لاہور: اہل سنت والجماعت کے صوبائی رہنما فائرنگ سے ہلاک

Image caption حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا شمس الرحمان معاویہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

مولانا شمس الرحمان معاویہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے اسلام آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ مے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ مولانا شمس الرحمان نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد واپس جا رہے تھے کہ رنگ روڑ پر بتی چوک کے قریب ان کی گاڑی پر مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پولیس افسر رانا عبدل جبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مولانا شمس الرحمان کی گاڑی پر موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مولانا شمس الرحمان اور ان کے ڈرائیور زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں شمس الرحمان کی موت واقع ہو گئی۔

پولیس افسر رانا عبدل جبار کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقع لگتا ہے۔

اہل سنت والجماعت کے جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مولانا شمس الرحمان تنظیم کے صوبائی صدر تھے۔

حالیہ ہفتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے دو محتلف واقعات میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما دیدار جلبانی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر فرقہ وارانہ جھڑپوں میں دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں سال اگست میں ہی پنجاب کے ضلع بھکر میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں 11 افراد ہو گئے تھے جس کے بعد ضلعے میں کشیدگی کے باعث دفعہ 144 نافذ کر کے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

تنظیم اہل سنت والجماعت

تنظیم اہل سنت والجماعت 12 جنوری 2002 کو جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دیگر پانچ جماعتوں کے ساتھ سپاہِ صحابہ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی تھی۔

سپاہِ صحابہ کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی اور یہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے پہلے عام انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہے۔

سپاہ صحابہ کے ہی کچھ کارکنوں نے بعد میں لشکر جھنگوی کے نام سے تنظیم تشکیل دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم فرقہ وارانہ شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہے اور اس کے طالبان سے بھی تعلقات ہیں۔ اہل سنت والجماعت اس تنظیم سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔

اسی بارے میں