2014 میں افغانستان میں سیاسی خلاء نھیں چاہتے: پاکستان

Image caption وزیراعظم افغان امن کونسل کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے

پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کے دو طرفہ معاہدے کے بارے میں کہا ہے کہ ’پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ افغانستان کے کام آئے گا لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کی تنسیخ میں پاکستان یا کسی تیسرے ملک کے لیے کوئی مسائل یا مضمرات نہ ہوں۔‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ 2014میں افغانستان میں کوئی سیاسی خلا پیدا نہ ہو اور افغان دھڑے مل کر اپنے ملک کے مستقبل کا تعین کریں۔

اعزاز چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کے روز متوقع میاں نواز شریف کے ایک روزہ دورہِ افغانستان کے موقع پر مشیر خارجہ طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

دورے کے ایجنڈے میں دو طرفہ علاقائی اور عالمی امور کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جاری مفاہمتی عمل پر بھی بات چیت کی جائےگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم افغان امن کونسل کے وفد سے بھی ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نھیں کر سکتے کہ آیا وزیراعظم افغان صدر کے ساتھ گذشتہ دنوں امریکی فورسز کی جانب سے پکڑے جانے والے پاکستانی طالبان لطیف اللہ محسود اور افغانستان میں موجود دیگر پاکستانی طالبان کے بارے میں بات کریں گے۔

Image caption وزیراغطم کے دورہِ افغانستان سےکسی بڑی پیش رفت کی توقع نہ کی جا رہی

’میں یہ نھیں کہہ سکتا کہ یہ معاملہ زیر بحث آئے گا یا نھیں۔ تاہم ہمارا موقف ہے کہ جس طرح پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نھیں ہونے دینا چاہتا، اسی طرح ہماری توقع ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو کوئی پناہ نھیں ملنی چاہیے اور نہ ہی کوئی افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف کاروائی کر سکے۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان نےزیر حراست افغان طالبان کی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ افغان حکومت کی درخواست پر وقتاً فوقتاً افغان طالبان راہنماؤں کو رہا کیا جاتا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ڈرون حملوں کو روکے جانے کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے جس میں نیٹو سپلائی کو بند کیا گیا ہے۔ اس احتجاج کی وجہ سے افغان ٹرانسٹ ٹریڈ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا افغان حکومت نے اس معاملے پر پاکستان سے بات کی ہے، اعزاز چوہدری کہتے ہیں کہ افغانستان نے اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ کوئی بات نھیں کی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ اس تجارت کو وسطی ایشیاء تک پھیلایا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

اسی بارے میں