پیاز، ٹماٹر کی برآمد پر فیصلہ موخر

Image caption سبزیوں کی زخیرہ اندوزی بھی قیمتوں میں اضافے کا ایک سبب ہے: ابراہیم مغل

پاکستان میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت نے دونوں سبزیوں کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

خوراک کے تحفظ اور تحقیق سے متعلق وزارت میں ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ کاشت کاروں اور برآمد کنندہ کے دباؤ کی وجہ سے کیا۔

ذرائع کے مطابق ملک میں پیاز اور ٹماٹر کی پیداوار کم ہے اور طلب زیادہ ہے اور اسی وجہ سے برآمد پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن جب تک کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو اس وقت تک صارفین کو ہی زیادہ قیمت کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

بھارت سے ٹماٹر، افغانستان سے پیاز

دونوں سبزیوں کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی خریداری میں بھی کمی آئی جبکہ سزی فروخت کرنے والوں کے مطابق منڈی میں ہی ٹماٹر 120 روپے فی کلوگرام اور پیاز 70 سے 80 روپے فی کلوگرام دستیاب ہے۔

خوارک کے تحفظ اور تحقیق سے متعلق وزارت کا کہنا ہے کہ پیاز اور ٹماٹر کی پیداوار اور استعمال میں بالترتیب تقریباً 26000 ٹن اور 265000 ٹن کا فرق ہے۔

’پاکستان کی اقتصادی رابط کمیٹی نے بدھ کو ٹماٹر اور پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کرنی تھی لیکن کاشت کاروں اور برآمد کنندہ کے دباؤ پر اس فیصلے کو موخر کر دیا گیا اور اب قیمتوں میں استحکام کا انتظار کیا جا رہا ہے۔‘

خوارک کے تحفظ کی وزارت کا کہنا ہے کہ پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پیداوار کی کمی کے باوجود حکومتِ پنجاب نے بتایا کہ برآمد کنندہ چاہتے ہیں کہ 350000 ٹن ٹماٹر اور پیاز بھارت، بنگہ دیش، ملائیشیا، دبئی، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں برآمد کیے جائیں۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ندیم اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ پیاز اور ٹماٹر کا شمار بنیادی خوراک میں نہیں آتا اور یہ مسئلہ رسد اور طلب کا نہیں بلکہ تجارت کا ہے۔

’رواں سال اگست میں پیاز کی قلت تھی لیکن پیاز برآمد کیا گیا اور اب ٹماٹر کو بھی برآمد کیا جا رہا ہے، ہمارے ہاں طلب کے حوالے سے درست معلومات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ہر دو ماہ بعد اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

Image caption اس سال پاکستان میں آٹھ لاکھ ٹن ٹماٹر پیدا ہوا جس میں دو لاکھ ضائع ہو گیا: ابراہیم مغل

ملک میں ٹماٹر اور پیاز کی پیداوار میں کمی پر ایگری فورم پاکستان کے سربراہ ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ کاشت کے بعد فصل کا ضائع ہونا اور زخیرہ اندوزی ہے۔

’اس سال پاکستان میں آٹھ لاکھ ٹن ٹماٹر پیدا ہوا جس میں دو لاکھ کاشت کے بعد ضائع ہوگیا۔اس کا حل نکالا جائے تو ملک کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔‘

انہوں نے سرکاری اہلکاروں پر زخیرہ اندوزی کرنے والوں کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے کہا:’گذشتہ عید کے دوران ٹماٹروں کو سرد خانوں ( کولڈ سٹوریج) میں ڈال دیا گیا لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔جو ٹماٹر کسانوں سے پندرہ سے اٹھارہ روپے فی کلو خریدا گیا، صارف کو دو سو روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں، اب ضرورت کسانوں کی تنظیموں کو منظم کرنے کی ہے۔‘

اسی بارے میں