کوہاٹ:جلوس پر فائرنگ سے دو ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

Image caption راولپنڈی شہر کے مختلف علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کے بعد فوج تعینات کر دی گئی ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں ایک جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری ہلاک اور متعدد لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام نے کشیدگی کے پیشِ نظر کوہاٹ میں فوج طلب کر کے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

حکام نے کوہاٹ سے متصل ضلع ہنگو میں چندگھنٹے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا لیکن اب کرفیو ہٹا لیا گیا ہے۔

ہنگو میں بازار اب بھی بند ہیں اور حکام اب اعلانات کر رہے ہیں کہ حالات اب پرامن ہیں اور لوگ گھروں سے باہر آ سکتے ہیں۔

راولپنڈی میں کرفیو، دیگر شہروں میں کشیدگی

راولپنڈی میں فسادات اور دکانیں نذر آتش: تصاویر

کوہاٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے راولپنڈی میں دس محرم کو ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جلوس نکالا تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ پیر کو تقریباً 12 بجے جلوس پر ایک امام بارگاہ کے قریب فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد نے تیراہ بازار میں دکانوں کو آگ لگا دی جب کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بازار بند ہوگئے۔

انھوں نے کہا پولیس نے سکیورٹی کے پیشِ نظر شہر کے داخلی راستے بند کر دیے ہیں اور انتظامیہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

عسکری ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کوہاٹ اور ہنگو کی انتظامیہ کی درخواست پر وہاں فوج بھیج دی گئی۔

خیال رہے کہ محرم الحرام سے پہلے خیبر پختونخوا میں جن چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا ان میں کوہاٹ بھی شامل ہے۔

دیگر حساس اضلاع میں پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو شامل تھے۔

اسی بارے میں