کراچی: دو دھماکوں میں چار افراد ہلاک

Image caption زخمیوں کو عباسی شہید اور ایک نجی ہپستال منتقل کیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے انچولی میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں چار افراد ہلاک اور پندرہ سے زائد زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکے جمعے کی رات گیارہ بجکر پچیس منٹ پر شیعہ آبادی کے علاقے انچولی میں چائے کے ہوٹل کے باہر ہوئے۔

کراچی: مذہبی جماعتوں کا احتجاج اور مظاہرے

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق دھماکے سے سگریٹ پان کی ایک کیبن اور دو موٹر سائیکلیں شدید متاثر ہوئیں۔

زخمیوں کو عباسی شہید اور ایک نجی ہپستال منتقل کیا گیا۔

عباسی ہپستال کے میڈیکل لیگ افسر نےدھماکے میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے لگے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ اور رینجرز حکام کو ہدایت کی ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور لوگوں کی جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انھوں نے دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان واقعات سے ملزمان کے خلاف جاری آپریشن متاثر نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ کراچی میں چودہ نومبر کو بھی دو امام بارگاہوں پر تین بم حملوں میں کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان میں کئی سالوں سے دہشت گردی کی لہر جاری ہے اور گزشتہ جعمہ کو راولپنڈی کے راجہ بازار میں واقع مدرسہ تعلیم القران میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کراچی میں جمعہ کی رات ہونے والے بم دھماکے اس وقت ہوئے جب آج ہی کے دن وفاق المدراس لعربیہ نے راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں