’جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے‘

Image caption جسٹس جواد ایس خواجہ نے سوال کیا کہ جو لوگ کوئٹہ سے پیدل چل کر کراچی آئے ہیں ان سے کسی نے کمبل یا کھانے کا پوچھا ہے؟

پاکستان کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار نے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی تو بلوچستان میں آپریشن نہیں کر رہیں اور ایف سی کہتی ہے کہ اس نے لاپتہ افراد کو نہیں اٹھایا، لیکن جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے۔

یہ بات سپریم کورٹ کی کراچی بینچ میں بلوچستان سے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں چیف جسٹس نے کہی۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوال کیا کہ لاپتہ ذاکر مجید کی ہمشیرہ آئی ہیں۔ اس پر وائس فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے انہیں بتایا کہ ’فرزانہ کہتی ہیں کہ انھیں انصاف نہیں مل رہا تو وہ کیوں آئیں۔ لوگ مایوس ہو رہے ہیں۔‘

جسٹس جواد ایس خواجہ نے سوال کیا کہ جو لوگ کوئٹہ سے پیدل چل کر کراچی آئے ہیں ان سے کسی نے کمبل یا کھانے کا پوچھا ہے؟

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مارچ کر کے آنے والے لوگوں کو عزت و آبرو سے گھر پہنچائیں گے، جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے انھیں مخاطب کر کے کہا کہ انھیں گھر پہنچانے کی نہیں ان کے لوگوں کو گھر لانے کی بات ہو رہی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے آئین پاکستان کی سبز کتاب اٹھا کر لہراتے ہوئے کہا اس پر اسلامک رپبلک آف پاکستان تحریر ہے، وہ کہاں ہے؟

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شکوہ کیا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی اور پولیس میں سے کوئی بھی تعاون نہیں کر رہا ہے۔ ’ایسا لگتا ہے جیسے ہم پارٹی ہیں۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’جو لوگ لاپتہ ہیں کیا ان کو جن اٹھا کر لے گئے ہیں؟ ریاست کی مرضی کے بغیر یہ سب کچھ نہیں ہو رہا۔ آئی ایس آئی، ایم آئی کوئی نہیں مانتا لیکن ان بندوں کو کوئی جن تو نہیں اٹھا کر لے گیا۔ اگر لاپتہ افراد ریاست مخالف عناصر ہیں تو ان پر مقدمات چلائیں۔‘

چیف جسٹس نے ایف سی کے میجر اور بلوچستان حکومت کے وکیل سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اس کے نتائج نکلنے والے ہیں جو اتنا پیدل چلنے کا قدم اٹھاسکتے ہیں وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی تو آپریشن نہیں کر رہی، ایف سی کہتی ہے کہ ہم نے نہیں اٹھایا لیکن جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے۔

عدالت نے آئی جی ایف سی اور ان ان اہلکاروں کو طلب کرلیا جن پر لوگوں کو لاپتہ کرنے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے رشتے داروں کا جلد پتہ لگایا جائے گا۔

موجودہ وفاقی حکومت کا لاپتہ افراد کے لواحقین سے یہ پہلا براہ راست رابطہ تھا۔

خواجہ آصف نے یہ یقین دہانی کراچی میں وائس فار مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں موجود لاپتہ افراد کے لواحقین کو کرائی جو 27 روز پیدل چل کر کوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے۔

خواجہ آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قانون سے ماورا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت اس کو برداشت نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ان کی ذمے داری ہے اور وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات کر کے ہدایت لیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ 738 لاپتہ افراد کا پتہ چل چکا ہے اور اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے اس بارے میں عدالت کو آگاہ کر دیا ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز کے رہنما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ خالی یقین دہانیوں اور اظہار ہمدردی سے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں