نیٹو سپلائی کی بندش کا آغاز آج سے: تحریک انصاف

Image caption سپلائی کی مرکزی بندش پشاور میں حیات آباد ٹول پلازہ کے قریب رنگ روڈ پر جاری رہے گی

پاکستان تحریک انصاف نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے جانے والی رسد کے راستوں پر اتوار سے دھرنے شروع ہو گئے ہیں۔

جماعت کی مرکزی سیکریٹری برائے اطلاعات شیرین مزاری کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے کارکن اتوار کی رات سے منتخب جگہوں پر نیٹو کنٹینروں کو روکیں گے۔

ڈرون حملوں کے خلاف پی ٹی آئی کا دھرنا: تصاویر

’عمران خان پوائنٹ سکورنگ میں آگے نکل گئے‘

بیان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینروں کی آمد و رفت روکی جائے گی اور یہ بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہو گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ کارکن مختلف مقامات پر نیٹو کے کنٹینروں کی آمد و رفت کو روکیں گے تاہم مرکزی بندش حیات آباد ٹول پلازہ کے قریب رنگ روڈ پر ہو گی۔

مقامی نجی ٹی وی چینلز کی دکھائے جانے والے مناظر میں تحریک انصاف کے کارکن کنٹینرز اور ٹرکوں کو روک رہے ہیں اور ان کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پشاور میں افغانستان جانے والی شاہراہ پر سو کے قریب تحریک انصاف کے کارکن جمع ہیں جو ٹرکوں کو روک کر سامان کے دستاویزات چیک کر رہے ہیں۔

ایجنسی کے مطابق ایک سینیئر پولیس اہلکار محمد فیصل کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن سامان کی تلاشی اور دستاویزات چیک کر کے غیر قانونی اقدام کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس ان کارکنوں کو روکنے کا اختیار نہیں ہے۔‘

ادھر میڈیا سیل تحریک انصاف خیبر پختونخوا سے جاری ہونے والے ایک بیان میں تحریک انصاف کے صوبائی ترجمان اشتیاق ارمڑ نے کہا ہے کہ رسد روکنے کے لیے صوبے میں پانچ اضلاع میں دھرنے دیے جائیں گے جن پشاور میں حیات آباد ٹول پلاز ہ کے علاوہ خیر آباد پل، صوابی اور چارسدہ میں موٹر وے انٹر چینج اور ڈیرہ اسماعیل خان ٹول پلازہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کو افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کی بندش کے لیے پشاور میں دیے جانے والے دھرنے کے موقع پر عمران خان نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے روکے جانے کی یقین دہانی تک دھرنا جاری رہے گا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ بات پشاور کے رنگ روڑ پر جلسے کے آغاز سے قبل کہی۔ تاہم جلسے سے خطاب میں انہوں نے ڈرون حملے بند ہونے تک احتجاج پورے ملک میں شروع کرنے کا عندیہ دیا۔

جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا ’امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے اس وقت تک خیبر پختونخوا سے شروع ہونے والے احتجاج پورے ملک میں شروع ہو گا۔‘

Image caption صوبے کی حکومت بھی نیٹو سپلائی روکنے پر غور کرے: عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن اور اتحادی صوبے سے نیٹو سپلائی نہیں جانے دیں گے لیکن صوبے کی حکومت بھی نیٹو سپلائی روکنے پر غور کرے۔

’ڈرون حملہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہے اور اس کی نامعلوم افراد کے خلاف آیف آئی آر درج کرائی گئی ہے لیکن ہمیں پتا ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے، اس لیے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں سپلائی بند کرنے پر غور کریں، میرے خیال میں حکومت کو نیٹو سپلائی بند کرنی چاہیے۔‘

عمران خان نے اپنی تقریر میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی تاریخ کی بارے میں واضح نہیں کیا۔ اس سے پہلے جمعرات کو بھی عمران خان نے کہا تھا کہ صوبائی کابینہ کے جمعے کو ہونے والے اجلاس میں نیٹو سپلائی بند کرنے پر غور کریں گے۔

عمران خان کے جلسے سے خطاب کے بعد صوبے میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’صوبے سے سنیچر سے نیٹو سپلائی اس وقت تک بند رہے گی جب تک ڈرون امریکی ڈرون حملے بند نہیں کیے جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں