چیئرمین نیب چوہدری قمر زمان کے خلاف کارروائی کا حکم

Image caption قمر زمان چوہدری کا اکتوبر میں چیئرمین نیب کے طور پر تقرر کیا گیا تھا

سپریم کورٹ نے نیشنل انشورنس کمپنی یعنی این آئی سی ایل میں زمین کی خریداری کے مقدمے میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین چوہدری قمر زمان اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران کے علاوہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریئنز کے صدر کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں ان افراد نے نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے بلکہ سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی پہنچایا ہے۔

چودہری قمر زمان نیب کے نئے چیئرمین نامزد

چیئرمین نیب کی تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلینج

مخدوم امین فہیم کے خلاف کارروائی کا حکم

مونس الہٰی عدم ثبوت کی بنا پر بری

عدالت کا کہنا ہے کہ نیب کے موجودہ چیئرمین چوہدری قمر زمان جب ایڈیشنل سیکرٹری تجارت تھے تب انہوں نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر قواعد و ضوابط سے ہٹ کر ایاز خان نیازی کی بحثیت چیئرمین این آئی سی ایل کی تقرری کی منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے سیکرٹری داخلہ کی حثیت سے بھی اس مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

عدالت نے آئی آئی سی ایل کے چیئرمین ایاز نیازی کی تقرری کے بارے میں کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محسن وڑائچ اور امین قاسم کو وطن واپس لانے کا حکم دیا ہے۔ محسن وڑائچ سابق وفاقی وزیر حبیب اللہ وڑائچ کے صاحبزادے ہیں۔

اس مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ظفر قریشی نے کی تھی جن پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق حکومت دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ اس مقدمے سے الگ ہوجائیں۔ تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت پر انہیں اس کیس کی تفتیش دوبارہ سونپی گئی تھی۔

اس از خودنوٹس کی کارروائی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے اور رکن پنجاب اسمبلی مونس الٰہی کے خلاف کارروائی کی گئی تھی تاہم عدالت نے اُنہیں اس مقدمے میں بےگناہ قرار دیا گیا۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے اکاؤنٹ سے چار کروڑ روپے برآمد کیے تھے۔

ماہر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر چوہدری قمر زمان پر چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کی پابندی نہیں ہے، لیکن اب وہ اخلاقی طور پر اس عہدے پر فائض نہیں رہ سکتے۔

Image caption چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کے بعد فیصلہ سُناتے ہوئے سابق وزیر تجارت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ چیئرمین نیب ایک آئینی عہدہ ہے اور اُن کی برطرفی کے لیے بھی وہی طریقۂ کار اختیار جاتا ہے جس طرح سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی برطرفی کے لیے کیا جاتا ہے یعنی اُن کا معاملہ بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا جاتا ہے۔ ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت موجودہ چیئرمین نیب سے کہہ سکتی ہے کہ وہ اخلاقی طور پر اس عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کی مداخلت پر قومی احتساب بیورو کے تین سربراہوں کو اس عہدے سے الگ ہونا پڑا۔ ان میں نوید احسن، جسٹس ریٹائرڈ دیدار حیسن شاہ اور ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کے بعد فیصلہ سُناتے ہوئے سابق وزیرِ تجارت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

جن اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے ان میں چیئرمین نیب کے علاوہ وفاقی سیکرٹری نرگس سیٹھی، سابق وفاقی محتسب ٹیکس عبدالرؤف چوہدری، سابق سیکرٹری اسماعیل قریشی اور سابق سیکرٹری تجارت سلمان غنی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 2010 میں این آئی سی ایل میں زمین کی خریداری میں اربوں روپے کی گھپلوں کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر از خودنوٹس لیا تھا۔

منگل آٹھ اکتوبر کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان چوہدری قمر زمان کو قومی احتساب بیورو کا چیئرمین بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔

این آئی سی ایل میں ہونے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اب تک اس مقدمے میں دو ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی رقم موصول ہوچکی ہے، جب کہ ابھی اس مقدمے میں موجودہ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم سے چار کروڑ روپے کی رقم کی وصولی باقی ہے۔

اسی بارے میں