فوجی کمان کی تبدیلی اور صحافیوں کی دوڑیں

Image caption بحثیت صحافی اس تقریب میں شرکت کے بعد ایک تشنگی نئے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی کوئی تقریر کا نہ ہونا تھا

جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حکومت اور حکومت سے باہر خیرخوا اور معتقدین تو بہت تھے لیکن انہیں بھی بلآخرالوداعی تقریب کے کارڈ پر لکھے ہوئے جملے ’اسلحے کو خیرباد‘ کہنا ہی پڑا۔

یہ کسی بھی فوجی کے لیے یقیناً ایک مشکل دن ہوتا ہے خاص کر اس کے لیے جس نے وردی چوالیس سال بڑی شان کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔ سابق فوجی رہنما جنرل پرویز مشرف کا تو اس وردی کے بارے میں خود کہنا تھا ’ان کی کھال ہی وردی بن گئی ہے۔‘

پاکستان کی الٹی سیدھی ترجیحات کا اندازہ تو اسی سے ہوتا ہے کہ فوج کی اعلیٰ ترین کمان کی تبدیلی ہاکی گراؤنڈ کے آسٹروٹرف پر ہوئی۔ جہاں ہاکی ہونی چاہیے تھی وہاں فوجی ایڑیوں پر چل رہے تھے۔ قریب میں جہاں کرکٹ ہونی چاہیے تھی وہاں گاڑیاں اور ٹرک کھڑے تھے۔

اس کا منفی اثر آسٹروٹرف اور کرکٹ گراؤنڈ پر کتنا ہوگا کوئی ماہر ہی بتاسکے گا لیکن یہ مقامات یقیناً ایسی تقریبات کے لیے موزوں نہیں۔ اسلام آباد میں برسوں سے بےکار پڑی جی ایچ کیو کی اراضی پر کم از کم گراؤنڈ بنا کرایسی تقریبات تو ہوسکتی ہیں۔

اس تقریب کو دیکھ کر تئیس مارچ کی فوجی پریڈ یاد آگئی۔ یہ سالانہ تقریب ایک طویل عرصے سے ابتدائی طور پر بچت اور بعد میں امن عامہ کی خراب حالت کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے۔ یہ موقع ہوتا تھا اپنی عسکری طاقت کے مظاہرے کا۔ ادارتی مظاہرہ تو اب ممکن نہیں لیکن شخصیات کی تبدیلی دوسری مرتبہ انتہائی اہتمام سے منعقد کی جانے لگی ہے۔

بحثیت صحافی اس تقریب میں شرکت کے بعد ایک تشنگی نئے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی کوئی تقریر کا نہ ہونا تھا۔ میرے جیسے لوگوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ نئے رہنما کیا ایجنڈا لے کر آئے ہیں اور کن امور پر ان کی زیادہ توجہ زیادہ رہے گی؟

لیکن یہ باتیں وہ اپنے فوجیوں کے ساتھ ملاقاتوں میں تو ضرور کریں گے لیکن میرے جیسے شہریوں کو شاید ان کے فیصلوں سے یہ اندازے لگانے پڑیں گے جہاں پھر قیاس آرائیوں کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔

میڈیا کو اس تقریب میں بھی کافی آزادی دی گئی تھی خصوصاً کیمرا مینوں کو۔ میدان میں جس کا جہاں دل چاہتا تھا ٹرائی پاڈ رکھ دیتا تھا۔ یہی شاید تمام تقریب کا غیرمنظم حصہ تھا۔

ایک مرتبہ میدان میں موجود تمام شرکا کے لیے تفریح اس وقت پیدا ہوئی جب یہ خطرہ ہو گیا کہ فوجیوں کی آگے کی جانب پریڈ کرنے والی ایک پلاٹون کیمرا مینوں پر چڑھ دوڑے گی۔ لیکن صحافیوں کی دوڑ میں مہارت ان کے کام آئی اور بچ بچا ہوگیا۔ لیکن حیران کن طور پر کسی فوجی نے اس کا برا نہیں منایا۔ لگا کہ فوج کافی ’میڈیا فرینڈلی‘ ہوگئی ہے۔ خواہش ہے کہ یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہے۔

تقریب میں نشستیں بھی انتہائی منظم انداز میں لگائی گئی تھیں۔ سابق سفیر ملیحہ لودھی کے لیے نشست نام کے ساتھ مخصوص تھی جبکہ ہم جیسے نارنجی رنگ کی کسی بھی نشست پر بیٹھ سکتے تھے۔ شاید ہمیں اپنی نشست منتخب کرنے کی زیادہ آزای دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ دلچسپ زبانوں کا مکس نشستوں میں دیکھنے کو ملا۔ ’بیگم ڈی جی‘ اور بیگم فلاں۔ میں نہیں جانتا کہ مسز ڈی جی لکھنے میں کیا قباحت تھی۔

جنرل راحیل جنرل کیانی سے قد میں شاید ایک آدھ انچ اونچے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ فوجی اور اس سے بڑھ کر ملکی وقار کو بھی جنرل کیانی سے اگر اس سے زیادہ نہیں تو ایک دو انچ بڑھا دیں گے۔

اسی بارے میں