’دریائے سندھ سے لوگ اب ڈرنے لگے ہیں‘

Image caption پچھلے سال دریا تھوڑا دور تھا لیکن اس دفعہ تو وہاں تک چلا گیا جہاں ہمارا ٹیوب ویل لگا تھا۔ نصر اللہ

صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی کے ایک گاؤں کے قریب نصراللہ زمین میں دفن اپنے ٹیوب ویل کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے اردگرد کی زمین بالکل بنجر اور بے آباد نظر آ رہی ہے۔ دریائی ریت پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہیں اور دور دور تک سبزے کا نام و نشان نہیں ہے۔

اس بنجر زمین پر کبھی کھیت لہلہاتے تھے۔ پھر گرمیوں میں دور سے بہتا دریائے سندھ قریب آیا، پھر اور قریب اور پھر ایک رات نصراللہ کی زمین اور گھر میں داخل ہو گیا۔ پندرہ روز بعد دریا تو اس مقام سے پانچ کلومیٹر دور اپنے اصل راستے پر واپس چلا گیا لیکن جاتے جاتے جو دس فٹ موٹی ریت کی تہ بچھا گیا اس نے نصراللہ کی زمین کو ہمیشہ کے لیے بنجر کر دیا۔

ان دنوں کا قصہ سناتے نصرااللہ کا آنکھوں میں نمی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

گلیشیئرز کے سکڑنے کا سلسلہ جاری

’ہم دیکھ رہے تھے کہ دو تین دن سے دریا آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا۔ اسی لیے میں اپنے بچوں اور بوڑھی ماں کو رشتہ داروں کے گھر لے گیا۔ میرے والد گھر پر رہ گئے تھے اور انہوں نے فون پر بتایا کہ پانی کے زور سے مکان کے بعض کمرے گر گئے ہیں۔‘

نصراللہ کا گاؤں دریائے سندھ سے پانچ سے چھ کلومیٹر دور واقع ہے لیکن گرمیوں میں جب کوہ ہمالیہ کے گلیشئیر پگھلتے ہیں تو اس دریا کے پھیلاؤ میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ نصرللہ کے گاؤں تک پہنچ جاتا ہے۔

اور اس پھیلاؤ میں، نصراللہ کے بقول اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

’پچھلے سال دریا تھوڑا دور تھا لیکن اس دفعہ تو وہاں تک چلا گیا جہاں ہمارا ٹیوب ویل لگا تھا۔ وہ ٹیوب ویل اب دس فٹ زمین کے اندر دبا ہے۔‘

Image caption پچھلے تیس سال میں بعض گلیشیئرز دو سے تین کلومیٹر تک سکڑ گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ، ڈاکٹر غلام رسول

یہ صرف ایک نصراللہ کی کہانی نہیں ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے میدانوں میں دریائے سندھ جس بھی علاقے سے گزرتا ہے اس کے مکین اس دریا سے خوف کھانے لگے ہیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ، ڈاکٹر غلام رسول ان گلیشئیر پر ہونے والی ایک تحقیق کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑوں پر واقع گلیشئیز کے حجم میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

’پچھلے تیس سال میں بعض گلیشیئرز دو سے تین کلومیٹر تک سکڑ گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔‘

ڈاکٹر غلام رسول کے بقول گلیشئیرز کے پگھلنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور دوسری گلیشیئرز کی سیفد برفیلی سطح سے چپکی سیاہ کاربن۔

ڈاکٹر غلام رسول اس کاربن کی اتنی بلندی تک پہنچے کے بارے میں بھی تحقیق کر چکے ہیں۔

’یہ کاربن بھارت کی لوہے کی صنعت سے نکلنے والا کالا دھواں ہے جو شمال کی جانب چلنے والی ہواؤں کے ساتھ ان گلیشئیرز تک آتا ہے اور پھر ان پر جم جاتا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ برف کی سطح سیاہ ہونے کے باعث دھوپ اس سے منعکس ہونے کے بجائے اس میں جذب ہو جاتی ہے جس کے وجہ سے ان گلیشئرز کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔

ڈاکٹر غلام رسول کے بقول ’درجہ حرارت بڑھنے سے ان گلیشئر کے سروں پر برف پگھلتی ہے اور ان کے حجم میں کمی ہونے لگتی ہے۔‘

یہ کمی کتنی تیزی سے ہو رہی ہے؟ اس بارے میں عالمی ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن تازہ تحقیق سے واقف ڈاکٹر غلام رسول ان گلیشئرز کے مستقبل سے اتنے بھی مایوس نہیں جتنے بعض عالمی محققین۔

’گلیشئیرز کے وہ حصے جو بہت بلندی پر واقع ہیں اور جہاں درجہ حرارت کبھی نقطہ انجماد سے نہیں گرتا وہ پگھلنے کے اس عمل کا شکار نہیں ہیں۔‘

گلیشئرز کے پگھلنے کی رفتار پر ماہرین کے درمیان اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن نصراللہ کو یہ سمجھنے کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس کی زمینوں سے میلوں دور بہنے والا دریا، اس کے گھر کے اندر تک کیوں گھس آتا ہے۔

اسی بارے میں