ایک جرم، دو قانون

منشیات کی اسمگلنگ پر سعودی عرب میں ایک اور پاکستانی کا سر قلم کر دیا گیا۔

جب کبھی بھی سعودی عرب سے کسی پاکستانی کے سر قلم کیے جانے کی خبر آتی ہے تو میرے ذہن میں دو نوجوانوں کی شکلیں گھوم جاتی ہیں۔ ایسے دو نوجوانوں کی شکلیں جنھیں میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ ان کے ساتھ ایک محلے میں رہتا تھا اور ان ہی گلیوں میں کھیلتا تھا جن میں وہ کھیلا کرتے تھے۔

دونوں کے نام تو ظاہر نہیں کیے جا سکتے لیکن ایک گورا چٹا پٹھان لڑکا تھا اور دوسرا ایک عیسائی گھرانے کا چشم و چراغ۔

دونوں اچانک غائب ہو گئے۔ کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ دونوں راولپنڈی میں سرگرم منشیات اسمگل کرنے والے ایک گروہ کے چکر میں آ گئے تھے۔

پٹھان لڑکے کو جو کہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور گھر کا واحد سہارا تھا، ہیروئن دے کر سعودی عرب روانہ کیا گیا۔ جبکہ عیسائی لڑکے کو لندن بھیجا گیا۔

دونوں جہاز سے اترتے ہیں دھر لیے گئے۔ پٹھان لڑکے پر سعودی عرب کے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور اس پر جرم ثابت ہو گیا۔

عیسائی لڑکے پر برطانوی قانون کے تحت مقدمہ چلنے کے بعد اسے ہیروئن اسمگل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔

پٹھان لڑکے کو موت کی سزا ہوئی اور اس کے گھر والوں کو پیغام موصول ہوا کہ اگر اس کی لاش چاہیے تو اتنی رقم بھجوا دی جائے۔ بدقسمت گھرانے کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ لاش منگوانے کے لیے رقم بھجوا سکتے لہذا رو دھو کر صبر کرنے پر مجبور ہو گئے۔

عیسائی لڑکے کو قید کی سزا سنائی گئی لیکن کئی برس تک نہ اس کے گھر والوں نے کچھ بتایا نہ ہی اس کے قریبی دوستوں کو اس کی طرف سے کوئی پیغام موصول ہوا۔

لیکن ایک دن اچانک وہ عیسائی لڑکا پاکستان واپس آ گیا۔ برطانیہ میں قید کے دوران اس نے جیل میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر لی تھی اور واپس پہنچنے کے کچھ دن بعد اسے ایک نجی کمپنی میں ملازمت بھی مل گئی۔

اسی بارے میں