پنجاب: بارہ لاکھ ڈیبٹ کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ

Image caption وزیرِ اعلیٰ پنجاب کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی

حکومتِ پنجاب نے کم وسیلہ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دینے کے لیے ایک پروگرام کی منظوری دی ہے جس کے تحت 12 لاکھ خاندانوں کو ڈیبٹ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔

اقتصادی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس منصوبے کو سیاسی فائدے کے بجائے شفاف طریقے سے چلایا گیا تو یہ ضرورت مند خاندانوں کو معاشی تحفظ دینے کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جمعے کو کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی۔

اس منصوبے کے لیے ’پنجاب خدمت کارڈ‘ کے نام سے خصوصی ڈیبٹ کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں جو پانچ سال کے لیے کارآمد ہوں گے۔

نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق اجلاس میں ڈیبٹ کارڈ کے ڈیزائن کی منظوری بھی دی گئی۔ کارڈ پر سبسڈی حاصل کرنے والے فرد کا نام، اس کا شناختی کارڈ نمبر کندہ کیا جا رہا ہے اور پہلے مرحلے میں 12 لاکھ کم وسیلہ خاندانوں کو پنجاب خدمت کارڈ دیے جائیں گے۔

ماضی میں پاکستان میں بجلی اور پیٹرول سمیت کئی اشیائے ضرورت پر سبسڈی دینے کی روایت موجود ہے لیکن یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا اور ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

موجودہ وفاقی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اس میں بھی پہلے سے موجود سبسڈیز کو ختم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کے خاتمے سے مہنگائی اورافراط زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایسی صورت میں سبسڈی کا نیا منصوبہ معیشت کے لیے کس حد تک کامیاب ہوسکتا ہے کے بارے میں اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں ’پہلے ہر چیز پر جنرل سبسڈی دی جاتی تھی جو فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکی۔ لیکن اب پاکستان میں ٹارگٹڈ سبسڈی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے بلکہ مستقبل کا راستہ یہی ہے۔‘

ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق ’پاکستان میں غربت بہت زیادہ ہے اور افراطِ زر کے دباؤ خاص کر بجلی کی قیمت تو غریب آدمی بالکل برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے یہ ایک اچھا منصوبہ ہوسکتا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبوں کے مجموعی طور پر معیشت پر کوئی اثرات نہیں ہوتے بلکہ حکومت کو سبسڈی کے لیے اربوں روپے مہیا کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم معاشی طور پر کمزور افراد کی مدد ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کی صحت خوراک اور تعلیم سے متعلق سبسڈی کے ایسے پرگراموں سے بہتر ضرور ہوسکتے ہیں اور شاید غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں کمی بھی معشیت کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس منصوبے کے لیے تمام وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس طرح کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سبسڈی کے منصوبے کا عملی طور پر آغاز کب ہوگا اس حوالے سے ابھی حتمی طور پرکچھ نہیں کہا جاسکتا۔

ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ کے نام سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا ایک پروگرام شروع کیا جسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بھی ملی۔ خاص طور پر خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے حوالے سے اس منصوبے کو کافی سراہا گیا۔

اسی بارے میں