پاکستانی فوج کے سپہ سالار: جنرل میسروی سے جنرل کیانی تک

جنرل میسروی پاکستان کے پہلے جب کہ جنرل کیانی 14ویں سپہ سالار بنے۔ سیاست دانوں کے فیصلوں، جرنیلوں کی تقرریوں اور پاکستانی تاریخ میں آنے والے مد و جزر پر ایک نظر۔

سانولے ملک کا گورا افسر

15 اگست 1947 تا دس فروری 1948

لیفٹیننٹ جنرل سر فرینک والٹر میسروی کو قائم مقام فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستانی فوج کا پہلا سربراہ نامزد کیا گیا۔

انھی کے دور میں 22 اکتوبر 1947 کو آپریشن گلمرگ شروع ہوا اور پاکستانی قبائلی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا سری نگر کے مضافات تک پہنچ گیا۔

تاہم کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو ریاست کی ’سٹینڈ سٹل پوزیشن‘ ترک کر کے جموں میں بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے اور اگلے دن بھارتی گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے الحاق قبول کرنے کے فوراً بعد بھارتی دستے سری نگر میں اترنے لگے اور قبائلی لشکر کو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔

جنگِ کشمیر یکم جنوری 1949 کو ’جو جہاں ہے وہیں رک جائے‘ کے اصول کے تحت اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے تھمی۔ تاہم جنرل میسروی کی 35 سالہ فوجی ملازمت کی معیاد دس فروری 1948 کو دورانِ جنگ ہی ختم ہوگئی۔

نہ جنرل میسروی نے توسیع مانگی اور نہ ہی گورنر جنرل یا وزیرِاعظم کی جانب سے کوئی بیان آیا کہ لڑائی کے بیچ میں گھوڑا بدلنا ٹھیک نہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارتی گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن اور کمانڈر انچیف سر روب لاک ہارٹ جنرل میسروی سے خوش نہیں تھے کیونکہ میسروی نے انھیں قبائلیوں کی پیش قدمی کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا تھا۔

مگر جنرل میسروی کا موقف تھا کہ وہ ایسی رازدارانہ معلومات صرف پاکستانی گورنر جنرل اور حکومت کو دینے کے پابند ہیں۔

جنرل میسروی کا انتقال دو فروری 1974 کو انگلستان میں ہوا۔

آخری انگریز کمانڈر

11 فروری 1948 تا 16 جنوری 1951

جب پاکستان وجود میں آیا تو جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی کو کمانڈر انچیف جنرل میسروی کا ڈپٹی نامزد کیا گیا چنانچہ جنرل میسروی کی ریٹائرمنٹ کے بعد گریسی بری فوج کے اگلے کمانڈر انچیف بن گئے۔

ان کے دور میں کشمیر کے محاذ پر بھارت اور پاکستان کے درمیان عسکری دھکم پیل تو جاری رہی لیکن فوجی قیادت چونکہ دونوں جانب برٹش انڈین افسروں کے پاس تھی لہٰذا کسی بڑی اور بھرپور جنگ کا امکان قابو میں رہا۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان کی سیاسی قیادت کا اصرار تھا کہ کشمیر میں قبائلیوں کی مدد کے لیے باقاعدہ فوجی دستے بھیجے جائیں لیکن جنرل گریسی نے یہ موقف اختیار کیا کہ جس طرح ڈومینین کے گورنر جنرل کو تاجِ برطانیہ نے نامزد کیا ہے اسی طرح ڈومینین کا کمانڈر انچیف بھی تاجِ برطانیہ کا نامزد کردہ ہے اور یہی آئینی صورت سرحد پار ہندوستان میں بھی ہے۔ چنانچہ تاجِ برطانیہ کی رضامندی کے بغیر گورنر جنرل اور کمانڈر انچیف فوج کو ڈومینین کی حدود سے باہر پیش قدمی کا حکم نہیں دے سکتے اور وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ مہاراجہ کشمیر ہندوستان سے بہ رضا و رغبت الحاق کر چکے ہیں۔

گورنر جنرل محمد علی جناح نے شاید اسی قانونی مشکل کے پیشِ نظر جزبز ہونے کے باوجود جنرل گریسی کو ان کے عہدے سے ہٹانے یا اختیارات کا معاملہ بادشاہ کے سامنے لے جانے سے پرہیز کیا ہوگا۔ چنانچہ جنرل گریسی 16 جنوری 1951 کو کشمیر میں جنگ بندی کے ایک برس بعد اپنی باقاعدہ مدتِ ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہوئے۔

ان کا انتقال پانچ جون 1964 کو انگلستان میں ہوا۔

پہلا دیسی چیف

17جنوری 1951 تا 26 اکتوبر 1958

اگر جائے پیدائش کوئی معیار ہے تو پھر جنرل سر ڈگلس گریسی پہلے دیسی کمانڈر انچیف تھے جو متحدہ ہندوستان کے ضلع مظفر نگر میں پیدا ہوئے لیکن اگر مقامیت و نسل معیار ہے تو پھر ایوب خان پاکستانی فوج کے تیسرے مگر اول دیسی سربراہ گردانے جائیں گے جو متحدہ ہندوستان کے علاقے ہری پور کے گاؤں ریحانہ میں پیدا ہوئے۔

ان کے نام کے ساتھ صرف یہی نہیں بلکہ کئی ’اوّل‘ لگے ہوئے ہیں، جیسے پاکستان کے اول حاضر سروس فوجی وزیرِ دفاع ، اول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، اول فوجی وزیرِ اعظم ( 24 تا 27 اکتوبر 1958)، اول فوجی صدر، اول فائیو سٹار جنرل ( فیلڈ مارشل ) جن کے دور میں اولین بھرپور پاک بھارت جنگ لڑی گئی اور اول جنرل جنھوں نے اقتدار کسی سویلین کی بجائے ایک اور جنرل کو منتقل کیا۔

ایوب خان کے والد میر داد خان رسالدار میجر تھے۔ کچھ عرصہ ایوب خان نے علی گڑھ یونیورسٹی میں بھی گزارا مگر فوج میں کمیشن ملتے ہی وہ تعلیم نامکمل چھوڑ کر عسکری تربیت کے لیے سینڈ ہرسٹ اکیڈمی روانہ ہوگئے۔

جب پاکستان بنا تو بریگیڈیئر ایوب خان سنیارٹی کے اعتبار سے دسویں نمبر پر تھے۔ سنہ 1948 میں میجر جنرل بنے اور اگلے برس کمانڈر مشرقی پاکستان کی ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ سنہ 1951 میں انھیں لیفٹیٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پہلے چیف آف جنرل سٹاف جنرل افتخار خان (میجر جنرل اکبر خان کے بھائی) کا نائب بنا دیا گیا۔

جنرل گریسی کے بعد سنیارٹی کے اعتبار سے جنرل افتخار خان کو ہی بری فوج کا پہلا مقامی سربراہ بننا تھا لیکن وہ ایک اعلیٰ عسکری کورس میں شرکت کے لیے انگلستان جاتے ہوئے 13 دسمبر 1949 کو ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ چنانچہ جنرل گریسی ریٹائر ہوئے تو ایوب خان کو اگلے دن فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر بری فوج کی سربراہی سونپ دی گئی۔

گو نئے ملک میں سنیارٹی کے اعتبار سے میجر جنرل اکبر خان سب سے تجربہ کار افسر تھے اور انہوں نے کشمیر کی جنگی منصوبہ بندی میں خاصا اہم کردار بھی ادا کیا لیکن وہ اور جنرل گریسی ایک دوسرے سے خوش نہیں تھے چنانچہ قیادت کا ہما ایوب خان کے سر پر بیٹھ گیا۔

دوسری جانب کشمیر میں ناکامی سے دل برداشتہ جنرل اکبر خان بعد ازاں راولپنڈی سازش کیس میں ایک اور میجر جنرل نذیر احمد کے ساتھ ماخوذ ہوئے۔ جب کہ میجر جنرل اشفاق المجید کا نام بھی پنڈی سازش کیس میں ڈالا گیا لیکن پھر نکال دیا گیا۔ پنڈی سازش کیس ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کے بعد سامنے آیا۔ مذکورہ تینوں جنرل ایوب خان سے سینئیر تھے۔

جنرل گریسی کے سابق اے ڈی سی میجر جنرل ریٹائرڈ وجاہت حسین کے بقول سنہ 1956 کے اوائل میں جب ان کی گریسی سے لندن میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا ’ایوب ملک پر کب قبضہ کر رہا ہے ؟‘

گریسی کے بقول انہوں نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو خبردار کردیا تھا کہ ذرا دھیان رکھنا، ایوب اونچی ہواؤں میں ہے۔

ایوب خان کی ڈائریوں کا ڈیفنس جرنل میں ریویو کرنے والے نقاد جمیل ماجد کے مطابق ایوب خان نے دوسری عالمی جنگ کا اختتامی عرصہ برما کے محاذ پرگزارا۔

اس ضمن میں برٹش کامن ویلتھ آفس کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں ایک نوٹ یہ بھی شامل ہے کہ برما میں لیفٹیننٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب لیفٹیننٹ کرنل ایوب خان کو رجمنٹ کی کمان سونپی گئی لیکن جنگی حکمتِ عملی میں بزدلانہ ناکامی کے سبب ان سے کمان واپس لے کر لیفٹیننٹ کرنل ہیو پیئرسن کے حوالے کردی گئی اور ناقص کارکردگی پر ایوب خان کی ملازمت سے چھٹی کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔

سنہ 1969 میں ایوب خان کی صدارت سے سبک دوشی کے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد برٹش ہائی کمیشن نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کو جو نوٹ بھیجا اس کے مطابق ایوب خان عسکری حکمتِ عملی کے حساب سے اوسط درجے کے افسر تھے۔ روزمرہ گفتگو میں بھی وہ اپنی سابقہ فوجی زندگی کا تذکرہ اکثر ٹال جاتے اور دورے پر آنے والے فوجی افسروں سے ملاقات کے بھی خاص متمنی نہیں رہتے تھے، مبادا ان کا عسکری عِلم آشکار نہ ہوجائے۔

بہرحال کمانڈر انچیف بننے کے بعد ان کے سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا اور گورنر جنرل غلام محمد کے ساتھ گاڑھی چھننے لگی کیونکہ تینوں سیاستدانوں سے بیزار تھے۔ اس اثرو رسوخ کے سبب یہ چمتکار بھی ہوا کہ اکتوبر 1954 میں محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں حاضر سروس کمانڈر انچیف کو دس ماہ کے لیے وزیرِ دفاع کا قلم دان بھی مل گیا ۔

(ایوب خان کے پاس وزارتِ دفاع کا قلمدان 20 اکتوبر 1958 کو بطور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دوبارہ آگیا اور پھر یہ عہدہ انہوں نے اگلے آٹھ برس یعنی 21 اکتوبر 1966 تک اپنے پاس ہی رکھا اور پھر یہ اسے ایڈمرل اے آر خان کے حوالے کردیا۔)

بوگرہ حکومت تو چلتی ہوگئی لیکن ایوب خان کوسنہ 1955 میں بطور کمانڈر انچیف چار برس کی مزید توسیع مل گئی۔ جون 1958 میں جب دوسری توسیعی مدت ختم ہونے میں سال بھر باقی تھا، انھیں صدر سکندر مرزا کے دباؤ پر فیروز خان نون حکومت سے مزید دو برس کی پیشگی توسیع مل گئی، حالانکہ فیروز خان نون اگلا کمانڈر انچیف میجر جنرل نواب زادہ جنرل شیر علی خان پٹودی کو دیکھ رہے تھے اور بقول الطاف گوہر کمانڈر انچیف ایوب خان کو یہ گوارا نہ تھا جن کا فوجی علم بقول جنرل شیر علی پٹودی محض بیرک اور بٹالین تک محدود تھا۔

(جنرل شیر علی کو 1958 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملائشیا میں ہائی کمشنر بنا کر بھیج دیا گیا اور دس برس بعد وہ یحییٰ خان کے وزیرِ اطلاعات بن کر نمودار ہوئے اور جماعتِ اسلامی کی مدد سے نظریۂ پاکستان کو وہ شکل دی جس سے آج ہم سب واقف ہیں۔انھی کے دور میں اسلام پسند کی اصطلاح بھی مارکیٹ کی گئی)۔

سات اکتوبر 1958 کو جب صدر سکندر مرزا نے کمانڈر انچیف ایوب خان کو پہلا ملک گیر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بظاہر لگتا تھا کہ مارشل لا سکندر مرزا کی خواہش پر لگا۔ لیکن برطانوی دفترِ خارجہ کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق کراچی میں متعین برطانوی فوجی اتاشی نے یہ نوٹ لکھا کہ سات اکتوبر کے مارشل لا کی منصوبہ بندی دو ہفتے پہلے راولپنڈی میں سینیئر آرمی افسروں کا ایک گروپ کر چکا تھا۔ ایک اور سفارتی نوٹ کے مطابق ایوب خان نے کئی مہینے پہلے ہی کہنا شروع کردیا تھا کہ صورتِ حال اور بگڑی اور اگلے انتخابات میں تسلی بخش نتائج کے آثار نظر نہ آئے تو فوج کو بادلِ ناخواستہ کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔

الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ سکندر مرزا نے مارشل لا کے نفاذ سے بہت پہلے وزیرِ خزانہ ملک امجد علی اور کمانڈر انچیف ایوب خان کو یہ فرض سونپا کہ وہ امریکیوں کو بتائیں کہ اگر فروری 1959 میں عام انتخابات ہوئے تو کمیونزم کی طرف جھکاؤ رکھنے والی بائیں بازو کی قوتوں کی کامیابی کا واضح خطرہ ہے۔ ایوب خان نے یہ جتانے کے لیے مارشل لا سے چھ ماہ قبل اپریل میں امریکہ کا دورہ کیا۔

مارشل لا کے نفاذ کے دو روز بعد چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر نے اسکندر مرزا کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم دونوں متفق ہیں کہ ملک شدید بحران کی طرف جارہا تھا لہٰذا مجبوراً مداخلت کرنا پڑی۔ لیکن جس صدر پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے برملا اعتماد کا اظہار کیا اسی صدر کو مارشل لا کے 20ویں روز جنرل واجد علی برکی، جنرل کے ایم شیخ اور جنرل اعظم خان وغیرہ نے پستول کی نال پر استعفے پر دستخط کروا کے براستہ تہران لندن جانے والی پرواز پر بٹھا دیا۔

(ایوب خان کے نام سے شائع ہونے والی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ ایسی ناخوشگوار تفصیلات سے خاصی پاک ہے۔)

سپاہی جرنیل

27 اکتوبر 1958 تا 17 ستمبر 1966

ایوب خان جب ازخود ترقی پا کر چیف مارشل لا ایڈمنٹسٹریٹر اور پھر صدر بن گئے تو انھیں ایک نئے کمانڈر انچیف کی تلاش ہوئی۔ پانچ نام سامنے تھے: میجر جنرل حبیب اللہ خان خٹک ( جنرل علی قلی خان کے والد ) ، میجر جنرل شیر علی خان پٹودی، میجر جنرل لطیف خان، میجر جنرل آدم خان اور میجر جنرل محمد موسیٰ۔لیکن جنرل موسیٰ کو پانچویں سے پہلے نمبر پر پروموٹ کرتے ہوئے شاید کچھ باتیں شعوری و لاشعوری طور پہ ایوب خان کے پیشِ نظر رہی ہوں گی۔ جیسے دیگر تمام امیدواروں کے برعکس جنرل محمد موسیٰ کا تعلق چھوٹی سی ہزارہ برادری سے تھا، چنانچہ یہ توقع کی جانی چاہیے تھی کہ اس پس منظر کے ساتھ جنرل موسیٰ صرف کام سے کام رکھیں گے۔ جنرل موسیٰ برٹش آرمی میں رینکر کے طور پر بھرتی ہوئے تھے۔ بعد ازاں اپنی محنت اور لگن سے دہرہ دون اکیڈمی میں کمیشن حاصل کیا جبکہ ان کے دیگر ساتھی جرنیل ڈائریکٹ کمیشنڈ آفیسر تھے۔

مگر جنرل موسیٰ عسکری تاریخ میں اس لحاظ سے یاد رکھے جائیں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ پہلی بڑی جنگ میں کمانڈر انچیف تھے۔ یہ الگ بات کہ جنگ کے کلیدی فیصلے جی ایچ کیو کے بجائے ایوانِ صدر میں ہوتے رہے۔ یہ ایسی جنگ تھی جو پاکستان نے خود پر تھوپی اور جس کا راستہ فوجی قیادت کے بجائے ایوب خان کی طفیلی سویلین قیادت نے دکھایا اور پھر اس جنگ کو ڈرائنگ بورڈ سے اتار کے فوج کو تھما دیا۔

جنرل موسیٰ اپنی کتاب’ مائی ورژن‘ میں لکھتے ہیں کہ اپریل میں رن آف کچھ کے محاذ پر جزوی کامیابی کےنتیجے میں حکومت نے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور سیکرٹری خارجہ عزیز احمد کے تجزیوں کی روشنی میں آپریشن جبرالٹر منظم کیا۔

تجزیہ یہ تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف سنہ 1967 تک ایک بھرپور جنگ چھیڑنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ لہٰذا کشمیر میں چھاپہ مار داخل کیے جائیں تو وہاں کی آبادی بھارت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی اور جنگ ہوئی بھی تو لائن آف کنٹرول ہی محاذ ِجنگ رہے گا۔ بھارت چین کے ڈر سے جنگ کو بین الاقوامی سرحد تک نہیں پھیلائے گا۔

جنرل موسیٰ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اور میجر جنرل شیر بہادر نے اس تجزیے سے اختلاف کرتے ہوئے زور دیا کہ اس قسم کی مہم جوئی کے بعد کے کسی غیر متوقع ردِعمل سے نمٹنے کے لیے کم ازکم دو اضافی فوجی ڈویژن درکار ہوں گے تاہم وزیرِ خزانہ محمد شعیب نے دو نئے فوجی ڈویژن کھڑے کرنے کے لیے وسائل کی فراہمی سے معذوری ظاہر کی لیکن جنگ کے فوراً بعد جانے کہاں سے دو نئے ڈویژن کھڑے کرنے کے لیے وسائل پیدا ہوگئے۔

دفترِ خارجہ کے تجزیاتی سحر میں مبتلا ایوب خان نے جنرل موسیٰ سے کہا کہ آپ بھی دل پکڑ لیں، رن آف کچھ میں جو کچھ ہوا اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ ہندو میں ابھی لمبی لڑائی کا حوصلہ نہیں ہے اور دفترِ خارجہ کا تجزیہ ہے کہ جنگ محدود ہی رہےگی۔ چنانچہ منصوبے کے مطابق اگست میں آپریشن جبرالٹر کے تحت اس توقع پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گوریلا سپاہی بھیجے گئے کہ وادی کے لوگ انھیں دیکھتے ہی بھارتی فوجیوں پر پل پڑیں گے اور باہر نکال پھینکیں گے۔ اس کے فوراً بعد آپریشن گرینڈ سلیم شروع کیا جائے گا اور اکھنور پر قبضہ کر کے کشمیر کو بھارت سے کاٹ کے وادی کو پانچ بھارتی فوجی ڈویژنوں کے لیے چوہے دان بنا دیا جائے گا۔

اگرچہ جنرل موسیٰ یہ سکرپٹ ہضم کرنے پر آمادہ نہیں تھے لیکن انہوں نے ایوب خان اور ان کی ٹیم کے ارادے دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ تاہم ان کے اندازے غلط نہیں تھے۔

جیسے ہی آپریشن جبرالٹر کے بعد آپریشن گرینڈ سلیم شروع ہوا خوش فہم اندازے تاش کی گڈی کی طرح بکھرتے چلے گئے۔ بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں عام کشمیری تو درکنار خود پاکستان نواز قیادت تک کو نہیں بتایا گیا کہ ہوشیار باش، ہم تمہاری آزادی کے لیے آ رہے ہیں۔ آخری وقت میں سرکردہ کشمیری رہنما چوہدری غلام عباس کو سکرپٹ کے بارے میں اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے بھی اس عجلت کا ساتھ دینے سے معذوری ظاہر کردی۔

جب پانچ اور چھ ستمبر کے درمیان بھارت نے بین الاقوامی سرحد پار کی تو یہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے لیے اچنبھے کی بات ثابت ہوئی۔ ویسے تو جنگ 17 روز چلی مگر ساتویں دن سے ہی پاکستان بیجنگ سے نیویارک تک یہ جنگ جلد از جلد رکوانے کے لیے متحرک ہوگیا اور پھر ایوب خان کا ستارہ گردش میں آتا چلا گیا۔

تاشقند میں جنگ سے پہلے کی پوزیشن بحال ہوئی۔ ایوب خان تادمِ مرگ بھٹو اینڈ کمپنی کو کوستے رہے اور جس نے انھیں پھنسوایا تھا۔

چنانچہ جنگ اور پھر امداد کی روک نے آنے والے برسوں میں پاکستان کے اقتصادی مستقبل کو سوالیہ نشان بنا کے رکھ دیا۔ اس دوران مشرقی پاکستانیوں کو بھی پتہ چل گیا کہ فوج کی ساری توجہ صرف اور صرف مغربی پاکستان بچانے پر مرکوز ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ دورانِ جنگ مشرقی حصہ بھارتی فوجی منصوبہ سازوں سے اوجھل رہا۔

جنرل محمد موسیٰ 17 ستمبر 1966 کو کمانڈر انچیف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو انھیں مغربی پاکستان کا گورنر بنا دیا گیا اور نئے کمانڈر انچیف کی ذمہ داریاں آغا محمد یحییٰ خان نے سنبھالیں۔

سنہ 1985 میں جنرل موسیٰ بلوچستان کے گورنر بنے اور 12 مارچ 1991 کو اسی عہدے پر ان کا انتقال ہوا۔

انہوں نے ’جوان ٹو جنرل‘ کے نام سے خود نوشت اور ’مائی ورژن‘ کے نام سے 65 کی جنگ سے پہلے اور بعد کے حالات قلمبند کیے۔

جنرل آغا مدہوش

18 ستمبر 1966 تا 20 دسمبر 1971

جب جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ ہوا تو سنیارٹی میں وہ لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر اور بختیار رانا کے بعد تیسرے نمبر پر تھے۔ البتہ یحییٰ خان کی شہرت فوجی حلقوں میں ایک منتظم اور پروفیشنل فوجی کی تھی۔ انھوں نے کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کی انتظامی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نئے دارلحکومت اسلام آباد کو وجود میں لانے کی بنیادی ذمہ داریاں بھی انھی ہی سونپی گئیں، البتہ 65 کی لڑائی میں عسکری پلاننگ کے اعتبار سے جی ایچ کیو اور ایوانِ صدر میں جو سٹریٹیجک کنفیوژن پیدا ہوا اس کی ایک مثال یہ بھی تھی کہ آپریشن گرینڈ سلیم کے دوران اکھنور کی جانب میجر جنرل اختر حسین ملک کی کمان میں پیش قدمی کرنے والے سیونتھ ڈویژن کی کمان عین دورانِ جنگ جنرل ملک سے لے کر جانے کیوں یحییٰ خان کے حوالے کردی گئی اور پیش قدمی رک گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جہانداد خان اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان نے ان سے کہا کہ اگر ایوب نے بے لگام عیاشی کے اسیر یحییٰ کو کمانڈر انچیف بنایا تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کرے گا۔ یحییٰ خان کے کمانڈر انچیف بننے سے چار ماہ قبل ہی ان کے بارے میں برٹش ہائی کمیشن کے ایک شخصی تجزیے میں بتایا گیا کہ وہ ایک باصلاحیت مگر رنگین مزاج افسر ہے۔ 26 مارچ 1969 کو یحییٰ خان کے چیف مارشل لا ایڈمنٹسٹریٹر بننے کے پہلے روز امریکی محکمہ خارجہ کو ارسال کردہ انٹیلی جنس نوٹ میں بتایا گیا کہ وہ ناؤ نوش اور جنسی بے اعتدالیوں کی شہرت رکھتے ہیں۔

تو کیا یہ ماجرا فیلڈ مارشل ایوب خان سے پوشیدہ رہا ہوگا؟ پھر بھی ایوب خان نے جب انتقالِ اقتدار کا فیصلہ کیا تو اپنی ہی خودساختہ قومی اسمبلی کے بنگالی سپیکر کو قائم مقامی سونپنے کی بجائے اقتدار پیٹی بھائی کو تھما دیا۔ الطاف گوہر کے بقول یحییٰ خان نے ایوب خان کو یہ کہہ کے شیشے میں اتارا کہ تین ماہ میں سیاسی ایجی ٹیشن سے نمٹ کر سب کو ٹھونک پیٹ کر اقتدار پھر سے ان کے حوالے کر دیا جائےگا۔ چنانچہ ایوب خان سبکدوشی کے بعد بھی اسی امید پر رہے۔

نو اپریل کو برطانوی ہائی کمشنر سرل پیکارڈ نے ایوب خان سے ملاقات کا جو احوال فارن آفس کو ارسال کیا اس کے مطابق ایوب خان کی رائے یہ تھی کہ یحییٰ ایک ٹھوس، محتاط اور قابلِ اعتماد شخص ہے۔

مگر محض چھ ماہ بعد ایوب خان کی رائے بدلنے لگی۔ 13 ستمبر 1969 کو ایوب خان اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ذمہ دار اہلِ خبر کا کہنا ہے کہ یحییٰ دوپہر ایک بجے ہی دفتر چھوڑ کے لہو و لعب میں جٹ جاتا ہے۔ 12 نومبر 1969 کی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ میرے اور صدر کے مشترکہ معالج کرنل محی الدین کا کہنا ہے کہ یحییٰ کا شراب کے بنا گزارا نہیں اور شام کے بعد کی محفلوں میں اس کے ساجھے دار جنرل حمید اور جنرل ایم ایم پیرزادہ ہیں۔ 24 فروری 1970کی ڈائری میں ایوب خان لکھتے ہیں کہ جنرل کے ایم شیخ نے انہیں بتایا کہ صدر کا زیادہ وقت محفل آرائی، جام اور عورتوں کے ساتھ گزر رہا ہے۔

2 فروری 1971 کی ڈائری کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ کو دی گئی دعوت میں صدر اس قدر مدہوش تھے کہ انہیں پتلون گیلی ہونے کا بھی احساس نہ رہا۔ سات ستمبر 1971 کی ڈائری کے مطابق پشاور چھاؤنی میں اسٹینڈرڈ بینک کے علوی برادرز کے پیسے سے بننے والی یحییٰ خان کی رہائش گاہ کے افتتاح کی خوشی میں کئی دن محفلِ ہاؤ ہو اور جنسی دھما چوکڑی جاری رہی۔

19 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے جانے کے تین روز بعد ایوب خان نے ڈائری لکھی کہ یحییٰ کا گھر اور فرنیچر مشتعل ہجوم نے جلا دیا۔ مگر یہ ایک بہت ہی افسوس ناک مثال قائم ہو رہی ہے۔ 21 دسمبر کو یحییٰ خان کی معزولی کے ایک روز بعد کی ڈائری میں ایوب خان لکھتے ہیں کہ اس کی دھوکہ دہی اور عدم وفاداری کے باوجود مجھے اس کے اس طرح جانے پر صدمہ ہے۔

یحییٰ خان بھٹو دورِ حکومت میں راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ کے گھر میں علامتی نظربند رہے۔ جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی نظربندی ختم کردی۔

انتقال کے بعد دس اگست 1980 کو نشانِ پاکستان، ہلالِ پاکستان اور ہلال ِ جرات یافتہ یحیی خان کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔

آخری کمانڈر انچیف

20 دسمبر 1971 تا دو مارچ 1972

پاکستان کے پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر ذوالفقار علی بھٹو نے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو یحییٰ خان کی سبکدوشی کے بعد 20 دسمبر 1971 کو بری فوج کا کمانڈر انچیف نامزد کیا لیکن محض ڈھائی ماہ بعد اس عہدے سے برطرف کر کے ان کی مراعات و اعزازات ضبط کر لیے گئے۔

وجہ یہ بتائی گئی کہ جسٹس حمود الرحمان کمیشن نے ان کی سبکدوشی کی سفارش کی ہے مگر چند ماہ بعد انہیں آسٹریا میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا۔

کسی نے جنرل گل حسن سے پوچھا کہ جس نے برطرف کیا اسی کی سفارت کیوں قبول کر لی۔ جواب ملا کہ یہ نہ کرتا تو میرے میس کے بل کیسے ادا ہوتے؟

اپریل 1977 میں جب بھٹو حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو گل حسن نے یونان میں سفیر کے عہدے سے احتجاجاً استعفی دے دیا، چنانچہ ایف آئی اے نے ان پر حکومت کے بارے میں نفرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا۔

گل حسن نے اپنی زندگی ’میموارز‘ کے نام سے قلم بند کی۔

وہ طبعاً ایک ڈسپلنڈ ملنگ تھے۔ زندگی کے آخری برس ویانا اور جی ایچ کیو کے آرٹلری میس کے دو کمروں کے درمیان بسر ہوئے۔

ترکے میں بس 13 لاکھ روپے چھوڑے۔ 11 لاکھ بیوی کے لیے اور ایک ایک لاکھ اکلوتے بیٹے اور اپنے اردلی امتیاز کے لیے۔

دس اکتوبر1999 کو فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین ہوئی ۔

پہلا چیف آف سٹاف

3 مارچ ا1972 تا 1 مارچ 1976

گل حسن کی برطرفی کے ساتھ ہی نوآبادیاتی دور کا کمانڈر انچیف چیف آف آرمی سٹاف کہلانے لگا۔اس لحاظ سے پہلے چیف جنرل محمد ٹکا خان بنے اور انھوں نے چار برس کی مدتِ عہدہ مکمل کی۔

دہرہ دون ملٹری اکیڈمی کے گریجویٹ ٹکا خان کی وجہِ شہرت مشرقی پاکستان کے فوجی کمانڈر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر 25 مارچ 1971 کا آپریشن سرچ لائٹ ہے جس کے ذریعے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔

ان سے یہ فقرہ بھی منسوب ہے کہ ’مجھے لوگ نہیں زمین چاہیے۔‘ تاہم ایک ماہ بعد ہی ٹکا خان کو مغربی پاکستان واپس بلا لیا گیا اور جب دسمبر 71 میں بھارت سے لڑائی شروع ہوئی تو ٹکا خان ملتان کور کی کمان کر رہے تھے۔

بطور چیف آف آرمی سٹاف وہ بھٹو حکومت کے مکمل وفادار رہے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ٹکا خان کو وزیرِ دفاع بنا دیا گیا۔ ان کے دور میں بھٹو حکومت نے بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری رکھا جو ضیاء الحق کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد معطل ہوا۔

جب بھٹو حکومت معزول ہوئی تو ٹکا خان کو بھی احتیاطی حراست میں لے لیا گیا۔ 80 کی دہائی میں وہ جنرل ضیا کی معتوب پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور کئی دفعہ گرفتار ہوئے۔

بےنظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں وہ گورنر پنجاب رہے۔

28 مارچ 2002 کو انتقال کے بعد فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین ہوئی اور بےنظیر بھٹو نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ٹکا خان نے سخت محنت اور قانون کے احترام کی بدولت زندگی میں اعلیٰ مناصب حاصل کیے۔

تاہم بنگلہ دیش کی تاریخ میں انہیں قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

نازل جرنیل

یکم مارچ 1976 تا 17 اگست 1988

زلفی بھٹو کے مصنف اسٹینلے وولپرٹ کے بقول ٹکا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھٹو کو انھی کی طرح ایک وفادار، حکم بجا لانے والے، اپنے کام سے کام رکھنے والے جنرل کی تلاش تھی جس کے بارے میں شبہ تک نہ ہو کہ وہ کوئی آڑی ترچھی حرکت کرسکتا ہے۔

ممکنہ امیدواروں میں سینیارٹی کے اعتبار سے علی الترتیب محمد شریف، محمد اکبر خان، آفتاب احمد خان، عظمت بخش اعوان، آغا ابراہیم اکرم، عبدالمجید ملک، غلام جیلانی خان اور محمد ضیاءالحق کا نام تھا۔

بھٹو صاحب نے یہ آسان حل نکالا کہ سب سے سینیئر جنرل کو نو تشکیل جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کر دیا اور سب سے جونیئر کو سب سے بااختیار چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سونپ دیا۔

پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے کے لیے سب سے جونیئر ضیا الحق کا انتخاب کیوں کر ہوا، اس بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں۔ جنرل ٹکا خان چاہتے تھے کہ جنرل اکبر خان ان کے جانشین بنیں۔ تاہم آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل غلام جیلانی نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ جنرل ضیاء الحق بہتر ہیں، سب سے جونیئر ہیں اس لیے احسان مند بھی رہیں گے۔

اسٹینلے وولپرٹ کے بقول غالباً کانفیڈینشل رپورٹوں کے ساتھ ساتھ تصویریں سامنے رکھ کے یہ قیافہ شناسی بھی ہوئی ہوگی کہ جو آنکھوں میں سرمہ لگاتا ہو، سر کے بیچ میں سے گیلی مانگ نکالتا ہو اور چہرے پر مستقل احسان مندی طاری ہو وہی سب سے افضل ہے اور پھر یہ تاثر تو سونے پہ سہاگہ ہوگیا ہوگا کہ جنرل ضیا ایک خالص فوجی، مذہبی اور غیر سیاسی سوچ اور شراب سے فاصلہ رکھنے کے لیے معروف ہیں۔ ان کی زندگی احکامات کے مدار میں گھومتی ہے اور اردن میں بطور بریگیڈیئر تین برس قیام کے دوران انہوں نے جس وفاداری کے ساتھ شاہ حسین کے فلسطینی مخالفین کو نتھ پہنائی، وہ کام سے لگن میں اپنی مثال آپ ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ضیا الحق بھٹو سے بڑے قیافہ شناس نکلے۔ انہوں نے منصب پانے سے بہت پہلے ہی بھٹو کی جاگیردارانہ عطا گیر نفسیات پڑھ لی تھی۔ روایت ہے کہ سنہ 1975 میں بھٹو صاحب نے ملتان میں سیکنڈ سٹرائیک کور کا دورہ کیا تو کمانڈر ضیاء الحق نے صاحب کی پسندیدہ غذاؤں پر پورا ہفتہ تحقیق کرائی اور صرف ایک رات میں بھٹو صاحب کے لیے کرنل کمانڈنٹ کی وردی سلوائی اور انہیں ٹینک میں بٹھا کر ان سے فائر بھی کروایا۔

جب وہ چیف آف آرمی سٹاف بنے تو اس ادب کو یقینی بنایا کہ ہمیشہ دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر تشکر آمیز دائمی زیرِ لب تبسم سجائے وزیرِاعظم سے دو قدم پیچھے چلیں۔ کبھی پرائم منسٹر نہیں کہا، ہمیشہ سر کہتے رہے۔

وولپرٹ کے مطابق جب رومانیہ کے صدر چاؤ شسکو پاکستان آئے تو بھٹو صاحب نے بھرے عشائیے میں چاؤ شسکو سے کہا کہ میں آپ کو اپنے نئے کمانڈر سے ملواتا ہوں۔ یہ کہہ کر بھٹو نے دور بیٹھے ضیاءالحق کو انگشتِ شہادت کے اشارے سے ایسے بلوایا جیسے اردلی کو بلاتے ہیں۔ ضیاء الحق بھی ماتھے پر خفیف سی شکن لائے بغیر نہایت عاجزی سے چاؤ شسکو سے جھک کے ملے۔

وولپرٹ کا خیال ہے کہ شاید یہی وہ لمحہ تھا کہ ضیاء الحق نے سوچ لیا ہو کہ اگر موقع ملا تو کم ازکم اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔

ضیاء الحق جو دہرہ دون فوجی کلچر کی آخری نشانی تھے، لگ بھگ ساڑھے 11 سال چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار رہے، تا آنکہ موت کے ہاتھوں ریٹائر ہوئے مگر مرنے سے پہلے پاکستان کا سماجی، سیاسی، آئینی حلیہ اور مستقبل بدل کے رکھ دیا۔

آج پاکستان کا مطالعہ قبل از ضیاء اور بعد از ضیاء دور میں بانٹے بغیر ممکن ہی نہیں۔گو ضیاء الحق نے مرتے دم تک سپہ سالاری اپنے ہاتھ میں ہی رکھی لیکن فوج کے روزمرہ معاملات چلانے کے لیے تین جرنیلوں یعنی سوار خان، خالد محمود عارف اور مرزا اسلم بیگ کو وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدوں پر متمکن رکھا اور جب ضیاء الحق نہ رہے تو بربنائے تقاضائے عہدہ و قسمت جنرل اسلم بیگ فوج کے اگلے فور سٹار سربراہ بن گئے۔

من موجی فوجی

17 اگست 1988 تا 16اگست 1991

17اگست1988 کو جنرل ضیاء الحق کا طیارہ نہ پھٹتا تو یوپی کے ضلع اعظم گڑھ کے ہاکی پلیئر جنرل اسلم بیگ بھی اپنے پیشرو جنرل سوار خان اور جنرل کے ایم عارف کی طرح وائس چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ریٹائر ہو چکے ہوتے ۔

جنرل اسلم بیگ پاکستانی فوج کے پہلے سربراہ تھے جن کا تعلق نہ صرف کاکول جنریشن سے تھا بلکہ وہ ایس ایس جی کمانڈو بھی تھے۔ انھیں تھنکنگ جنرل بھی کہا جاتا تھا۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں دورانِ ملازمت اور بعد ازاں عسکری علوم پڑھاتے رہے۔ ان کے شاگردوں میں پرویز مشرف بھی شامل ہیں (لیکن مشرف کے آخری صدارتی برس میں استاد اور شاگرد میں ٹھن گئی اور مشرف نے اپنے استاد کو جعلی دانشور تک قرار دے ڈالا)۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب جنرل بیگ 1979 میں جی او سی 14 ڈویژن گوجرانوالہ تھے تو اس بات کے حق میں نہیں تھے کہ بھٹو کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہو۔

چنانچہ انھیں کچھ عرصے بعد فیلڈ سے بلا کر جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل کی کرسی پر بٹھا دیا گیا اور پانچ برس بعد پشاور کور کی کمان دی گئی۔ وہ مارچ 1987 میں وائس چیف آف آرمی سٹاف بنا دیے گئے۔

چیف آف آرمی سٹاف بننے کے بعد جنرل بیگ نے فوج کے بنیادی عسکری نظریے میں جدید فوجی اور علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں ترمیمات پر زور دیا اور ترمیم شدہ ڈاکٹرن کی عملی افادیت کو ضربِ مومن جیسی بڑی جنگی مشقوں کے ذریعے پرکھا گیا۔

ان کے دور میں فوجی افسروں کو بیرون ِ ملک پیشہ ورانہ کورسز پر بھیجنے کی پہلے سے زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی ۔

جب جنرل بیگ چیف آف آرمی سٹاف بنے تو امریکی فوجی حلقوں کی رائے یہ تھی کہ آدمی تو قابل ہے لیکن من موجی ہے اور اس کے دماغ کو پڑھنا آسان نہیں، اگلے لمحے جانے کیا سوچ کے کیا کہہ کر کیا کر جائے۔

اگرچہ جنرل ضیاء الحق کے اچانک منظر سے ہٹنے کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان اور جنرل بیگ نے جماعتی بنیادوں پر انتخابی عمل کی بحالی کا اعلان کر کے بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کی کامیابی کا راستہ ہموار کیا۔

تاہم اس خیال سے کہ 12 برس سے فاقہ زدہ پیٹ کو کہیں خالص اور بااختیار جمہوریت سے بدہضمی نہ ہوجائے، دونوں صاحبوں نے انتخابی دودھ کو زود ہضم بنانے کے لیے اس میں اسلامی جمہوری اتحاد کا پانی ملا دیا تاکہ معاملات کی رسی ڈھیلی رہنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ہی ہاتھ میں رہے۔

بے نظیر بھٹو نے جنرل بیگ کو انتخابی عمل کی مشروط بحالی اور آمریت سے جمہوریت کے سفر میں رکاوٹ نہ ڈالنے کے عوض تمغۂ جمہوریت سے نوازا لیکن جنرل بیگ نے بے نظیر بھٹو کو، جنرل حمید گل، مہران گیٹ اور نواز شریف فیکٹر سے نواز دیا۔

بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی صرف ڈھائی برس میں برطرفی کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد کو باری دلائی گئی لیکن آئی جے آئی حکومت اور جنرل بیگ کے درمیان تناؤ اس وقت بڑھ گیا جب من موجی فوجی نے کویت پر عراق کے قبضے کے بعد صدام حسین کی حمایت میں بیان دے ڈالا۔ ان کے بارے میں یہ شبہات بھی پیدا ہوئے کہ وہ ایران کے خفیہ جوہری پروگرام میں مدد دے رہے ہیں۔

تاہم جنرل بیگ نے اپنی مدتِ ملازمت پوری کی۔ بعد ازاں ایک سیاسی جماعت عوامی قیادت پارٹی کے رہنما، ایک تھنک ٹینک فرینڈز کے سربراہ اور سرکردہ سیاسی مبصر و کالم نگار بن گئے۔

وہ نیشنل اور انٹرنیشنل سکیورٹی پر دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ گذشتہ برس سپریم کورٹ نے انھیں مہران گیٹ سکینڈل میں شہادت دینے کی غرض سے بھی طلب کیا لیکن جنرل بیگ نے اپنے کردار کی صفائی پیش کر کے عدالت کو بظاہر مطمئن کر دیا۔

آخری سینڈ ہرسٹ کمانڈر

16 اگست 1991 تا 8 جنوری 1993

جنرل آصف نواز جنجوعہ کا تعلق فنِ سپہ گری سے وابستہ خاندان کی تیسری نسل سے تھا۔ وہ بری فوج کے آخری سینڈ ہرسٹ گریجویٹ سربراہ تھے۔ وہ ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈر بھی رہے۔

جب جنرل جنجوعہ کو بری فوج کا سربراہ بنایا گیا تو وہ سینیارٹی کے اعتبار سے جنرل شمیم عالم خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ جنرل شمیم کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نامزد کیا گیا۔

جنرل آصف نواز کے دور میں سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع ہوا جس نے بعد میں کراچی آپریشن کی شکل اختیار کر لی۔ جناح پور کا ڈرامہ بھی اسی دوران ہوا۔

اس کے علاوہ دو سیاسی گروہوں نے ایک دوسرے کے یرغمالیوں کو فوج کی نگرانی میں ایک سمجھوتے کے تحت رہا کیا۔

آٹھ جنوری 1993 کو راولپنڈی میں جاگنگ ٹریک پر جنرل جنجوعہ پر دل کا دورہ پڑا اور وہ چل بسے۔

جنرل جنجوعہ کی اچانک موت پر شبہات بھی ظاہر کیے گئے۔ حیات رہتے تو شاید 15 اگست 1994 تک بری فوج کے سربراہ رہتے۔

نو نان سنس سپاہی

13جنوری 1993 تا 12 جنوری 1996

جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات کے وقت سنیارٹی لسٹ میں علی الترتیب لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی، محمد اشرف، فرخ خان اور عارف بنگش شامل تھے، تاہم نواز شریف حکومت نے پانچویں جنرل عبدالوحید کاکڑ کو سپہ سالار منتخب کیا۔

انہوں نے 1965 میں سیالکوٹ میں چونڈہ کے محاذ اور 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر خدمات انجام دی تھیں۔

جنرل کاکڑ کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ وہ ایک خالص ’نو نان سینس‘ قسم کے فوجی افسر ہیں۔ البتہ جب وزیرِ اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کی اختیاراتی لڑائی بھرے بازار میں آ گئی تو جنرل کاکڑ کو بادلِ نخواستہ دونوں لڑاکوں کو گھر کی راہ دکھانا پڑی اور معین قریشی کو امپورٹ کر کے نگراں وزیرِاعظم بنانا پڑا۔

جنرل کاکڑ کے دور میں شاہین میزائل پراجیکٹ پر خاصی پیش رفت ہوئی۔ اس دوران فوج میں ایک مذہبی شدت پسند خلافت نواز سازش بھی پکڑی گئی اور حرکتِ جہادِ اسلامی سے وابستہ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈیئر مستنصر بااللہ اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

بےنظیر بھٹو کی دوسری حکومت نے جنرل کاکڑ کو مدتِ عہدہ میں توسیع کی پیش کش کی لیکن جنرل نے ریٹائرمنٹ ہی پر اکتفا کیا۔

ایک دانشور فوجی

12 فروری 1996 تا سات اکتوبر 1998

جنرل کاکڑ کی سبک دوشی کے وقت جنرل جہانگیر کرامت ہی سب سے سینیئر جنرل تھے چنانچہ انھیں اگلا سپہ سالار بنا دیا گیا۔

فوج میں مشہور ہے کہ سنہ 1965 کی لڑائی میں لیفٹیننٹ کرامت کشمیر میں اکھنور کے محاذ پر اپنی یونٹ 13 لانسرز کے ساتھ تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی ہی دھن میں دشمن کے علاقے میں 23 میل اندر گھس گئے اور بعد ازاں یونٹ کو واپسی کا حکم ملا۔ مگر اس جرات پر ان کے یونٹ کو سپِئیر ہیڈ کا خطاب بھی ملا۔

سنہ 1971 کی جنگ میں جہانگیر کرامت شکر گڑھ محاذ پر رہے۔ دورانِ ملازمت بین الاقوامی تعلقات اور وار سٹڈیز میں ڈگریاں حاصل کیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سٹرٹیجک سٹڈیز اور وار کالج میں ملٹری سائنس پڑھاتے رہے۔ 80 کی دہائی میں سعودی عرب میں فوجی مشیر بھی رہے۔

ان کی سپہ سالاری کے دوران صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیا۔

کہا جاتا ہے کہ ممکنہ برطرفی کی سن گن ملتے ہی جنرل جہانگیر کرامت نے مبینہ طور پر سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کے ذریعے صدر اور وزیرِ اعظم کو پیغام بھیجا کہ باہمی اختلافات جتنی جلد دور کرلیں اتنا ہی جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اختلافات جب ذاتیات تک پہنچ جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہوا۔ عبوری حکومت کے تحت انتخابات ہوئے۔ نواز شریف کو دوسری بار وزیرِ اعظم بننے کا موقع ملا۔

پھر جہانگیر کرامت کو سپہ سالاری کے ساتھ ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی تفویض کردیا گیا۔ جب نواز شریف کی چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ٹھن گئی تو اس لڑائی میں جنرل جہانگیر کرامت نے غیر جانبداری برتی۔ انھی کے دور میں بھارت کے جوہری دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کیے۔

زندگی ٹھیک ہی چل رہی تھی کہ اکتوبر 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت نے نیول وار کالج میں خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ریاستی ڈھانچے کے استحکام کے لیے ترکی کی طرز پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام میں کوئی حرج نہیں ہے۔

نواز شریف حکومت اس تجویز سے یہ سمجھی کہ جنرل صاحب کے ارادے ٹھیک نہیں۔ چنانچہ ان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا۔ پھر وہ امریکہ چلے گئے اور سٹینفورڈ یونیورسٹی اور بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے علمی و تحقیقی کاموں سے خود کو منسلک کرلیا۔

جنرل مشرف کے دور میں لگ بھگ دو برس واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رہے۔ بعد ازاں اپنا تھنک ٹینک سپئیر ہیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر لیا۔

ان کے دورِ سالاری میں یوکرین سے ٹینکوں کی خریداری کے کمیشن اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنا لوجی کی فراہمی کے معاملات بھی اچھلے لیکن ٹھنڈے پڑ گئے۔

اینڈ دی گریٹ کمانڈو

سات اکتوبر 1998 تا 28 نومبر2007

جہانگیر کرامت کی اچانک سبک دوشی کے بعد نواز شریف کی کچن کابینہ سر جوڑ کر بیٹھی۔ کہا جاتا ہے کہ برادرم شہباز شریف، معتمدِ خاص چوہدری نثار اور ان کے بڑے بھائی سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ چوہدری افتخار علی خان نے طے کیا کہ منگلا کور کے کمانڈر پرویز مشرف کو لایا جائے اور سالاری فیتے لگا دیے جائیں۔ حالانکہ سنیارٹی لسٹ میں سب سے اوپر لیفٹٹنٹ جنرل علی قلی خان اور خالد نواز خان تھے۔

چونکہ فیصلہ چند گھنٹوں کے اندر اندر ہوا۔ لہذا امکان ہے کہ تینوں جنرلوں کی تصاویر اور خاندانی و فوجی پس منظر بھی میز پر رکھا گیا ہوگا۔ شاید یہ بھی سوچا گیا ہو کہ علی قلی خان نہ صرف جنرل حبیب اللہ خٹک کا بیٹا بلکہ گوہر ایوب کا کزن ہے لہذا طبیعت میں خوئے حکمرانی خارج از امکان نہیں جبکہ جنرل خالد نواز سخت طبیعت افسر ہے، بندے میں تھوڑی بہت لچک بھی ہونی چاہیے بھلے جنرل ہی کیوں نا ہو اور یہ پرویز مشرف توچشمہ لگا کے دانشور لگتا ہے۔ طبیعت کا کھلا ڈلا ہے۔ راک بھی سنتا ہے، کلاسیکل کا بھی شیدائی ہے۔گنگا جمنی تہذیب کا اردو پس منظر رکھتا ہے۔ اتاترک کو پسند کرتا ہے، کتے ٹہلاتا ہے، پڑھنے لکھنے سے بھی شغف ہے۔ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پڑھاتا رہا ہے۔ سخت ایس ایس جی کمانڈو ہے، سیاچن بریگیڈ کی کمان کرچکا ہے۔ جہانگیر کرامت کا بھی فکری شاگرد ہے، ہم خوامخواہ ہی جہانگیر کرامت سے بدک گئے تھے حالانکہ وہ تو سکالر ٹائپ آدمی نکلا۔ باقی دو جرنیلوں سے موازنہ کیا جائے تو وہ پرویز مشرف کے مقابلے میں قدرے خشک طبیعت اور لیے دیے سے رہتے ہیں۔ایسوں کے مقابلے میں ویسا زیادہ بہتر ہے جو زیادہ بولتا ہو۔کم ازکم یہ تو پتہ چلتا رہے گا کہ وہ کس وقت کیا سوچ رہا ہے۔

پرویز مشرف نئے چیف آف آرمی سٹاف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیرمین بنا دیے گئے۔ مگر یہ فیصلہ نواز شریف کے لیے ویسا ہی ثابت ہوا جیسا ذوالفقار علی بھٹو کے لیے بیچ میں سے گیلی مانگ نکالنے والے ضیاءالحق کی تقرری کا فیصلہ۔

نئی بہو کچھ دن تو گھونگھٹ کاڑھے بیٹھی رہی پھر پر پرزے نکلنے شروع ہوئے۔ جب واجپائی لاہور آئے تو استقبال کرنے والوں میں فوجی قیادت شامل نہیں تھی۔ غالباً کارگل کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ جب مئی 1999 میں کارگل کی ایکشن تھرلر ریلیز ہوئی تو ہکا بکا نواز شریف کو شرارتی بچوں نے واشنگٹن تک دوڑ لگوا کے ہنپا دیا۔

پھر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ہم نے تو کارگل میں بھارت کو نرخرے سے پکڑ لیا تھا لیکن نواز شریف نے کلنٹن کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ پھر فوجی جرنیلوں سے کہا گیا کہ چیف کی اجازت کے بغیر کوئی کسی سویلین اہلکار سے نہیں مل سکتا بھلے وزیرِاعظم ہی کیوں نا ہو۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹٹنٹ جنرل طارق پرویز کی چھٹی کر دی گئی۔

ساتھ ہی ساتھ یہ سگنلز بھی نشر ہونے لگے کہ فوج اب اگلا جہانگیر کرامت نہیں بننے دے گی۔ شریف برادران اتنے گھبرائے کہ ستمبر میں میاں شہباز شریف نے واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا اور امریکی محکمہ خارجہ کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ پاکستان میں منتخب حکومت کے خلاف کسی غیر جمہوری قدم کی حمایت نہیں کی جائے گی لیکن اس بیان کے باوجود بھی نواز حکومت کی گھبراہٹ ختم نہ ہوئی اور اسی گھبراہٹ میں بارہ اکتوبر کو حکومت نے چیف آف آرمی سٹاف کو ہوا میں معلق رکھنے کی کوشش کی۔لیکن چند ہی گھنٹے بعد خود شریف حکومت معلق ہوگئی۔

چیف آف آرمی سٹاف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، چیف ایگزیکٹو ، وزیرِ دفاع ، صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف۔ جتنی ٹوپیاں پرویز مشرف نے ایک ساتھ پہنیں پاکستان کے کسی فوجی حکمران نے نہیں پہنیں۔ جنرل مشرف نے بھی وہی کیا جو جنرل ضیاء نے مگر ٹیگ بدل گیا۔

ایک نے اسلامی ٹوپی پہن کے امریکہ کی مدد کی اور دوسرے نے لبرل ہیٹ لگا کے وہی کام کیا۔ ملکی اداروں کی توڑ پھوڑ میں دونوں نے حسبِ توفیق حصہ ڈالا۔ ایک نے انتہا پسندی کا پودا لگایا تو دوسرے نے اسے سایہ دار بنا ڈالا۔ دونوں نے افغانستان کے المیے پر اپنے اقتدار کو دوام دینے کی کوشش کی۔ دونوں نے بھارت سے براہِ راست بھڑنے کے نقصانات کو نہایت ذہانت سے سمجھا۔

ضیاء نے بھی ہر سیاسی ، طبقاتی سماجی قوت کو اپنا اقتداری ایجنڈہ آگے بڑھانے کے لیے حسبِ منشا و ضرورت استعمال کیا اور مشرف نے بھی سب کو تگنی کا ناچ نچایا۔ ضیا نے جو کام کوڑے مار کے نکالنا چاہا وہی کام مشرف نے جبری گمشدگیوں کے چلن سے نکالنا چاہا۔

ضیا نے عدلیہ کو موم کی ناک بنا کے رکھا مگر مشرف نے تو عدلیہ کی ناک پر ہی ہاتھ ڈال دیا۔ ضیا بھی آخری دنوں میں اپنی ذہانت کے ہاتھوں ٹریپ ہوگیا اور مشرف کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

الغرض 28 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کی وردی اتار دی اور اگلے نو ماہ میں وہ سیاسی حقائق کی گرمی میں برفیلے مجسمے کی طرح پگھلتے چلے گئے۔

18 اگست 2008 کو مشرف نے آخری صدارتی گارڈ آف آنر لیا اور طیارہ فضا میں بلند ہوگیا۔ ٹھیک بیس برس پہلے ایک دن کے فرق کے ساتھ ضیاء الحق کا طیارہ بھی فضا میں بلند ہوا مگر پرویز مشرف زیادہ خوش قسمت نکلے۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ضیا الحق زمین سے آسمان پر اٹھا لیے گئے جبکہ پرویز مشرف آسمان سے زمین پر نازل ہوئے اور پھر زمین ان کے پاؤں تلے سے اٹھا لی گئی۔

پانچ گھنٹے کا بادشاہ

بارہ اکتوبر 1999

جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف اور شریف حکومت کے درمیان کرگل کے پہاڑوں سے اٹھنے والی دھند کی دیوار ٹھوس ہوگئی تو دونوں نے دل ہی دل میں ایک دوسرے پر شب خون مارنے کا فیصلہ کر لیا۔

12 اکتوبر 1999 کو پرویز مشرف سری لنکا کے سرکاری دورے کے بعد جب کولمبو میں پرواز پی کے 805 میں سوار ہوئے تو دو ہزار کلومیٹر پرے اسلام آباد کے وزیرِاعظم ہاؤس نے ایک نوٹیفکیشن پر صدر رفیق تارڑ سے دستخط کروا لیے جس کے تحت جنرل پرویز مشرف کو سبک دوش کر کے فوج کے سینیئر موسٹ جنرل اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیا الدین بٹ کو نیا آرمی چیف بنا دیا گیا۔

نئے چیف کو سرکاری ٹی وی کیمروں کے سامنے ایوانِ وزیرِ اعظم میں فور سٹار جنرل کے بیج لگائے گئے اور انھوں نے وہیں سے جنرل محمد اکرم کو نیا چیف آف جنرل سٹاف اور راولپنڈی کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کے بجائے لیفٹیننٹ جنرل سلیم ارشد کو سونپنے کے احکامات جاری کر دیے۔

بظاہر سب کچھ آئینی و قانونی طریقے سے انجام پا رہا تھا لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ بندوق کی نال بذاتِ خود قانون ہوتی ہے، سب کچھ اتنا اچانک اور افراتفری میں ہوا کہ فوجی قیادت نے فوری ردِ عمل ظاہر کیا اور معروف تختہ پلٹ ٹرپل ون بریگیڈ کو ایوانِ وزیرِ اعظم کی جانب روانہ کر دیا۔

کور کمانڈر پنڈی لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کے حکم پر میجر جنرل علی جان اورکزئی کے سپاہیوں نے نامزد آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ اور وزیرِاعظم کو حراست میں لے لیا اور معزول جنرل پرویز مشرف نے کراچی ایرپورٹ پر اترتے ہی اپنی اتھارٹی کو بحال کر لیا۔

12 اکتوبر کے آٹھ گھنٹے ایسے بھی گزرے کہ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ حکمران کون اور فوجی چیف کون ہے۔ پھر صورتِ حال واضح ہوگئی جب جنرل ضیا الدین بٹ کو قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا اور دو برس بعد ان کی املاک اور پنشن ضبط کر کے رہا کر دیا گیا۔

اس واقعے کو 14 برس بیت گئے لیکن آج بھی ضیا الدین بٹ کا بحالی سے متعلق مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ آیا ضیاء الدین بٹ کو بری فوج کے سربراہوں کے ہال آف فیم میں کبھی جگہ ملے گی یا نہیں۔

اس کا جواب اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ کیا 12 اکتوبر 1999 کے دن کو آئین کے آرٹیکل چھ کے ساتھ جوڑ کر کبھی دیکھنا ممکن ہوگا؟ شاید نہیں کیونکہ جس عدلیہ کو یہ کام کرنا تھا اس نے تو ابتدا میں ہی جنرل پرویز مشرف کی کارروائی کو آئینی تحفظ دے کر حلال کر دیا تھا۔

جنرل چپ شاہ

28 نومبر 2007 تا 28 نومبر 2013

جنرل پرویز مشرف نے جب نو مارچ 2007 کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ایوانِ صدر میں طلب کیا تو آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پوری گفتگو میں سوائے خاموش رہنے کے کوئی حصہ نہیں ڈالا اور جب نواز شریف کے لانگ مارچ کے دباؤ میں افتخار چوہدری بحال ہوئے تب بھی اشفاق پرویز کیانی نے جو کرنا تھا خاموشی سے کیا۔

لہٰذا ایسے شخص کو کبھی ہلکا نہیں لینا چاہیے جو بولے کم اور سنے زیادہ۔ شاید اسی لیے مشہور رسالے فوربز کی 2012 کی عالمی ریٹنگ میں جنرل کیانی دنیا کے سو طاقتور لوگوں کی فہرست میں 28 ویں درجے پر تھے۔

28 نومبر 2007 کو تھکے ماندے پرویز مشرف نے پنڈی کے آرمی اسٹیڈیم میں چیف آف آرمی سٹاف کی چھڑی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کی۔

جنرل کیانی بری فوج کے پہلے سربراہ ہیں جو پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئے۔ وہ پہلے سپاہ سالار ہیں جنہیں آئی ایس آئی کی کمان کا براہِ راست تجربہ ہے۔ وہ پہلے کمانڈر ہیں جنہوں نے اپنے عہدے کی پہلی مدت میں توسیع خود سے نہیں مانگی بلکہ ایک منتخب حکومت کی جانب سے توسیع چل کے آئی۔ فیصلے کے بعد وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک نجی محفل میں کہا کہ ہم تو فوج کی خدمت کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

جنرل کیانی اس لحاظ سے بھی پہلے چیف آف سٹاف ہیں جن کی نواز شریف اینڈ کمپنی سے نہیں ٹھنی۔ ورنہ نواز شریف کے گذشتہ دونوں ادوار میں جو بھی سپاہ سالار آئے ان سے شریفوں کا ہتھ پنجہ ضرور ہوا۔

جنرل کیانی کو بھی یقیناً اس نفسیات کا علم تھا اسی لیے انہوں نے انتظار کے بجائے اپنے عہدے میں تیسری بار توسیع کی افواہوں کی خود ہی تردید کردی۔

جنرل کیانی کو سنہ 1971 میں فوجی کمیشن ملا۔ انھوں نے کاکول کے علاوہ امریکی آرمی کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج فورٹ بیننگ اور فورٹ لیون ورتھ سے بھی عسکری تجربہ حاصل کیا۔ ریاست ہوائی کے ایشیا پیسفک سینٹر سے سکیورٹی سٹڈیز کا کورس کیا۔ سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں مدرس رہے۔ پنڈی کی دسویں کور کو کمان کیا۔ اکتوبر 2004 میں انھیں آئی ایس آئی کا چارج دیا گیا ۔

اس دوران میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملے شروع ہوئے۔ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھا۔ لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ خودکش بمباروں کے پھٹنے کا چلن بکثرت پھیلا۔ بلوچستان میں شورش کا ایک اور باب کھلا۔ اکبر بگٹی قتل ہوئے۔ عدلیہ اور مشرف حکومت میں محاذ آرائی انتہا تک پہنچی۔ ڈاکٹر قدیر کا جوہری سمگلنگ سکینڈل سامنے آیا۔ بےنظیر بھٹو سے مذاکرات میں جنرل کیانی نے مشرف حکومت کی نمائندگی کی۔

بےنظیر کو جنرل کیانی پر اس لیے بھی اعتماد تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ان کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری رہ چکے تھے۔ این آر او اور بے نظیر کی واپسی کا فارمولا طے پایا۔

جب اشفاق پرویز کیانی اکتوبر 2007 میں آئی ایس آئی کی سربراہی سے سبک دوش ہونے کے بعد وائس چیف آف آرمی سٹاف بنائے گئے اور پھر دو ماہ بعد مکمل چیف آف آرمی سٹاف بنے تو ستاروں کی چال اور تیز ہوگئی ۔ غیر یقینی حالات کا رولر کوسٹر بھنبیری میں بدل گیا۔

پہلا بڑا واقعہ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کا قتل تھا۔ جنرل کیانی نے فروری 2008 کے انتخابات سے قبل واضح طور پر کہا کہ فوج غیر جانبدار رہے گی۔ فوجی افسروں اور سیاستدانوں کے رابطوں پر بظاہر پابندی عائد کردی گئی۔ ملک کے 23 بڑے اداروں میں عارضی طور پر تعینات فوجی افسروں کو واپس بلانے کا اعلان ہوا اور صدر پرویز مشرف پر بلا واسطہ آشکار کیا گیا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کے سلسلے میں نئی فوجی قیادت پر سو فیصد تکیہ نہ کریں۔ ایسے اشاروں سے مشرف کو 18اگست کو عہدۂ صدارت سے سبکدوشی کے فیصلے تک پہنچنے میں یقیناً مدد ملی ہوگی۔

جنرل کیانی کے دور میں لاپتہ افراد کے مسئلے میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملے نے پاکستان امریکہ تعلقات کو ابتر سطح پر لا کھڑا کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کا سکینڈل ہوا۔ میمو گیٹ کھلا۔ وزیرستان اور سوات میں فوجی آپریشن ہوئے۔

اب جب کہ اشفاق پرویز کیانی کا دور ختم ہو رہا ہے، پاکستان پہلے سے زیادہ بے یقینی کا شکار ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جنرل کیانی نے فوج کے بنیادی عسکری نظریے میں ترجیحاتی تبدیلی کی۔ یعنی اب بھارت کے بجائے پاکستان کا اولین دشمن دہشت گردی کو قرار دیا گیا ہے۔

اگر جنرل کیانی کے آئی ایس آئی سے لے کر فوج کی سربراہی تک کے نو سالہ مجموعی دور کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے کسی جرنیل کو مسلسل کبھی بھی اتنی بڑی چومکھی نہیں لڑنی پڑی، جیسی جنرل کیانی کو ورثے میں ملی۔ وہ الگ بات کہ جتنے مسائل انھیں ورثے میں ملے ان سے زیادہ وہ اپنے جانشین کے لیے چھوڑے جارہے ہیں۔