’چائنا پولیس، پانچ پیسے والی پولیس‘

Image caption کمیونٹی پولیس کے ان اہلکاروں کی وردی عام پولیس اہلکاروں سے مختلف ہوتی ہے

شیر باچا پانچ سال پہلے سوات میں سپیشل پولیس فورس میں سپاہی کی حیثیت سے اس وقت بھرتی ہوئے تھے جب وادی میں ہر طرف طالبان کا راج تھا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ سکیورٹی فورسز بالخصوص پولیس اہلکار علاقے میں آزادی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے تھے اور شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی زد میں تھے۔

تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود شیر باچا جیسے سینکڑوں اہلکار بدستور محکمۂ پولیس میں عارضی بنیادوں پر ایک مقررہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں ۔

شیر باچا کا کہنا ہے کہ سپیشل فورس کے تمام اہلکاروں کو ماہانہ صرف دس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں اور کوئی مراعات حاصل نہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’میں نے ایسی حالت میں بھی نوکری نہیں چھوڑی جب سوات میں پولیس اہلکار طالبان کے خوف سے گھروں کو نہیں جا سکتے تھے اور کئی پولیس اہلکاروں کو محض دھمکیوں کی وجہ سے سرکاری نوکری کو خیر باد کہنا پڑا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ سوات میں سپیشل فورس کے اہلکاروں نے ملک و قوم کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں لیکن افسوس کہ ان کی قربانیوں کی قدر نہیں کی گئی۔

ان کے بقول: ’ہم سے کام ریگیولر پولیس کا لیا جاتا ہے اور ہم کام بھی زیادہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی نہ اچھی تنخواہ مل رہی ہے اور نہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی مراعات دی جاتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر سپیشل فورس کا کوئی اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوجائے تو مرنے کے بعد ان کے بیوی بچوں کو ایک پائی بھی نہیں ملتی جب کہ اس کے مقابلے میں ریگیولر پولیس کے اہلکاروں کو شہدا پیکیج سے نوازا جاتا ہے۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کےلیے سپیشل پولیس فورس کے ہزاروں اہلکاروں کو عارضی بنیادوں پر بھرتی کیاگیا تھا۔

سوات میں بھی تین ہزار کے قریب افراد کو خصوصی پولیس فورس کا حصہ بنایا گیا جنھیں کمیونٹی پولیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان اہلکاروں کو کوئی باقاعدہ تربیت نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے انھیں محکمۂ پولیس میں کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔

ان اہلکاروں کا بنیادی کام عام پولیس کی معاونت کرنا ہے۔ اس فورس میں بیشتر ایسے افراد بھرتی کیے گئے جو اس سے پہلے کم آمدن والے پیشوں سے منسلک تھے۔

سوات پولیس کے سربراہ شیر اکبر کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں جب شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوا تو نفری کی کمی کی وجہ سے سپیشل فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ان کے مطابق ان اہلکاروں کا سروس سٹرکچر اس طرح بنایا گیا ہے کہ انھیں مقررہ تنخواہ کے علاوہ اور کوئی مراعات نہیں دی جاتیں۔

Image caption سپیشل فورس کے تمام اہلکاروں کو ماہانہ صرف دس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے

انھوں نے اعتراف کیا کہ سوات میں کمیونٹی پولیس نے امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کئی اہم مواقعوں پر بہادری بھی دکھائی لہٰذا اب مستقل بنیادوں پر تعیناتی ان کا حق بنتا ہے۔

کمیونٹی پولیس کے ان اہلکاروں کی وردی عام پولیس اہلکاروں سے مختلف ہوتی ہے اور یہ اہلکار ملیشیا کے کپڑے پہن کر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ چونکہ انھیں کوئی باقاعدہ تربیت نہیں دی گئی اس لیے ان سے کبھی کبھار ڈیوٹی کے دوران غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ اہلکار بازاروں اور پبلک مقامات پر فرائض سرانجام دیتے ہیں تو لوگ ان کو عجیب و غریب ناموں سے پکارتے ہیں اور ان پر آوازے کستے ہیں۔

ان اہلکاروں کو ’چائنا پولیس،‘ ’کسٹم چور پولیس‘ اور ’پانچ پیسہ پولیس‘ کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

سوات کے ایک سینیئر صحافی شیرین زادہ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی پولیس میں زیادہ تر ایسے افراد بھرتی کیےگئے جنھوں نے نہ کوئی خاص تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ان کو تربیت دی گئی ہے، اسی وجہ سے لوگ انھیں زیادہ قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

انھوں نے کہا کہ سوات میں شدت پسندی کے خلاف جنگ کے دوران سب سے پہلا نشانہ پولیس اہلکار بنے لہٰذا ان کی قربانیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ لوگوں کو پولیس اہلکاروں کی قدر کرنی چاہیے، نہ کہ تضحیک۔

اسی بارے میں