اغوا کی وارداتوں کے خلاف ڈاکٹروں کی ہڑتال

Image caption دو سالوں میں ایک درجن سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے: ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے صدر ڈاکٹر موسی کلیم

خیبر پختونخوا میں اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پشاور کے بعد اب صوبے کے دیگر شہروں میں بھی ڈاکٹروں کی ہڑتال شروع کر دی گئی ہے۔

یہ ہڑتال ڈاکٹروں کی تنظیم ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کی کال پر کی گئی ہے۔

اس وقت پشاور کے دو ڈاکٹر اغوا ہیں جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق کچھ ڈاکٹروں کو دھمکی آمیز خطوط بھی ملے ہیں جس کے بعد اب سینیئر ڈاکٹرز دیگر شہروں کو منتقل ہو رہے ہیں۔

سینیئر ڈاکٹر امجد تقویم کو منگل کے روز حیات آباد کے علاقے سے اس وقت نامعلوم افراد اغوا کر کے ساتھ لے گئے جب وہ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد باہر آ رہے تھے۔ ڈاکٹر امجد تقویم لیڈی ریڈینگ ہسپتال میں ایک وارڈ کے انچارج تھے۔

ستمبر کے مہینے میں ڈاکٹر مجاہد حسین بنگش اور اکتوبر کے مہینے میں ڈاکٹر کامران عامر خان کو بھی حیات آباد سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کامران چند روز پہلے بازیاب ہو کر واپس گھر پہنچ چکے ہیں۔

ڈاکٹر مجاہد حسین کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے ہے اور وہ سینیئر ڈاکٹر ریاض حسین کے بھائی ہیں جنھیں پشاور میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ڈاکٹر ریاض پیپلز پارٹی کے لیڈر تھے ۔

ڈاکٹر امجد تقویم کے اغوا کے بعد ڈاکٹروں نے پہلے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور پھر شہر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ہڑتال شروع کر دی تھی۔ اب ہڑتال کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے صوبے کے دیگر شہروں کے ڈاکٹر بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں۔

ہڑتال کے دوران او پی ڈی اور دیگر سروسز بند کر دی گئی ہیں اور صرف ایمرجنسی کے شعبے میں مریضوں کو طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

صوبے میں ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے صدر ڈاکٹر موسیٰ کلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ دو سالوں میں ایک درجن سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے جن میں سے اکثر تاوان ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ڈاکٹر ایسے ہیں جنھیں دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں اور وہ ظاہر نہیں کر رہے۔

ڈاکٹر موسی کلیم کے مطابق اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں سینیئر ڈاکٹرز اسلام آباد منتقل ہو رہے ہیں اور ابتدائی طور پر کچھ ڈاکٹروں نے اپنی پریکٹس جزوی طور پر اسلام آباد میں شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق اگر پشاور میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ مستقل طور پر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں رہائش اختیار کر لیں گے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے حکومت نے انھیں سیکیورٹی گارڈز کے لیے اسلحے کے لائسنس جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ اسلحے کے لائسنس جانچ پڑتال کے بعد جاری کیے جائیں گے ۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اہم اقدامات نظر نہیں آ رہے جس وجہ سے ڈاکٹروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں