’سیاچن پر بھارتی فوج کی موجودگی سے ماحولیات کو خطرہ‘

Image caption ہم پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں پانی کے مسئلے پر اختلافات کو مختلف طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: سرتاج

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے سیاچن سے اپنی فوج نکال لے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر بھارتی فوج کی موجودگی پاکستان کے ماحول کے لیے شدید خطرہ ہے۔

سیاچن کے قضیے پر عوامی بحث ناگزیز

پاکستان کو پہل کرنی چاہیے: نواز شریف

مشیر خارجہ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنھیں پانی کی قلت کا سامنا ہے اور سیاچن گلیشیئر پاکستان کے آبی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جبکہ بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پر سیاچن گلیشیئر کی برف تباہ کر رہی ہے۔

انھوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے سیاچن گلیشیئر سے اپنی فوج نکال لے کیونکہ وہاں تعینات ہزاروں بھارتی فوجی روزمرہ اشیا کی چیزیں استعمال کرکے فاضل مواد وہاں پھینک دیتے ہیں جو گلیشیئر کے لیے خطرہ ہے۔

ماہرین کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں گلیشیئر پر انسانی موجودگی سے ہمالیہ اور قراقرام کے علاقے میں موجود گلیشیئروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق دونوں ممالک آپس میں پانی کے مسئلے کو جامع مذاکرات اور انڈس واٹر کمیشن سمیت مختلف طریقوں سے حل کرنے کرنے میں مصروف ہیں۔

مشیر خارجہ نے پاکستان میں پانی کی قلت کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ملک میں پانی کے مناسب استعمال، اس کے تحفظ اور پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن وِژن 2025 میں پانی کے ذخائر پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا اور اس حوالے سے جامع ترقیاتی حکمت علمی تیار کرے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال سیاچن کے علاقے گیاری میں برفانی تودے تلے دب کر پاکستانی فوج کے 139 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سیاچن کا تنازع ایک بار پھر خبروں میں آیا تھا۔

Image caption سیاچن کے تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن اتفاق رائے نہیں ہو سکا

اس وقت پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ نے گیاری کے دورے کے دوران کہا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کو اس کے طریقۂ کار پر بات کرنی چاہیے، تاہم اس وقت پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ سیاچن مسئلے کے حل میں دونوں ممالک کی افواج رکاوٹ ہیں۔

اس وقت حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم نواز شریف نے گیاری کے دورے کے دوران کہا تھا کہ سیاچن کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو پہل کر دینی چاہیے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ ہے۔ پچھلے تین عشروں سے دونوں ملکوں کے فوجوں کے درمیان کشیدگی کی سبب وہاں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

تاہم ان پہاڑوں پر باہمی تصادم کے سبب دونوں جانب کے فوجی کم مارے گئے ہیں جب کہ سخت سردی اور خراب موسم کے باعث زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچن کے مسئلے پر متعدد بار بات چیت کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کسی حل پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں