کراچی میں ہلاکتوں پر احتجاج، حالات کشیدہ

Image caption یہ سب شہر میں گذشتہ چند دنوں سے جاری فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ لگتا ہے: ایس پی پیر محمد شاہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک مذہبی رہنما سمیت دس افراد کی ہلاکت کے خلاف آج مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما دیدار جلبانی کی نمازِ جنازہ ایم اے جناح روڈ پر ادا کر دی گئی ہے۔

نماز سے پہلے شہر کی مرکزی شاہراہ کو گرومندر سے لے کر سی بریز تک کنیٹینروں کی مدد سے بند کردیا گیا تھا جس کے باعث شہر میں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

نمازِ جنازہ سے قبل نامعلوم افراد نے سولجر بازار اور شاہراہ قائدین پر ہوائی فائرنگ کی۔ ایم اے جناح روڈ سے گزرنے والی کئی پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کی سروس بند ہے۔

شہر کی صورتِ حال کشیدہ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی اور بعض نجی جامعات بند رہیں۔ نجی سکولوں کی انتظامیہ نے بھی آج سکول نہ کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو کے اس بیان کے بعد کہ تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے، صورتِ حال غیر واضح ہوگئی اور نتیجے میں کئی سکول بند رہے اور جو کھلے ہوئے ہیں ان میں بھی حاضری معمول سے کم رہی۔

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ دیدار جلبانی کو منگل کی شام نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

شہر میں ٹرانسپورٹروں کی تنظیم کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا ہے کہ ہم حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ شہر میں ٹرانسپورٹ چلے گی یا نہیں۔

Image caption سخی حسن کے قریب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ایک سیاہ رنگ کی پک اپ پر فائرنگ کی

خیال رہے کہ نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے علامہ دیدار علی جلبانی ایوب گوٹھ کی مسجد حسینی کے خطیب تھے اور انھوں نے مجلسِ وحدت المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے کراچی سے سندھ اسمبلی کے حلقہ 126 سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دیدار جلبانی کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پھر وہ انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ علامہ دیدار علی جلبانی کے قتل میں وہی عناصر ملوث ہیں جنھوں نے راولپنڈی میں عاشورہ کے روز ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی منظم سازش کی تھی۔

اس سے پہلے ایس پی پیر محمد شاہ نے کہا تھا کہ شہر میں گذشتہ چند دنوں سے جاری فرقہ وارنہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ لگتا ہے۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد کی نمازِ جنازہ قبا مسجد بندہانی کالونی میں ادا کی گئی۔ وہ گذشتہ روز فیڈرل بی ایریا میں ایک کلینک پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ کراچی میں سخی حسن کے قریب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ایک سیاہ رنگ کی پک اپ پر فائرنگ کی جس میں چار افراد سوار تھے۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت مشتاق مہمند، جمشید، خان زادہ، عبدالحمید اور شیر زمان کے نام سے ہوئی۔ مشتاق مہمند عام انتخابات میں صوبائی حلقے پی ایس 96 پر آزاد امیدوار تھے انہیں تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

اسی بارے میں