پنڈی میں یومِ احتجاج پر لوگوں کی تشویش اور خوف

Image caption جمعے کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے کئی سکولوں اور کالجوں میں تعطیل ہوگی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے رہائشی ابھی گذشتہ جمعہ کی فرقے وارانہ جھڑپوں اور کرفیو کی صورتِ حال سے باہر نکل نہیں پائے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے جمعے کو یومِ احتجاج اور یومِ امن کے اعلانات نے انھیں دوبارہ تشویش اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

راولپنڈی کے شہریوں کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے کارروبار اور روزانہ کے معمولات پھر سے تعطل کا شکار نہ ہو جائیں۔گذشتہ ہفتے کے فسادات کے خلاف سنی تنظیمیں یومِ احتجاج اور شیعہ یومِ امن منا رہے ہیں۔ اسلام آباد کی لال مسجد سے بھی فسادات پر احتجاج کے لیے ایک احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔

راولپنڈی: کرفیو میں نرمی کے باوجود شہر میں خوف و ہراس

راولپنڈی: ’حالات میں بہتری،‘ متعدد افراد گرفتار

انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی سکولوں اور کالجوں میں جمعے کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی میں کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں کے مطابق احتجاج کے راستوں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی۔

گذشتہ ہفتے ہونے والی فرقہ وارانہ جھڑپوں سے متاثرہ علاقے کی جانب جانے والی سڑکوں پر ٹریفک معمول سے زیادہ نظر آتی ہے، لیکن متاثرہ علاقے کی حدود میں داخل ہوتے ہی کاروباری سرگرمیاں ماند نظر آتی ہیں۔

راولپنڈی کے معروف راجہ بازار کے قریب جامعہ تعلیم القرآن کی جانب جانے والے راستے بند ہیں اور وہاں رینجرز اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

ناکے پر کھڑے رینجرز کے اہلکار کے مطابق حکام کے علاوہ کسی شخص کو مسجد کی جانب جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جمعرات کو چند اعلیٰ افسران نے مسجد کا دورہ کیا جن میں نقصانات کا جائزہ لینے والے حکام اور اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرنے والے جسٹس بھی شامل ہیں۔

جامعہ تعلیم القرآن کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات تھی۔ اس کے علاوہ فائر بریگیڈ اور سرکاری امدادی ادارے 1122 کے اہلکار بھی وہاں تیار کھڑے نظر آئے۔

وہاں موجود ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق امدادی ادارے کی جانب سے کلیئرنس ملنے تک کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہاں تعینات موجود رینجرز اہلکاروں کا ناکوں کی تصاویر لینے پر رویہ خاصا سخت تھا۔

مدرسہ تعلیم القرآن سے پندرہ سے بیس منٹ پیدل فاصلے پر امام بارہ قدیمی واقع ہے اور اس کے درمیان دو مساجد ہیں ان میں سے ایک جامع مسجد روڑ پر واقع تقریباً ایک سو سال قدیم جامعہ مسجد حنفیہ ہے۔ اس مسجد کے باہر سکیورٹی کے کوئی خاص انتظامات نہیں تھے اور ایک شخص آنے جانے والے افراد کو ایک جانب بیٹھا دیکھ رہا تھا۔

Image caption راولپنڈی کے معروف راجہ بازار کے قریب جامعہ تعلیم القرآن کی جانب جانے والے راستے بند ہیں

اس مسجد کی انتظامیہ کے اہلکار محمد صدیق الحسنین سیالوی کے مطابق جمعرات کو محکمۂ اوقات کے اہلکار اور لاہور سے صوبائی رہنما بھی موجود تھے اور انھوں نے پرامن رہنے پر اتفاق کیا اور کہا کہ ’ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ساری عوام تک پرامن رہنے کا پیغام پہنچانا ہے۔‘

اس مسجد سے چند منٹ پیدل فاصلے پر واقع ایک مسجد میں حالات پرسکون نظر آئے۔ اس سے آگے امام بارگاہ روڑ پر امام بارگاہ قدیمی ہے جس کی جانب جانے والے راستے پر رینجرز کے اہلکار تعینات تھے اور سڑک پر تاریکی تھی۔

وہاں موجود رینجرز اہلکاروں کا رویہ خاصا سخت تھا اور وہاں کسی شخص سے بھی بات کرنے کی اجازت نہ تھی اور سختی تھی کہ اگر ناکے کی تصویر لینی ہے تو پچاس سو گز پیچھے جا کر لیں۔

اس دوران ایک مقامی شخص راجہ اعجاز حسین سے حالات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس دوران رینجرز کا ایک اہلکار پہنچ گیا اور کہا کہ یہاں کسی کا انٹرویو نہیں ہو سکتا۔

تاہم راجہ اعجاز حسین نے کہا کہ وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں:’گذشتہ جمعے کو یہاں مشتعل ہجوم کے آنے سے پولیس اہلکار بھاگ گئے تھے لیکن اب امید کرتے ہیں کہ اگر کچھ ہوتا ہے تو یہاں موجود رینجرز کے اہلکار بھاگیں گے نہیں۔‘

راولپنڈی میں کاروباری طبقہ خاص طور پر مرکزی علاقے میں کافی پریشان نظر آیا۔

ایک دکان دار عارف مغل نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جمعے کو مذہبی جماعتوں کا احتجاج پرامن رہے گا اور ابھی تک ایسی ہی اطلاعات ہیں، لیکن ’گذشتہ سات روز سے کاروبار 70 سے 80 فیصد متاثر ہوا ہے کیونکہ گاہک اس طرف آنے سے اب بھی گھبرا رہے ہیں۔‘

اسی طرح راجہ بازار میں ایک تاجر محمد زاہد نے بتایا: ’جمعے کے ہنگاموں کی وجہ سے حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور گاہکوں نے اس جانب آنا کم کر دیا ہے اور اگر جمعے کا دن خیرت سے گزر گیا تو حالات ممعول پر آ جائیں گے۔‘

اپنے اہلخانہ کے ساتھ موجود آصف کے بقول ان کی 40 سالہ زندگی میں راولپنڈی میں اس طرح کے ہنگامے نہیں ہوئے اور اس وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں اور جمعے کو دوبارہ مظاہروں کے اعلان پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ لوگ ڈرے ڈرے ہیں۔

’میرے خیال میں فریقین کو مظاہرے نہیں کرنے چاہییں اور مل بیٹھ کر اس معاملے کو حل کرنا چاہیے کیونکہ یوم عاشور پر ہنگاموں میں شیعہ یا سنی ملوث نہیں تھے اور کوئی اور عناصر تھے اور اب جمعے کو اجتماع میں کوئی بھی شرپسند کوئی حرکت کر دے تو پوری دنیا میں عوام ایک جیسی ہوتی ہے اور توڑ پھوڑ پر اتر آتی ہے۔‘

راولپنڈی کے زیادہ تر لوگوں اس بات پر متفق نظر آئے کہ پرامن احتجاج کا حق سب کو ہے لیکن اس کے ساتھ ان خدشات کا ذکر بھی کیا کہ اس احتجاج میں تھوڑی گڑ بڑ صورت حال کو دوبارہ خراب کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں