کراچی: اجمل پہاڑی اور اکرم لاہوری کے مقدمے کے سرکاری وکیل پر ’حملہ‘

Image caption عبدالمعروف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ اپنی رہائش تبدیل کرتے رہے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سرکاری وکیل عبدالمعروف ایڈووکیٹ پر حملے کی کوشش کی گئی ہے۔

عبدالمعروف اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

عبدالمعروف ایڈووکیٹ صحافی ولی بابر، ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار اجمل پہاڑی اور فرقہ وارانہ شدت پسندی میں ملوث قرار دیے گئے اکرم لاہوری کے خلاف مقدمات میں ریاست کی پیروی کرتے رہے ہیں۔

’اجمل پہاڑی، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث‘

عبدالعروف ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل ہی انہوں نے اجمل پہاڑی کے خلاف چارج شیٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کی ہے، جن کو سو سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

ڈیفنس کے علاقے میں جمعرات کی صبح پانچ بجے کے قریب کچھ لوگ عبدالمعروف کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کمرے میں گھسنے کی کوشش کی، جس پر انھوں نے فائرنگ کر دی جس میں ایک حملہ آور زخمی ہوگیا جس کو اس کے ساتھی لے کر فرار ہوگئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ عبدالمعروف کے مطابق سی آئی ڈی پولیس اور آئی جی سندھ نے انھیں آگاہ کیا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور وہ کچھ دہشت گرد گروہوں کے نشانے پر ہیں۔ اس کے بعد انھیں تین محافظ فراہم کیے گئے جو رات کو چلے جاتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں۔ لیکن اس واقعے کے بعد اب رات کو بھی محافظ تعینات کیے جائیں گے۔

عبدالمعروف ایڈووکیٹ گذشتہ 19 سالوں سے وکالت سے وابستہ ہیں اور وہ پچھلے دو سالوں سے کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں سرکاری وکیل کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ اپنی رہائش تبدیل کرتے رہے ہیں اور اکثر اہلخانہ سے الگ رہتے ہیں۔

عبدالمعروف صحافی ولی بابر کے مقدمے میں بھی سرکار کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں صوبائی حکومت کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے ولی بابر کا مقدمہ کراچی سے کندھ کوٹ منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

جیو نیوز چینل سے وابستہ صحافی ولی بابر کو جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت ہلاک کیا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔

ولی بابر مقدمے کے چشم دید گواہ اور تفتیشی افسر سمیت اب تک چھ افراد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔

لشکر جھنگوی کے رہنما اکرم لاہوری سمیت کالعدم تحریک طالبان کے اراکین کے خلاف دائر کئی مقدمات کی پیروی بھی عبدالمعروف کے ذمے ہیں، کئی بار سرکاری وکلا کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث کچھ نے سرکار کی وکالت چھوڑ دی تھی۔