر فائرنگ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ ملزمان سے خودکش جیکٹیں، دو موٹر سائیکلیں، دستی بم اور ڈیٹونیٹر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے گذشتہ شب دو امام بارگاہوں پر بم حملے کیے گئے تھے، جس میں 15 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلکی نوعیت کا پہلا دھماکہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے پہاڑ گنج میں واقع امام بارگاہ کے باہر کھڑی گاڑی میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔

یہ بم دھماکہ تقریباً رات کے ساڑھے نو بجے ہوا جس کے بعد وہاں پولیس اہلکار اور صحافی جمع ہو گئے۔ پہلے دھماکے کے آدھے پونے گھنٹے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس میں وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں اور صحافیوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔

تیسرا واقعہ نارتھ کراچی سیکٹر تیرہ بی میں پیش آیا جہاں ایک امام بارگاہ پر دستی بم حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بدھ کی صبح سویرے رینجرز اہلکاروں کے ساتھ مبینہ مقابلے میں تین مشتبہ طالبان سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لانڈھی ٹاؤن کے علاقے گلشن بونیر میں صبح سویرے رینجرز نے ایک اطلاع پر طالبان کی ایک خفیہ رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طالبان دہشت گردوں اور رینجرز اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار مبینہ طالبان اور ایک رینجرز اہلکار علی اکبر ہلاک ہوگیا۔ تاہم طالبان قرار دیے گئے تینوں افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

رینجرز کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طالبان دس محرم الحرام کو تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہے تھے اور رینجرز نے جائے وقوعہ سے ہتھیار اور دستی بم بھی برآمد کیے ہیں۔

مجالس اور ماتمی جلوسوں میں سکیورٹی کا پہلا حصار اسکاؤٹس کا ہوتا ہے

مقامی میڈیا نے رینجرز ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ سے ہے تاہم اس کی کسی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

حکومت نے کراچی سمیت سندھ کے چار شہروں میں موبائل سروس معطل اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن اس بار کالعدم تحریکِ طالبان کی جانب سے ممکنہ پرتشدد کارروائیوں کے پیشِ نظر ان انتظامات میں غیر معمولی اضافہ نظر آتا ہے۔

کراچی میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ فوج کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، ماتمی جلوس کی گزرگاہ ہوں کو دو روز پہلے ہی کنٹینروں کی مدد سے سیل کردیا گیا ہے۔

مجالس اور ماتمی جلوسوں میں سکیورٹی کا پہلا حصار اسکاؤٹس کا ہوتا ہے، جو مجالس کے اندر اور باہر اور جلوس میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

جسمانی تلاشی لینا ناطق حسین سمیت کئی اسکاؤٹس کی ذمہ داری ہے جنہوں نے بتایا کہ ’ہمارا کام ہے کہ سکیورٹی فراہم کرنا باقی اللہ کی ذات ہے، ہم اپنی طور احتیاط کر رہے ہیں آگے پیچھے دیکھے رہے ہیں، تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچ سکیں۔‘

اسی طرح پشاور شہر کا اندرونی علاقہ سیل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کیمرے اور جیمرز نصب کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی کے انتظامات پولیس کے ساتھ ایف سی کے حوالے ہیں۔

ایس پی پشاور اسماعیل کھڑک کا کہنا ہے کہ فوج کو آن کال رکھا گیا ہے اور سکیورٹی کے لیے ساڑھے چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔

لاہور میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے 16 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ منتظمین نے نجی اداروں سے بھی محافظوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

کراچی کی طرح لاہور میں بھی موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور حکومت نے موبائل فون سروس معطل کر رکھی ہے۔

وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں بھی دس محرم الحرام کو انتظامیہ نے فول پروف سکیورٹی اقدامات کرنے کے دعوے کیے ہیں یہاں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے جبکہ جلوسوں میں شناختی کارڈ لے کر چلنا لازمی ہے۔

تاہم اسلام آباد کی مرکزی امام بارہ گاہ کے سکیورٹی انچارج محسن بخاری اس سے مطمئن نہیں۔

’جس طرح کے حالات ہیں ان میں جو سکیورٹی کے انتظامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں، صرف دکھانے کی حد تک سکیورٹی ہے جو باعث تشویش ہے۔ ہمارا اپنی سکیورٹی پر زیادہ انحصار ہے۔‘

اسی بارے میں