پنڈی فسادات: امام مسجد کے خطبے کی کیسٹ مل گئی، ٹی وی فوٹیج طلب

Image caption کمیشنر راولپنڈی کے مطابق منگل کو راولپنڈی میں تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو شہر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں اور اس واقعے میں ملوث 40 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق منگل کو فوارہ چوک کے قریب سے ایک لاش ملی ہے جس سے مرنے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

اس سے قبل شہر میں نافذ کیا جانے والا کرفیو ختم ہونے پر پیر کو احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے تھے۔

’جہاں میں ہوں وہاں صرف خوفناک افواہیں ہیں‘

’کشیدگی میں بعض سرکاری اہلکاروں کا کردار مشکوک‘

’ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے‘

حکومتِ پنجاب کی درخواست پر راولپنڈی میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے جسٹس مامون رشید شیخ پر مشتمل ایک رکنی عدالتی کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے۔ جسٹس مامون رشید شیخ نے کمیشن کے سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ واقعے سے متعلق نجی ٹی وی چینلوں کی ویڈیو فوٹیج پیش کی جائے۔

حکام کے مطابق منگل کو راولپنڈی کے علاقے مغل آباد میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ہے، تاہم اس میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ شہر کے مرکزی علاقے راجہ بازار اور کالج روڈ میں رینجرز اور فوج کے اہلکار اب بھی موجود ہیں۔

پنجاب کے صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ تعلیم القرآن کے امام کے خطبے کی آڈیو کیسٹ حاصل کر لی گئی ہے اور اب متعلقہ حکام اس کا جائزہ لیں گے کہ آیا اس میں کوئی ایسی( متنازع) بات ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ گرفتاریاں شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں کسی فرقے کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ منگل کی صبح پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر تسلی بخش حفاظتی انتظامات نہ کیے جانے کی بنا پر ریجنل پولیس افسر راولپنڈی زعیم اقبال شیخ اور سٹی پولیس افسر بلال صدیق کمیانہ کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

منگل کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی خالد مسعود چوہدری نے کہا کہ شہر میں صورتِ حال قدرے پر امن ہے تاہم دفعہ 144 اب بھی نافذ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یومِ عاشور پر ہونے والی پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے ذمہ داران کو پکڑنے کے لیے پولیس کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تقریباً 40 افراد کو اب تک زیرِ حراست لے لیا گیا ہے۔

Image caption راولپنڈی شہر کی جانب جانے والے تمام مرکزی راستے کرفیو کے باعث بند کر دیے گئے تھے

دفعہ 144 اٹھانے کے بارے میں کمشنر راولپنڈی نے کوئی حتمی وقت دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ان جھڑپوں کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری کی صورت میں شہر میں مختلف عناصر امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اسی لیے دفعہ 144 ابھی تک نافذ ہے۔

خالد مسعود چوہدری نے بتایا کہ شہر کے چند متاثرہ علاقوں میں رینجرز کو تعینات کرنے کا مقصد املاک کی حفاظت کرنا اور غیر ضروری افراد کو جائے وقوع سے دور رکھنا ہے۔

راولپنڈی کی پولیس کے مطابق پیر کی صبح کرفیو اٹھائے جانے کے بعد شہر میں جمعے کو ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔راجہ بازار اور کالج روڈ کے علاقے میں سینکڑوں مظاہرین نے متاثرہ مدرسے کے باہر اور راجہ بازار کے علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اسی بارے میں