’جیسے ہی تھوڑی نرمی کی مولوی ٹائپ مشتعل لوگ آ گئے‘

Image caption راولپنڈی میں کئی افراد گھروں سے باہر ہونے کی وجہ سے کرفیو کے بعد گھر جانے سے قاصر ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں جمعے کے واقعے کے بعد سنیچر کو شہر میں صورتحال ایسی تھی کہ جیسے شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہو۔

شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے متاثرہ علاقے فوج کے کنٹرول میں ہیں جب کہ ان سے متّصل علاقوں میں خوف اور بے چینی کی فضا ہے۔

’کم از کم بچوں، عورتوں کو باہر نکلنے دیں‘

’سب جل کر راکھ ہو گیا تو فوج پہنچی‘

’پولیس خاموش تماشائی بنی رہی‘

شہر کی مرکزی شاہراہ مری روڑ کی جانب جانے والی ایک گلی کو رسّی کی مدد سے بند کیا گیا تھا اور وہاں فوج کے دو مسلح اہلکار تعینات تھے۔

اس دوران کچھ لوگ رسّی کے پاس آتے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد واپس چلے جاتے۔ لیکن ایک گروپ مسلسل وہیں پریشانی کی حالت میں کھڑا تھا۔

ان سے جب بات کی تو گویا وہ جذبات سے پھٹ پڑے ہوں۔ ایک شخص نسیم عباس نے بتایا کہ وہ اندرون شہر کے رہائشی ہیں اور اس وقت یہاں مجبوری کی حالت میں کھڑے ہیں کیونکہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں کرفیو کی وجہ سے کوئی جا نہیں سکتا اور وہاں محصور ان کے اہلخانہ خوف کا شکار ہیں اور ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔

’مکانات کو آگ لگائی گئی اور امام بارگاہ قدیمہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کچھ دیر پہلے ٹیلی فون پر اہلخانہ سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں دھمکی دی گئی ہے کہ آپ کے مکانات کو نذرآتش کر دیا جائے گا۔ اس صورتحال میں لوگ اپنی خواتین اور بچوں کو ایک مکان میں نہیں رکھ رہے اور مختلف مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘

قریب کھڑے ایک اور شخص سید ذیشان علی نے کہا کہ ’ کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو غذائی قلّت کا سامنا ہے، بچوں کے لیے دودھ نہیں ہے، ہمارے عزیز و اقارب خوفزدہ ہیں اور ہماری صرف حکومت سے یہ درخواست ہے کہ کم از کم وہاں سے بچوں اور عورتوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے۔‘

تاہم ان لوگوں کو تشویش اس بات پر زیادہ تھی کہ فرقہ وارانہ کشیدگی پورے شہر میں پھیل سکتی ہے۔’کچھ شرپسند عناصر گلی محلوں میں آ کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ کل ہمارے مسلک کے لوگوں کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی۔‘

ساتھ والی گلی میں ایک دکان کے سامنے ایک خاتون سمیت چند افراد بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار تھے۔ وہاں موجود خاتون نے کہا کہ ’ایسا واقعہ ہونا نہیں چاہیے تھا کیونکہ ہم سب مسلمان ہیں۔ مدرسے کے مولویوں کو چاہیے تھا کہ اپنے خطبے کو کچھ دیر کے لیے روک لیتے، یا اہل تشیع جلوس آگے لے کر چلے جاتے۔ مسلمان ہوتے ہوئے اگر برداشت نہیں تو جو کچھ کرنا ہے اپنے گھروں میں بیٹھ کر کرو۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اب لوگ باتیں کر رہے ہیں کہ کس طرح سے چھوٹے بچوں کو مارا گیا۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ کام شیعہ یا سنی مسلمانوں کا نہیں بلکہ کوئی تیسری طاقت ہے۔ لیکن ہم تو خوفزدہ ہو گئے ہیں اور بچوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو جائے۔‘

فوج کے زیر انتظام علاقے میں جانے کے لیے ایک چیک پوسٹ پر کھڑےایک فوجی اہلکار سے پوچھا کہ آگے جانے کا کوئی امکان ہے تو اس نے قریب ہی ایک ٹوٹے ہوئے گملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی نرمی کا نتیجہ یہ ہے۔

’کچھ دیر پہلے نرمی کی اور ایک ایک کرکے علاقے کے رہائشیوں کو آگے جانے کی اجازت دی تو مولوی ٹائپ مشتعل لوگ جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے آگے جانے کی کوشش کی۔‘

شہر میں سائرن بجاتی گاڑیاں، پریشان حال لوگ اور افواہوں کا گرم بازار اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اگر جلد ہی اس واقعے کے اصل محرکات سے عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا تو یہ کشیدہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں