’پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام تیز کرنے کا فیصلہ‘

Image caption دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پائپ لائن منصوبے پر کام کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کے ماہرین جلد ہی ملاقات کریں گے

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ پڑوسی ملک ایران سے گیس کی درآمد کے لیے پائپ لائن بچھانے کے متنازع منصوبے پر تیزی سے کام کرے گا۔

اس پائپ لائن کے ذریعے ایران کے گیس کے ذخائر کو پاکستان سے جہاں توانائی کی کمی ہے وہاں منسلک کیا جائے گا۔

لیکن اس منصوبے پر کام کرنے کی وجہ سے پاکستان پر ایران کی جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر یا اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں پر عائد پابندیاں عائد ہو سکتیں ہیں۔

جغرافیے اور تاریخ کے درمیان پھنسا معاشی مستقبل

ایران پاکستان گیس پائپ لائن یا پائپ ڈریم

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کرتا ہے اور وہ اس کے متبادل ترکمانستان سے افغانستان، پاکستان اور بھارت کو گیس کے فراہمی کے منصوبے کا حامی ہے۔ امریکہ کے مطابق منصوبہ حقیقتاً آگے بڑھا تو پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

منگل کو پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کے پیٹرولیم کے وزرا نے پیر کو تہران میں ایک ملاقات میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔ یہ منصوبہ عرصے سے تاخیر کا شکار ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اس منصوبے پر تیزی سے کام کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے متعلق مشکلات کو حل کرنے کے لیے طریقۂ کار وضع کیا۔ تاہم بیان میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں درپیش، رقم کی فراہمی اور پابندیاں عائد ہونے کے خدشات جیسے مسائل کو حل کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پائپ لائن منصوبے پر کام کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کے ماہرین جلد ہی ملاقات کریں گے۔

تہران میں ملاقات کے دوران پاکستانی حکام نے اپنی حکومت کی طرف سے اس منصوبے کے معاہدے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے عزم کو دہرایا۔انھوں نے پاکستان کے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان کو امید ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان کو اس پائپ لائن کے اپنے ملک میں حصے کو دسمبر سنہ 2014 تک تعمیر کرنا ہے لیکن اس میں کئی بار تاخیر ہوئی ہے۔

اگر پاکستان دی گئی مہلت میں اپنے حصے کی پائپ لائن بنانے میں ناکام ہوتا ہے تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گیا جو لاکھوں ڈالر روزانہ کے حساب سے ہو سکتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس پائپ لائن کا ایران کی طرف کا حصہ بہت حد تک تعمیر ہو چکا ہے لیکن پاکستان کو اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے تقریباً 780 کلومیٹر تک اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کرنا ہے۔

اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے کہ پاکستان اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کی رقم کا کیسے انتظام کرے گا۔

اسلام آباد میں قائم تحقیقی ادارے ایس ڈی پی آئی نے اکتوبر میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے’موت کی سزا‘ ہوگی کیونکہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت گھریلو صارفین کو موجودہ فروخت ہونے والی گیس سے کئی گنا زیادہ مہنگی ہوگی۔

اسی بارے میں