لاپتہ افراد کیس: وزیرِاعظم اور وزیر دفاع کی ملاقات

Image caption سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی منگل کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں لاپتہ افراد کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت آج دوبارہ کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے پیر کی سماعت میں حکم دیا تھا کہ 33 لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے۔

عدالتِ عظمی نے پیر کو حکم دیا تھا کہ اگر لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو وزیر دفاع اور سیکریٹری دفاع لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف اغوا کی دفعات کے تحت مقدمات درج کریں۔

’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ چیف گیا تو معاملہ ختم ہوجائے گا؟‘

’جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے‘

گذشتہ روز نے عدالت نے سکیورٹی اداروں کی تحویل کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے قتل کے مقدمات درج کرنے کا حکم بھی دیا تھا اور سیکرٹری دفاع سے کہا تھا کہ وہ ان ہلاکتوں کے ذمے داروں کا تعین کر کے اُن کے خلاف کارروائی کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دوران حراست کسی شخص کی بھی ہلاکت قتل کے زمرے میں آتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمات درج نہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت کے متوازی معاملات چل رہے ہیں اور نظام میں خلا موجود ہے۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں وزارتِ دفاع کے حکام نے بتایا تھا کہ 35 لاپتہ افراد میں سے دو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد میں سے ایک اس سال جولائی میں جب کہ دوسرا گذشتہ برس دسمبر میں ہلاک ہوا تھا۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دورانِ حراست کسی شخص کی ہلاکت قتل کے زمرے میں آتی ہے اور ذمے داران افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں حراستی مرکز کے سپرنٹینڈنٹ عطا اللہ کے مطابق اس حراستی مرکز میں 35 افراد موجود تھے جنھیں فوج کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں اس وقت 43 حراستی مراکز ہیں۔

عدالت کے حکم پر وزیر دفاع خواجہ آصف بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے بینچ سے استدعا کی کہ اس معاملے میں کچھ دنوں کی مہلت دی جائے تاہم عدالت نے اُن کی استدعا مسترد کردی۔

اسی بارے میں