پولیس تشدد کے خلاف وکلا کی ہڑتال جاری

Image caption وکلا کا مطالبہ ہے کہ ان پر ہونے والے تشدد کی عدالتی تحقیقات کی جائے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے بدھ کے روز وکلا پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں کی عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال جاری ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ ہڑتال پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر کی جا رہی ہے۔

پنجاب کے بیشر شہروں میں وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے جبکہ ملک کے باقی صوبوں میں جزوی ہڑتال ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عادلت میں ممبئی حملوں سے متعلق مقدمہ کی سماعت بھی نہیں سکی۔

وکلا کا مطالبہ ہے کہ ان پر ہونے والے تشدد کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے اس واقعے سے متعلق ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا جبکہ متعلقہ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق اس واقعے کا روزنامچے میں اندراج کیا گیا ہے اور مقدمہ اعلیٰ افسران کے حکم پر ہی درج ہوگا۔

بدھ کو سپریم کورٹ کی عمارت کے احاطے میں وکلا اور عمارت کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہوئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس جھڑپ میں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد سمیت دس پولیس اہلکار اور متعدد وکلا زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع کے وکلا اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں لاہور ہائی کورٹ کے بینچ تشکیل دیے جائیں۔

ان شہروں میں گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، سرگودھا اور فیصل آباد شامل ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی تھی جب سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر موجود وکلا کو باہر جانے کے لیے کہا گیا۔

پاکستان بار کونسل کے نائب چیرمین سید قلب حسن نے ایک پریس ریلیز میں ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وکلا پرامن احتجاج کر رہے تھے جب پولیس نے ان کے خلاف جارحانہ کارروائی کی۔

پریس ریلیز کے مطابق پولیس نے نہ صرف مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا بلکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔

ان واقعات کے پیشِ نظر پاکستان بار کونسل نے ملک بھر میں وکلا برداری سے 27 نومبر کو ہڑتال کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

یاد رہے کہ صوبۂ پنجاب کے مختلف شہروں میں لاہور ہائی کورٹ کے بینچ تشکیل دینے کے سلسلے میں صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے فیصلہ سامنے آ چکا ہے تاہم اس سلسلے میں کابینہ کی جانب سے اب تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں