’ہم آہنگی کے لیےمقامی زبانوں میں صحافت ضروری‘

Image caption اس رپورٹ کو ہما یوسف اور ایرلز شومیکر نے تحریر کیا ہے

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور صحافی شیری رحمان نے کہا ہے کہ بعض مقامی صحافی صحافتی اقدار پر سمجھوتہ کر رہے ہیں حالانکہ سمجھوتہ کرنا تو سیاستدانوں کا کام ہے۔

یہ بات انھوں نے بی بی سی میڈیا ایکشن کی جانب سے ’پاکستان میں کمزور جمہوری نظام میں میڈیا کے کردار سے‘ متعلق ایک رپورٹ جاری ہونے کے موقع پر کہی۔

اسلام آباد میں پیر کو ہونے والی اس تقریب میں وہ مہمان خصوصی تھیں۔

شیری رحمان نے کہا ’بعض میڈیا چینلز کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے جس کی وجہ سے صحافتی اقدار نظرانداز ہو رہی ہیں۔‘

تین ماہ میں تیار کی گئی اس رپورٹ کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں 20 سے زیادہ ماہرین کے انٹرویو کیے گئے۔

اس رپورٹ میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی برطرفی، وکلا کی مہم اور رواں برس گیارہ مئی کے انتحابات میں مقامی ذرائع ابلاغ کے کردار کو سراہا گیا۔

اس رپورٹ کا مقصد پاکستانی ذرائع ابلاغ کے کردار کو جانچنا اور جمہوریت کو مستحکم بنانے کے لیے اس کی کارکردگی سے متعلق تجاویز دینا ہے۔

اس رپورٹ کو ہما یوسف اور ایمرس شومیکر نے تحریر کیا ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ کسی سچ کو بتانے اور کسی کو چھپانے کی سوچ ترک کرے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے تمام مقامی زبانوں میں صحافت کی جائے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا ’یہ مفصل رپورٹ خصوصاً ایلکٹرانک میڈیا کو ایک ایسا پیلٹ فورم فراہم کرتی ہے جہاں وہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے بحث شروع کر سکتے ہیں۔‘

شیری رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مقامی ٹی وی مالکان نے اس میڈیم کو ایک پروڈکٹ بنا دیا ہے۔ بعض چینلز کے لیے صحافت سے زیادہ کاروباری مقاصد اہم ہیں جس کی وجہ سے صحافت کے اقدار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے مگر یہ منفی رجحان ہے۔ بعض اینکرز طاقت کے نشے میں آسمان پر پہنچ گئے ہیں جو صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ اس نے عوام میں جمہوریت کی طلب کو مستحکم کیا ہے۔

شیری رحمان نے تجویز پیش کی کہ بی بی سی میڈیا ایکشن کو اگلی رپورٹ میں میڈیا کے کارپوریٹ کنڑول اور صحافیوں کے مسائل سے متعلق رپورٹ پر کام کرنا چاہیے۔

اس رپورٹ پر بحث کرنے کے لیے بعض ٹی وی اور ریڈیو مالکان نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ڈان گروپ کے مالک حمید ہارون کا کہنا تھا ’ایلکڑانک میڈیا نے آگے نکلنے کی دوڑ میں صحافت کے اہم اصولوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جن میں تحقیق ایک اہم پہلو ہے۔ تحقیق کے بغیر صحافت روح کے بغیر جسم کی مانند ہے۔‘

سینیئر صحافی ضیا الدین نے کہا کہ ایلکڑانک میڈیا ابھی کم عمر ہے اس لیے سچی صحافت کے لیے صحافیوں کی تربیت بہت ضروری ہے۔

ان کے بقول میڈیا میں بعض غیر تربیت یافتہ لوگوں کی موجودگی سے اکثر میڈیا کی کارکردگی پر تنقید کی جاتی ہے۔

انھوں نے رپورٹ میں میڈیا کی کارکردگی سے متعلق اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا آزاد ہونے کے باوجود بھی ریاستی کنڑول کے سامنے بے بس ہے۔

اسی بارے میں