اسلام آباد: افغان کونسل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

Image caption افغان امن کونسل کو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے

افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان امن کونسل کے چیئرمین صلاح الدین ربانی کی سربراہی میں چار رکنی وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

اس ملاقات میں افغانستان اور خطے کی سکیورٹی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

کیا ملا برادر کی رہائی محض علامتی تھی؟

طالبان رہنما ملا برادر کو رہا کردیا گیا: پاکستان

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغان امن کونسل کے ترجمان محمد انور عشق زئی کا کہنا ہے کہ طالبان کے امیر ملا عمر کے سابق نائب ملا برادر سے ملاقات کے لیے ایک وفد بدھ کو پاکستان پہنچا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وفد نے بدھ کو ملا برادر سے ملاقات کی ہے یا نہیں۔ افغان امن کونسل کو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ وفد کے ہمراہ افغان وزارت خارجہ اور داخلہ کے کچھ اہلکار بھی ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے ماہ لندن میں افغان امن مذاکرات کے حوالے سے سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت افغان امن کونسل اہم طالبان کمانڈر ملا برادر سے ملاقات کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔

واضح رہے کہ ملا برادر کو ستمبر میں افغانستان میں امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے طور پر پاکستان کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ ماضی میں طالبان کے سپریم رہنما کے نائب رہنے والے ملا برادر کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کسی سے بھی مل سکتے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا ہے کہ برادر اب بھی زیر حراست ہیں اور ان کے بقول پاکستان کے سکیورٹی حکام گذشتہ مہینے کہہ چکے ہیں کہ برادر کو کراچی کے ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔

افغان حکام کا خیال ہے کہ اگر ملا برادر کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو وہ طالبان رہنماؤں کو 12 سال سے جاری شدت پسندی ختم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

افغان صدر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے کابل کا پہلا دورہ کرنے کی ہامی بھری ہے لیکن اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں