جماعت اسلامی اور طالبان کا گٹھ جوڑ ہے: ایم کیو ایم

Image caption الطاف حسین نے فون پر اپنے کارکنوں سے خطاب کیا

متحدہ قومی موومنٹ نے ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے سات ایسےافراد کے ناموں کی ایک فہرست جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور الزام لگایا ہے کہ جماعت اسلامی نے طالبان اور القاعدہ سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے بیانات میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے ان الزامات کو لغو اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے الطاف حسین کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی امن پسند جماعت ہے۔

الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت جماعت اسلامی پر مقدمہ چلایا جائے۔

ایم کیو ایم کی سرکاری ویب سائٹ پر جن دس افراد کی فہرست جاری کی گئی ان میں خالد شیخ محمد کا نام بھی شامل ہے۔ ان میں ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جو امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے۔ اس فہرست کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جماعت کا ان لوگ سے کسی نہ کسی طور پر تعلق تھا۔

الطاف حسین نے کہا کہ کراچی کے پوش علاقوں، ڈیفنس، نارتھ ناظم آباد اور گلش اقبال میں طالبان تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے امیر جماعت اسلامی منور حسن کے بیان کا ایک مرتبہ پھر حوالہ دیا جس میں انھوں نے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا تھا اور کہا کہ ان بیانات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ جماعت ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی اور قتل و غارت گری میں ملوث ہے۔

ایم کیو ایم کے قائدنے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ اس کی ذیلی طلبہ تنظیم جمعیت پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

اسی بارے میں