ملتان: فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 27 زخمی،’ کرفیو کے نفاذ کی درخواست‘

Image caption ملتان کے ضلعی رابطہ افسر کے مطابق ’حالات افواہوں کے باعث خراب ہوئے‘

پاکستان میں صوبۂ پنجاب کے شہر ملتان میں پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد انتظامیہ نے صوبائی وزارتِ داخلہ سے شہر کے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔

سنیچر کو شہر کے مختلف حصوں میں فسادات کے دوران ستائیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے حکام کے مطابق سات افراد کو شیعہ اور دیوبندی فرقوں کے گروہوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں گولیاں لگیں۔

ملتان کے ضلعی رابطہ افسر زاہد سلیم گوندل کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ضلعے میں اتوار سترہ نومبر تک دفعہ ایک سو چوالیس نافذ رہے گی جس کے تحت پانچ سے زائد افراد کو جمع ہونے کی اجازت نہیں ہو گی اور ہوائی فائرنگ اور آتشیں ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی ہو گی۔

نوٹیفیکیشن میں صوبائی وزارتِ داخلہ سے استدعا بھی کی گئی ہے کہ موجودہ دفعہ ایک سو چوالیس میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔

اگرچہ مقامی پولیس اور سِول انتظامیہ نے اِس امکان کو رد کیا ہے کہ راولپنڈی کی طرح ملتان میں بھی کرفیو کا نفاذ زیرِغور ہے لیکن بی بی سی کے ذرائع کے مطابق، حالات کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد، صوبائی وزارتِ داخلہ کو کرفیو نافذ کرنے کی درخواست بھیج دی گئی ہے۔

ملتان کے ریجنل پولیس افسر امین وینس نے سنیچر کو رات گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ اتوار کی صبح سے بقول اُن کے ’کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ سڑکوں پر آ کر اِکٹھ (اجتماع) کریں‘۔

Image caption پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے فوج کے دستے پولیس کے شانہ بشانہ گشت کرتے رہیں گے

پولیس کے سربراہ نے حساس علاقوں کے نام دینے اور فوج سمیت مسلح اضافی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے تفصیل بتانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے متبادل منصوبہ بندی کر رکھی ہے‘۔

ملتان میں سنیچر کی صبح اُس وقت حالات قابو سے باہر ہوئے تھے جب بیرون شہر کے علاقے نالہ ولی محمد میں مقامی لوگوں نے ایک ویڈیو کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دکانیں بند کرانے کی کوشش کی۔

ضلعی رابطی افسر زاہد سلیم گوندل کے مطابق نالہ ولی محمد کے مشتعل لوگوں کو ان کے مطالبے پر درج ایف آئی آر بھی دکھائی گئی تاہم حالات بگڑ گئے اور علاقے میں فائرنگ ہوئی اور سات افراد زخمی ہوگئے۔

اس کے بعد اشتعال کی لہر پھیلتی چلی گئی اور دوپہر تک اندرون شہر سمیت، مرکزی چوک گھنٹہ گھر، مظاہروں کا مرکز بن گیا۔

سنیچر کی دوپہر کو اندرون شہر سے نکلنے والے مشتعل ہجوم نے چوک گھنٹہ گھر میں نصب اس قدیم علم کو سبوتاژ کر دیا جو مقامی شیعہ آبادی کے لیے مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے فوج کو طلب کر لیا۔

شام تک چوک گھنٹہ گھر سے مشتعل ٹولیوں کو منتشر کرنے کی کوششیں جاری تھیں کہ قریبی علاقے دولت گیٹ میں فائرنگ کی اطلاعات ملیں۔ پولیس اور فوج کی کئی گاڑیوں کو وہاں روانہ کیا گیا لیکن وہاں حالات قابو میں آنے تک مزید چار افراد زخمی ہو گئے۔

Image caption سنیچر کی دوپہر کو اندرون شہر سے نکلنے والے مشتعل ہجوم نے چوک گھنٹہ گھر میں نصب قدیم علم کو سبوتاژ کر دیا جو مقامی شیعہ آبادی کے لیے مذہبی اہمیت کا حامل ہے

ضلعی رابطہ افسر زاہد سلیم نے بتایا ’حالات افواہوں کے باعث خراب ہوئے اور مجموعی طور پر ستائیس افراد زخمی ہوئے‘۔

چوک گھنٹہ گھر کے مظاہروں کے دوران کسی مخصوص تنظیم کے جھنڈے یا علامات نظر نہیں آئیں۔ مظاہرے میں شریک زیادہ تر افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خود کو مقامی بتایا لیکن احتجاج کی وجوہات الگ الگ تھیں۔

علم کے سبوتاژ کیے جانے کے بعد چوک گھنٹہ گھر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے اندازاً تیس افراد بھی جمع ہو گئے جنہوں نے ڈنڈے، برچھیاں اور مشیٹی اُٹھائے ہوئے تاہم اِن مظاہرین کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے اور ان کے قریب سپیکروں پر نوحوں اور تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ سکیورٹی فورسز نے اِنہیں چوک گھنٹہ گھر سے دور ہی محصور کر لیا۔

بی بی سی کے ذرائع کے مطابق، صرف چوک گھنٹہ گھر کے گرد و نواح میں، فوج، پولیس اور ایلیٹ فورس کے چار سو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے میں گولی چلانے کے احکامات ہیں اور شہر میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔

پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے فوج کے دستے پولیس کے شانہ بشانہ گشت کرتے رہیں گے۔

انتظامیہ نے شیعہ سنی فرقوں کی مقامی قیادت سے ایک سمجھوتے پر دستخط کرائے ہیں جس میں طے کیا گیا ہے کہ توہین کرنے والوں، افواہیں پھیلانے والوں اور مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں