پی آئی اے کے پائلٹ کو حد سے زیادہ شراب پینے پر سزا

پی آئی اے کا جہاز
Image caption عرفان فیض کو پی آئی اے کی ایئربس کے کاک پٹ سے گرفتار کیا گیا

برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان ایئر لائنز کے پائلٹ کو پرواز سے پہلے مقررہ حد سے زیادہ شراب پینے کے الزام میں نو ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

پی آئی اے کے پائلٹ عرفان فیض کو رواں برس ستمبر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ برطانیہ کے لیڈز بریڈفورڈ ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی ایئربس اڑا کر پاکستان روانہ ہونے والے تھے۔

لیڈز کی کراؤن کورٹ کے جج جسٹس پیٹر کولسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عرفان فیض نے مقررہ حد سے زیادہ شراب پی کر لوگوں زندگیوں کو خطرے میں ڈالا اور اگر انہیں بروقت گرفتار نہ کیا جاتا تو اس کے خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ پائلٹ عرفان فیض نے پرواز کے لیے مقرر کردہ حد سے ساڑھے چار گنا زیادہ شراب پی رکھی تھی اور جب وہ جہاز کی طرف جا رہے تھے تو ان کے منہ سےشراب کی بو آ رہی تھی اور قدم لڑکھڑا رہے تھے۔

عرفان فیض کے وکیل بیرسٹر پال گرینی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل زیادہ مے نوشی کے عادی نہیں ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے خاندان کے افراد کو اغوا کی دھمکیوں کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ میں تھے۔

عرفان فیض نے پاکستان ایئرلائنز کے ایک پائلٹ شاہد حسین کو اپنے دفاعی گواہ کے طور پر پیش کیا تاکہ وہ عدالت کو بتا سکیں کہ وہ اچھی شہرت رکھنے والے پائلٹ ہیں اور پاکستان ایئر لائنز کے شراب نوشی سےمتعلق کیا قواعد ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پاکستان کے ایک باعزت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور 25 سال سے پی آئی اے میں ملازم ہیں۔

دفاعی گواہ شاہد حسین نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے کے موجودہ قواعد کے مطابق پائلٹ کو پرواز سے 12 گھنٹے پہلے شراب سے دور رہنا ضروری ہے لیکن اس سے پہلے یہ وقفہ آٹھ گھنٹے کا تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محفوظ پرواز کے لیے 12 گھنٹے کا وقفہ انتہائی ناکافی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل برطانیہ کے پرواز کے دوران شراب نوشی سے متعلق قواعد سے آگاہ نہیں تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ یہ سمجھنےسے قاصر ہیں کہ برطانیہ سے پرواز کرنے والے پائلٹ شراب نوشی کے قواعد سے لاعلم تھا۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر اس پائلٹ کو پرواز سے پہلے گرفتار نہ کیا جاتا تو اس کے انتہائی خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔