راولپنڈی واقعہ منظّم طریقے سے کیا گیا، عالمی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں: مفتی نعیم

Image caption مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ مدرسے کے قیام سے آج تک کبھی یہاں سے کوئی فرقہ واریت کی بات نہیں ہوئی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے جامعہ بنوریہ کے مفتی محمد نعیم نے راولپنڈی میں یومِ عاشور پر ہونے والی کشیدگی کی مذمت کی اور اس کے پیچھے مغربی ممالک کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کیا۔

اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مفتی محمد نعیم کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی ذمہ داری سب سے پہلے مقتدر افراد پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے خصوصاً وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب اور وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

مفتی محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ پانچ مہینوں سے ان کے دنیا کے سفر ہی ختم نہیں ہوتے، ان کو کچھ پتا نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔‘

جمعے کو راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور پھر تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے جس کے بعد حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی تھی۔

راولپنڈی میں جمعے کی شب سے نافذ کرفیو کی مدت میں سنیچر کی شب مزید 23 گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا تھا جبکہ جمعرات سے معطل ہونے والی موبائل فون سروس بھی بحال نہیں کی گئی۔

مفتی محمد نعیم کا کہنا تھا کہ مدرسہ تعلیم القران راولپنڈی میں 1940 میں تعمیر کیا گیا اور تب سے آج تک اس مدرسے میں کبھی بھی فرقہ واریت کی بات نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو مشہور کیا جا رہا کہ وہاں پر لاؤڈ سپیکر پر فرقہ واریت کی باتیں ہوئیں اور اس کے بعد یہ واقعہ ہوا، یہ قطعاً غلط اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔‘

مفتی نعیم نے کہا کہ یہ واقعہ ’ایک منظّم طریقے سے کیا گیا اور اس میں عالمی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ مغرب چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو اور مذہب والوں کو، شیعہ اور سنّی دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس واقعے کے حالات کو انہوں نے دیگر ممالک میں جاری کشیدگی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ہی آپ عراق میں دیکھ رہے ہیں، بحرین میں دیکھ رہے ہیں، شام میں دیکھ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ’ایک طرف ملالہ زخمی ہو جاتی ہے تو سارا میڈیا شور کرتا ہے کہ تعلیم کو نقصان پہنچا ہے، کیا یہ تعلیمی ادارہ نہیں تھا؟ معصوم طلبہ کو شہید کیا گیا۔‘

اسی بارے میں