نیٹو سپلائی کی بندش سے ٹرک ڈرائیور پریشان

Image caption پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے کے باعث نیٹو رسد کی ترسیل معطل ہے

کراچی کی بندرگاہ کے قریب ماڑیپور روڈ پر واقع ایک گلی کے اندر موجود کچھ ہوٹلوں پر بکرے کا گوشت فرائی ہو رہا ہے، تو کچھ پر قہوے اور چائے تیار ہو رہی ہے جبکہ باہر موجود تختوں پر ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

عام دنوں میں یہ ٹرک ڈرائیور شاید ہی اتنی تعداد میں ان ہوٹلوں پر نظر آتے ہوں، لیکن افغانستان رسد کی معطلی نے انہیں فی الحال بیروزگار کر دیا ہے، ان میں اکثریت نیٹو کنٹینرز اور ٹینکرز کے ڈرائیوروں کی ہے۔

حملوں کا خوف، نیٹو سپلائی کے ڈرائیور پریشان

پاکستان تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف گزشتہ سولہ روز سے عوامی طاقت کے ذریعے اتحادی افواج کے لیے افغانستان جانے والی رسد روک رکھی ہے، کچھ ناخوشگوار واقعات کے بعد ٹرانسپورٹروں نے افغانستان کو عام سامان کی فراہمی بھی معطل کردی ہے۔

کراچی کی بندرگاہوں سے تیل اور دیگر ساز و سامان لے جانے والے ڈرائیور بدترین حالات میں زندگی گذارتے ہیں۔ایک چھوٹے سے کمرے میں دس لوگوں کی رہائش ہوتی ہے اور کئی کئی ماہ تک یہ اپنے گھر نہیں جاسکتے۔

بچوں کی کفالت کے لیے مشکلات جھیلنے والے ان ڈرائیوروں میں تعلیم خان بھی شامل ہیں جن کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے۔

تعلیم خان کے مطابق اگر سپلائی چل رہی ہو تب بھی وہ پریشان ہوتے ہیں اور اگر رک جائے تب بھی کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے عمران خان یا طالبان، وہ اس کام سے خفا رہتے ہیں، لیکن یہ گاڑیاں تو انہیں مجبوراً چلانی پڑتی ہیں۔ موجودہ صورتحال کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں۔

نیٹو ٹرک کی ترسیل کے بدلے تعلیم خان اور دیگر ڈرائیوروں کو پچیس سے تیس ہزار رپے ماہانہ مل جاتے ہیں، ہر ٹرک اور ٹینکر کے ساتھ زیادہ تر دو ڈرائیور اور کلینر موجود رہتا ہے۔

ان افراد کی بدولت شیریں جناح کالونی اور ماڑی پور پر کئی گیراج، ٹائر کے دکانداروں اور ہوٹل والوں کا بھی کاروبار چلتا ہے، جو حالیہ بندش سے کسی نہ کسی صورت میں متاثر ہو رہا ہے۔

ٹرک ڈرائیوروں کا کام ان دنوں اچھا چل رہا تھا کیونکہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے باعث فوجی سامان کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری تھا جو بھی اب رک گیا ہے۔

کراچی بندرگاہ سے افغانستان تک کی زمینی راستے کو عسکری اہمیت حاصل ہے، شاید اسی لیے 2002 سے امریکہ پاکستان کو سولہ بلین ڈالر فوجی معاونت، اور اتحادی فنڈ کی مد میں ادا کرچکا ہے۔

نیٹو کی ترسیل منافع بخش کاروبار ہونے کے ساتھ پرخطر بھی ہے، ان ڈرائیور اور گاڑیوں کی کوئی انشورنس نہیں ہوتی کمپنیاں صرف اپنے سامان کی انشورنس کراتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹرانسپورٹرز رسک لیتے ہیں۔

آل پاکستان کمبائینڈ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما نسیم شینواری کہتے ہیں یہ کاروبار بہت حظرناک ہے، جس میں ان کے کئی ڈرائیوروں کو حملہ کرکے ہلاک کیا گیا ہے، وہ تحریک انصاف کے دھرنے پر تنقید کرتے ہیں۔

’دھرنا ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اچانک یہ طریقہ اپنایا، ہماری گاڑیاں وہاں پہنچ چکی تھیں جن کو روکا گیا اور ڈرائیوروں پر تشدد کیا گیا، مظاہرین نے گاڑیوں کی سیلیں توڑ دیں، کیا انہیں معلوم ہے کہ ایک ایک سیل پر تین چار لاکھ خرچہ آتا ہے اب یہ سب کچھ ہمیں ادا کرنا ہوں گے۔‘

کراچی بندرگاہ نے افغان جنگ اور بعد میں امن کی بحالی کی کوششوں کے دوران لاکھوں لوگوں کوٹرانسپورٹ کے روزگار سے منسلک کر دیا۔

نیٹو افواج کے زیر استعمال سامان کے علاوہ، اقوام متحدہ کے اداروں اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان بھی ان ہی بندرگاہوں پر اترتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ کنٹینر اب شہر کے گوداموں میں موجودہ ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے روزگار سے زیادہ ملکی وقار عظیم ہونا چاہیے۔ پاکستان میں جب نیٹو کا کاروبار نہیں تھا اس وقت بھی ٹرانسپورٹروں کا گھر اچھا چل رہا تھا اور نیٹو کے بعد بھی چلتا رہے گا، یہ ایک قلیل مدتی فائدہ ہے۔

’اگر کسی ٹرک کا معاوضہ دس ہزار روپے ہے تو نیٹو سے ان کو پچیس ہزار مل جاتے ہیں اور وہ اس سے بہت خوش ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسے پیسے کی ضرورت نہیں ہے جس سے ہماری غیرت کو چیلنج کیا جائے۔‘

کراچی کی دونوں بندرگاہوں سے افغانستان میں نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل کی جاتی ہے، ہزاروں کی تعداد میں یہ کنیٹر اب شہر کے گوداموں میں موجودہ ہیں، گزشتہ سال سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد بھی سات ماہ تک یہ سامان گوداموں میں پڑا رہا تھا۔

نیٹو کنٹینرز اور ٹینکرز کے ڈرائیوروں کی اکثریت اسی صوبے سے تعلق رکھتی ہے جہاں ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، یہ ڈرائیور شاید شدت پسندی کا سامنا تو کرسکتے ہیں لیکن اپنے بچوں کی بھوک کا نہیں۔

اسی بارے میں