احتجاج پرامن طور پر منتشر، شہریوں نے سکھ کا سانس لیا

Image caption پورے ملک میں احتجاج پرامن رہا اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی

پاکستان بھر میں وفاق المدارس العربیہ کی اپیل پر یومِ عاشور کے موقعے پر راولپنڈی میں فرقہ وارانہ تصادم کے خلاف احتجاج کی کال پر ہونے والے مظاہرے پرامن طریقے سے ختم ہو گئے ہیں اور ملک کے کسی حصے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

راولپنڈی میں اس موقعے پر شدید خوف و ہراس پایا جاتا تھا اور جمعہ خیریت سے گزر جانے پر شہریوں نے اور خاص طور پر تاجر برادری نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں اہم شاہراہوں کو انتظامیہ نے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔

جمعے کو شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور فوج کی موجودگی کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

راولپنڈی کے راجہ بازار میں واقع مدرسہ تعلیم القران میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی مدرسے کے باہر اہل سنت و الجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی نے نماز جمعہ پڑھائی۔

وفاق المدارس العربیہ کے علاوہ چند اور تنظیموں نے جمعے کی نماز کے بعد یومِ عاشور پر ہونے والے واقعے کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔ کراچی اور دیگر کئی شہروں میں مدرسوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔

Image caption اسلام آباد میں یہ مظاہرہ لال مسجد سے شروع ہو کر پریس کلب پر ختم ہوا

راولپنڈی شہر میں کاروباری مراکز اور سکول بند رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔

حساس مقامات پر پولیس کی بھارت نفری تعینات رہی، جب کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوج بھی چوکس تھی۔ دارالحکومت اسلام آباد میں حساس علاقوں کو جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں لال مسجد سے احتجاجی جلوس نکلا جو نیشل پریس کلب پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے شرکا نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

کراچی میں بھی تمام مارکیٹیں اور کاروباری ادارے بند رہے جب کہ پولیس کی بھاری نفری گشت کرتی رہی۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات میں مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی مختلف مذہبی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔