راولپنڈی کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں فرقہ وارانہ کشیدگی

Image caption ملتان میں گدشتہ رات شروع ہونے والے کشیدگی کے بعد اب مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہے

دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی میں ہلاکتوں کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے جوڈیشل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

راولپنڈی کے بعد ملتان اور بہاولنگر کے علاقے چشتیاں میں فسادات کے بعد انتظامیہ نے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔

راولپنڈی میں کرفیو، عدالتی تحقیقات کا اعلان

وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے راولپنڈی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ اس واقعے کی تحقیقات کسی سینیئر جج کی نگرانی میں کروائی جائیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کی قدیمی امام بارگاہ اور موتی بازار سے ملحق بوہڑ بازار میں واقع حفاظت علی شاہ امام بارگاہ کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور پھر تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے۔ شدید کشیدگی کے باعث کئی مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے حکومتِ پنجاب کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یومِ عاشورہ پر فرقہ وارانہ تصادم کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کے باعث کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق راولپنڈی میں کرفیو 24 گھنٹے کے لیے نافذ کیا گیا ہے جو 16 نومبر کو رات 12 بجے تک نافذ رہے گا۔ ترجمان کے مطابق کرفیو کا نفاذ پوٹھوہار اور راول ٹاؤن کے 19 تھانوں کی حدود میں ہوگا۔

سرکاری ٹی وی نے ڈی سی او راولپنڈی کے حوالے سے بتایا کہ کرفیو کا اطلاق راولپنڈی کنٹونمنٹ کے علاقے پر بھی ہوگا۔

Image caption دونوں گروہوں کے درمیان تصادم میں ایک دوسرے پر پھتراؤ بھی کیا گیا

راولپنڈی کے علاقے کالج روڈ سے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کسی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں اور انھوں نے گلی میں فوج کے جوانوں کو دیکھا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس تصادم کے دوران آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ اے ایف پی نے راولپنڈی کے ضلعی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر قاسم خان کے حوالے سے بتایا کہ ’تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ 44 زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں 13 زخمیوں کو گولیاں لگیں ہیں۔‘

اس سے پہلے پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یوم عاشور کا جلوس جب فوارہ چوک کے قریب واقع جامعہ تعلیم القرآن کے قریب سے گزر رہا تھا تو جامعہ سے جلوس جلد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔ مشتعل افراد نے املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔

بہاولنگر، چستیاں

صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے علاقے چشیاں میں بھی عاشورہ کے موقع پر کشیدگی کے بعد ایک امام بارگاہ کو آگ لگا دی گئی۔

چستیاں کے ضلعی رابطہ افسر اطہر اسماعیل نے بتایا کے گذشتہ شام بھٹہ کالونی کے علاقے میں واقع ایک چھوٹی امام بارگاہ میں ایک ذاکر کی متنازع تقریر پر اہل علاقہ مشتعل ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے امام بارگاہ پر حملہ کر دیا اور صفوں کو آگ لگا دی۔

اطہر اسماعیل کے مطابق آگ سے صرف صفوں اور امام بار گاہ کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا پولیس نے موقعے پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کر لیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’متنازع تقریر کرنے والے ذاکر کا تعلق مریدکے سے تھا اور وہ واقعے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے ہیں‘۔

بہاولنگر کے ضلعی رابطہ افسر نے بتایا کے یہ خبر صبح پوری چشتیاں میں پھیل چکی تھی اور صبح اس مقام پر دس ہزار کے قریب مشعل افراد جمع ہو گئے جنہیں پولیس نے فوج کی مدد سے منتشر کیا۔

انہوں نے بتایا کے سکیورٹی فورسز نے لوگوں کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کے اس وقت علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے اور تمام امام بارگاہوں اور حسّاس علاقوں میں پولیس کے ہمراہ فوج بھی تعینات ہے۔

بہاولنگر کے ضلعی رابطہ افسر اطہر اسماعیل کے مطابق علاقے میں تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے علما کا ایک اجلاس بھی ہوا جس میں کشیدگی کا باعث بننے والی تقریر کی مذمت کی گئی۔ اہل تشیع علما نے بھی متنازعہ ذاکر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تقریر میں ایسی باتیں کہی گئیں جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروع ہوئے۔

ملتان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ملتان میں گدشتہ رات شروع ہونے والے کشیدگی کے بعد اب مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہے۔

ملتان سے نامہ نگار ظہیر الدین بابر کے مطابق اندرون ملتان میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن سڑکوں پر آگ لگا کر مظاہرے کر رہے ہیں ان کا الزام گذشتہ رات اہل تشیع کے جلوس میں صحابہ کرام کی شان میں گستاخی ہوئی۔

اس لیے بطور احتجاج سنیچر کی صبح ملتان میں شٹر ڈاؤن کرایا گیا جبکہ احتجاج کے دوران فائرنگ ہوئی جس میں کم سے کم سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

ملتان کے چوک گھنٹہ گھر میں دوپہر سے نعرے بازی اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام نے اہل سنت و الجماعت کے ملتان میں سربراہ انور شاہ سمیت مقامی سربراہان اور متعدد علما کو بلا کر مشتعل ہجوم کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔

ملتان سے صحافی غضنفر عباس نے بتایا کہ کئی علاقوں میں سُنی مسلمانوں نے مظاہرے کیے اور ٹائروں کو آگ لگا کر سڑکیں بلاک کردیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں گھنٹہ گھر، لالا ولی محمد، بوڑھ چوک اور سوتری واٹ کے علاقے شامل ہیں۔

اسی بارے میں