توہین عدالت: سیکریٹری دفاع کی اپیل مسترد، کارروائی ہو گی

Image caption اس مقدمے سے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے اس مقدمے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کی جانب سے توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل مسترد کردی ہے۔

سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کے وکیل افتخار گیلانی نے توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی تھی۔

سیکرٹری دفاع کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس عدالتی احکامات نہ ماننے پر دیا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک پر توہین عدالت کے مقدمے میں انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ آنے تک کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا۔

اس مقدمے سے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے اس مقدمے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف یاسین نے ان سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ میں دو جولائی کو بیان دیا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں 15 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروا دیا جائے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا جس کے بعد وہ اب اس مقدمے سے الگ ہو رہے ہیں۔

سیکرٹری دفاع نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ پاکستان کنٹونمنٹ بورڈ میں 15 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروا دیا جائے گا۔

آصف یاسین ملک کے وکیل افتخار گیلانی کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کروانا سیکرٹری دفاع کا نہیں بلکہ وزیرِاعظم کا کام ہے کیونکہ وزیرِ دفاع کا عہدہ بھی اُنھی کے پاس ہے۔

افتخار گیلانی کے مطابق ان کے موکل نے وزیرِاعظم کو متعدد بار سمری بھیجی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں