نومولود بچوں کی اموات: پاکستانی ڈاکٹر کے لیے دس لاکھ ڈالرفنڈنگ

Image caption ڈاکٹر انیتا اس انعام کی رقم کراچی کے بن قاسم ٹاؤن میں واقع ریڑھی گوٹھ میں زچہ اور بچہ کی نگہداشت کے منصوبوں پر خرچ کریں گی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پاکستانی ڈاکٹر انیتا زیدی نومولود بچوں کی ہلاکتوں میں کمی کے منصوبے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

ایک امریکی کاروباری شخصیت کی جانب سے دیا جانے والا ’کیپلو چلڈرن پرائز‘ انہیں جنوبی پاکستان میں ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی میں بچوں کی اموات میں کمی لانے پر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر انیتا زیدی آغا خان یونیورسٹی کراچی میں امراضِ اطفال کے شعبے کی سربراہ ہیں۔

ڈاکٹر انتیا زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے منصوبے کے تین بنیادی طریقے ہیں ایک تو یہ کہ زچگی کے عمل کے دوران ماؤں کی بہتر نگہداشت ہو۔ دوسرا یہ کہ جو حاملہ خواتین غذا کی کمی کا شکار ہوتی ہیں ان کواچھی خوراک فراہم کریں گے۔ تیسرا بنیادی صحت اور حفاظتی ٹیکوں اور ملٹی وٹامن کی تمام بچوں کو فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔‘

ڈاکٹر انیتا نے کہا کہ جب اس منصوبے کے پیسے ختم ہو جائیں تب بھی ان سہولیات کی فراہمی میں تسلسل کے لیے ہم اس علاقے سے پانچ خواتین کو آغا خان یونیورسٹی میں مڈ وائفری کی تربیت دیں گے۔ اس تربیت کے بعد ان کی علاقے میں امداد کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

ڈاکٹر انتیا نے کہا کہ علاقے کی حاملہ خواتین کو دورانِ حمل اور زچگی کے عمل کے دوران مکمل مدد اور سہولت فراہم کی جائے گی۔

Image caption ڈاکٹر انیتا زیدی آغا خان جو یونیورسٹی کراچی میں امراضِ بچگانہ کے شعبے کی سربراہ ہیں

ڈاکٹر انتیا کو ملنے والے اس انعام کے لیے دنیا کے ستر ممالک سے پانچ سو پچاس درخواست کنندگان میں سے ان کا انتخاب کیا گیا تھا۔

اس انعام کا قیام امریکی کاروباری شخصیت ٹیڈ کیپلو نے کیا تھا جو اس کے لیے سرمایہ بھی فراہم کرتے ہیں اور اس انعام کا مقصد بچوں کی زندگیاں بچانے کے موثر اور کم خرچ طریقے دریافت کرنا ہے۔

ڈاکٹر زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ریڑھی گوٹھ کا علاقہ جو بن قاسم ٹاؤن کے علاقے میں ہے اور بہت پسماندہ ہے اور بنیادی صحت کی سہولیات سے دوری کی وجہ سے زچگی کے بعد بچوں کی ہلاکت کی شرح گیارہ فیصد تک ہے۔

گیارہ فیصد کا مطلب ہے کہ ہر ہزار میں سے ایک سو چھ بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔

ٹیڈ کیپلو نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر زیدی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ بالکل ویسا ہی کریں گی جیسا انہوں نے کہا ہے کہ اور اس کا ویسا ہی اثر ہو گا جیسا انہوں نے بیان کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ نے اس انعام کے آغاز کا فیصلہ اس وقت کیا جب ان کے گھر تین بچے ایک ساتھ پیدا ہوئے جنہوں نے ایک مہینہ انتہائی نگہداشت میں گزارا۔

کیپلو کے مطابق یہ انعام اگلے سال بھی جاری رکھا جائے گا اور اس کا مقصد طب کے شعبے میں موجود ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنا ہے۔