سرکاری طور پر نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ آج ہو گا: عمران خان

Image caption عمران خان اس سے پہلے بھی ڈرون حملوں پر شدید احتجاج کر چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس آج جمعہ کو ہو رہا ہے جس میں نیٹو سپلائی کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس بات کا اعلان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نےجعمرات کو امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا تھا۔

عمران خان نے ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ موجودہ حکومت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک روز پہلے وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز بیان دیتے ہیں کہ امریکہ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک طالبان سے مذاکرات ہوں گے اس وقت تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہو گا۔

’امریکہ نے اس بیان کا یہ جواب دیا ہے، یعنی کہ وہ ان کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے، امریکہ کو ان کی فکر نہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ انھوں نے اوپر سے مذمت کرنی ہے اور اندر سے ان کو اجازت دی ہوئی ہے۔‘

خیال رہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بدھ کو سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں کہا تھا کہ امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطابق ڈرون حملہ قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہے اور سنیچر کو پشاور کے رنگ روڑ پر احتجاجی مظاہرہ ہو گا اور اس کے بعد نیٹو سپلائی روکی جائے گی۔

’پہلے تو نیٹو سپلائی تحریک انصاف بند کرنے جا رہی تھی اور اس میں سب سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی لیکن جمعرات کے ڈرون حملے کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ہم سرکاری طور پر نیٹو سپلائی بند کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری سرزمین پر حملہ ہوا ہے۔‘